کورونا لاک ڈاؤن : گُل احمد کا ریٹیل کاروبار شدید متاثر، 8 ارب روپے کا نقصان

کورونا وبا کے باعث مسلسل آٹھ ہفتوں تک ریٹیل سٹور بند رہنے کی وجہ سے کمپنی شدید نقصان سے دوچار تاہم وبا کے دنوں میں اسکی آن لائن سیلز گزشتہ سال کی نسبت پچاس فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔

150

لاہور : کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے باعث ریٹیل سٹور آٹھ ہفتوں تک  بند رہنے کی وجہ سے گل احمد ٹیکسٹائل ملز کو آٹھ ارب روپے کا نقصان ہوا۔

اس بات کا انکشاف کمپنی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اگرچہ مکمل لاک ڈاؤن ہٹا لیا گیا ہے مگر کاروباری اوقات کار محدود ہونے کی وجہ سے ریٹیل سیکٹر ابھی تک پوری طرح سنبھل نہیں سکا ہے۔

تاہم جون کے ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات ایک ارب ڈالر سے بڑھ جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس: حبیب بنک ملازمین اور انکے اہلخانہ کے علاج معالجے کے اخراجات اُٹھائے گا

ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیکویڈیٹی بحران پر قابو پانے کیلئے 6.2 ارب روپے کی اضافی گرانٹ جاری

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ریسرچ اینالسٹ حماد اکرم کا پرافٹ اردو سے گفتگو میں کہنا تھا کہ گل احمد کے پاس نومبرتک کافی برآمدی آرڈرز ہیں اور اس نے صحت سے متعلقہ اشیا جیسا کہ حفاظتی گاؤن، سکرب اور ماسک وغیرہ بھی برآمد کرنا شروع کردیے ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ مستقبل میں ہوم ٹیکسٹائل کا شعبہ ترقی کرے گا اور چونکہ لوگ ان دنوں گھروں میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں لہذا اس کی مانگ بڑھ گئی ہے۔

تاہم اپیریل کا شعبہ موجودہ حالات میں متاثر ہوگا کیونکہ یہ ایک لگثری ہے اور کورونا وبا کے باعث لوگوں کی آمدنی اور قوت خرید کم ہوگئی ہے۔

انکا کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر گل احمد کی آن لائن سیلز میں اضافے کا امکان ہے اور یہ گزشتہ برس کی نسبت پچاس فیصد بڑھ کر ایک ارب روپے ہوسکتی ہے۔

ٹڈی دل کے حملے کے باعث کپاس کی فصل کے متاثر ہونے کے خدشے کے حوالے سے گل احمد کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اسکے پاس وافر مقدار میں کاٹن موجود ہے تاہم ملکی پیداوار متاثر ہونے کی وجہ سے کپاس کی درآمد کے باعث قیمتوں پر اثر پڑے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here