ایس سی سی آئی کا حکومت سے افغانستان سے درآمدات بحال کرنے کا مطالبہ

122

پشاور: سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) نے وفاقی حکومت سے افغانستان کی پاکستان میں برآمدات کو بحال کرنے کی درخواست کی ہے، سینٹرل ایشین ری پبلکس (سی اے آر) کے تحت برآمدات میں مزید تاخیر کی وجہ سے پاکستان کی افغانستان میں برآمدات کے رکنے کا بھی امکان ہوسکتا ہے۔

 صدر ایس سی سی آئی نے وفاقی وزیرداخلہ اعجاز شاہ کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ “افغانستان میں پاکستانی آم کی بڑے پیمانے پر مانگ ہے، اگر افغانستان نے بھی جواباََ تدابیر اختیار کر لیں تو سی اے آر بری طرح متاثر ہوگا”۔ “ہمارے ملک کےمنفردزرِمبادلہ کمانے کے لیے آم کی برآمدات اہم ہیں”۔

کورونا وائرس لاک ڈاؤن سے حکومت کی جانب سے 19 مارچ 2020 کو افغانستان کے ساتھ باہمی اور ٹرانزٹ ٹریڈ کو روک دیا گیا تھا۔ بعد ازاں،کراچی سے پہلے مرحلے میں افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ کو اجازت دی گئی تھی جبکہ دوسرے مرحلے میں چمن بارڈر سے تجارت کو بحال کیا گیا تھا۔ بعد میں غلام خان اور طورخم بارڈرز سخت ایس او پیز پر عملدرآمد کے ذریعے کھولے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے:

تجارتی مقاصد کےلئے تفتان بارڈرکھولنے کا نوٹیفکیشن جاری

ڈائریکٹر جنرل افغان ٹرانزٹ محمد زاہد کھوکھر کورونا کے باعث انتقال کر گئے

کورونا لاک ڈاؤن : گُل احمد کا ریٹیل کاروبار شدید متاثر، 8 ارب روپے کا نقصان

تاہم، افغانستان کی برآمدات کو افغانستان سے ٹرانزٹ ٹریڈ کی اجازت نہیں دی گئی تھی جس سے افغانستان کی برآمدات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ایس سی سی آئی کے صدر نے آگاہ کیا کہ واگہ بارڈر کے ذریعے 70 فیصد کے قریب افغانستان کی برآمدات بھارت کی طرف کی جارہی  ہیں جبکہ 30 فیصد اسکی تجارت دنیا بھر میں کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہزاوں افراد ٹرانزٹ ٹریڈ سے منسلک ہیں جو روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔

صدر ایس سی سی آئی نے کہا کہ “ہم متعلقہ حکام سے ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے افغانستان کی برآمدات کو اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ اس سے پاک، افغان باہمی اور ٹرانزٹ ٹریڈ کو فروغ ملے گا جس سے متعلقہ شعبے سے منسلک ہزاروں افراد کا روزگار یقینی بنایا جائے گا”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here