حکومت نے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے پُرزوں کی درآ مد پر کسٹم ڈیوٹی کم کردی

ٹیکس چھوٹ کی مدت پانچ سال ہے جو کہ ایک ہی ماڈل کی دس گاڑیاں درآمد کرنے پر دی جائے گی، الیکٹرک آٹو رکشا، لوڈر رکشہ اور موٹرسائیکل کی درآمد پر موجودہ ٹیرف کے پچاس فیصد جبکہ ٹرک اور بسوں کی درآمد پر ایک فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہوگی

123

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے کسٹم ٹیرف میں تبدیلی  کرتے ہوئے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے درآمدکنندگان کے لیے متعدد رعائیتوں کا اعلان کردیا۔

ایف بی آر حکام کے مطابق کسٹم ٹیرف میں ایک بڑی تبدیلی اس میں الیکٹرک ویکل پالیسی کا شامل کیا جانا ہے جس کے تحت بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے گیارہ مختلف ٹیرف لائنز تشکیل دے دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

مستقبل قریب میں پاکستانیوں کا بجلی سے چلنے والی کاریں چلانے کا امکان کیوں نہیں؟

موٹر سائیکلوں، رکشوں اور بھاری کمرشل گاڑیوں سے متعلق الیکٹرک وہیکل پالیسی منظور

اس پالیسی کے تحت حکومت نے برقی گاڑیوں کے لئے سی کے ڈی کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 1 فیصد کردی ہے۔ تاہم غیرمقامی حصوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح 15  فیصد جبکہ مقامی حصوں پر ڈیوٹی کی شرح 15 فیصد کے علاوہ اضافی کسٹم ڈیوٹی بھی عائد کی گئی ہے۔

نئی ٹیکس چھوٹ جو کہ پہلے فنانس بل 2020 کا حصہ نہیں تھیں کے تحت انجینئرنگ اور شپنگ کے کاروبار، رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹوں اور چند تعلیمی اداروں کو انکم ٹیکس میں رعایت دینے کے علاوہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور حج آپریٹروں کے لیے محصول میں کمی کی گئی ہے۔

یہ ٹیکس چھوٹ پانچ سال کے لیے دی گئی ہے اور اسکا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا اور یہ ایک ہی ماڈل کی دس الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جائے گی۔

الیکٹرک آٹو رکشا، لوڈر رکشہ اور موٹرسائیکل کی درآمد پر موجودہ ٹیرف کے پچاس فیصد جبکہ بسوں اورٹرکوں کی درآمد ایک فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہوگی۔

اس کے علاوہ حکومت نے  کچھ کیٹگری  کے موبائل فونز کی سی کے ڈی کٹس کی صورت میں درآمد پر سیلز ٹیکس میں کمی جبکہ مقامی طور پر تیار ہونے والے موبائل فونز کی س بی یو کنڈیشن میں سپلائی پر دس روپے فی سیٹ فکسڈ سیلز ٹیکس عائد کردیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here