وزارت آبی وسائل میں ایک کھرب 142 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

105

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے اپنی آڈٹ رپورٹ برائے مالی سال 2019-20ء میں وزارت آبی وسائل میں ایک کھرب 142 ارب روپے کی مالیاتی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی بے ضابطگیاں وزارت آبی وسائل کے دئیے گئے ٹھیکوں، ضروری سازوسامان کی خریداری اور اکائونٹس میں سامنے آئی ہیں۔

پروکیورمنٹ اور کنٹریکٹ منجمنٹ سے متعلقہ 79 کیسز کا جائزہ لیا گیا جن میں 768675  ملین روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، اسی طرح اثاثہ جات مینجمنٹ کے 16 کیسز میں 65081 ملین روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

اس کے علاوہ وزارت کے مختلف کمرشل بینکوں میں اکائونٹس کے حوالے سے تین کیسز کا جائزہ لیا گیا جن میں 171.21  ملین روپے کی بے ضابطگیاں پائی گئیں جبکہ ملازمین سے متعلقہ چار کیسز کا جائزہ لینے پر 11056.53 ملین روپے، سروس ڈلیوری اور دیگر کیسز کا جائزہ لینے پر 187937.59  ملین روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

اے جی پی نے وزارت آبی وسائل کو کہا ہے کہ ٹھیکوں اور لین دین کے معاملات میں پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 اور واپڈا پروکیورمنٹ اینڈ کنٹریکٹ مینول 2014 پر عمل در آمد ممکن بنایا جائے۔

وزارت کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ کسی منصوبے پر کام شروع  کرنے یا ٹھیکہ دینے سے قبل اُس کی حقیقت پر مبنی فزیبیلٹی سٹڈی اور مکمل ڈیزائن تیار کر لیا جائے تاکہ قومی پیسے کے ضیاع سے بچا جا سکے۔ اسی طرح بینکوں کے ساتھ لین دین کرتے وقت فراڈ اور مالیاتی نقصان سے بچنے کیلئے تصدیقی عمل کو مزید بہتر بنایا جائے۔

آڈٹ رپورٹ میں وزارت آبی وسائل کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ مختلف منصوبوں کیلئے زمین کے حصول کے حوالے سے پائے جانے والے مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے اور صرف دفتروں میں بیٹھ کو آن لائن رقوم کی منتقلی اور آئی ٹی پر مبنی حل پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔

آڈیٹر جنرل پاکستان نے وزارت کو ہدایت کی ہے کہ انتظامی اور عملی اختیارات کو مضبوط بنائے تاکہ سروس ڈلیوری بہتر ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here