پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملہ ناکام، چاروں حملہ آور ہلاک

حملہ صبح 10 بجے ہوا، دو شہری، ایک پولیس سب انسپکٹر، سٹاک ایکسچینج کے چار سیکیورٹی گارڈ شہید، سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن مکمل

357

کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا، جوابی کارروائی میں چاروں دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

سندھ پولیس کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں دو شہری، ایک پولیس سب انسپکٹر اور سٹاک ایکسچینج کے چار سیکیورٹی گارڈ شہید ہوگئے، اس کے علاوہ پولیس اہلکار سمیت سات افراد زخمی بھی ہوئے۔

پولیس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے کے قریب چار دہشتگردوں نے پہلے سٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا، پھر اندھا دھند فائرنگ کردی، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور آپریشن شروع کر دیا۔

فائرنگ کے تبادلے میں داخلی دروازے پر ڈیوٹی پر موجود کراچی پولیس کے سب انسپکٹر شاہد دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید اور 3 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

میٹھادار پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پولیس سب انسپیکٹر محمد شاہد، پولیس کانسٹیبل سعید خان، سیکیورٹی گارڈ افتخار اور سیکیورٹی گارڈ انیق شامل ہیں، جبکہ پولیس کانسٹیبل خدا یار، عاشق، وقاص، شہزاد احمد، امتیاز علی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

نجی ٹی وی پر چلنے والی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دہشت گرد نیلے رنگ کی کرولا کار میں آئے، چار دہشت گردوں نے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے فائرنگ کی تاہم سیکورٹی گارڈز نے جوابی کارروائی میں ایک دہشت گرد کو گیٹ پر ہی گولی مار دی جبکہ باقی تین کو اندر داخل ہونے کے بعد ڈھیر کر دیا گیا۔

دہشت گردوں سے برآمد اسلحہ میں رائفلز، کلاشن کوف، اور ہینڈ گرینڈز موجود تھے، حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے قریبی علاقوں کا بھی مکمل محاصرہ کرلیا جب کہ حملے کے بعد آئی آئی چندریگر روڈ کو میری ویدرٹاور اور شاہین کمپلیکس سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے حملے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ چار دہشتگردوں نے سٹاک ایکسچینج پر حملے کی کوشش کی لیکن فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں چاروں دہشتگرد مارے گئے ہیں۔

غلام نبی میمن نے بتایا کہ دہشتگرد پارکنگ ایریا سے سلور رنگ کی کار میں آئے تھے ان کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود بھی تھا جو فورسز نے قبضے میں لے لیا ہے۔

سندھ کے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن کے مطابق حملہ آور ایک سِلور رنگ کی کرولا گاڑی میں آئے اور انھیں پولیس کی جانب سے گیٹ پر روکا گیا جہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو حملہ آور دو گیٹ کے باہر مارے گئے جبکہ دو اندر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تاہم انھیں بھی مار دیا گیا ہے۔

غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ حملہ آور مرکزی عمارت میں داخل نہیں ہوسکے اور ان سے دستی بم، دھماکہ خیز مواد اور دیگر اسلحہ برآمد ہوئے۔ ان کے مطابق حملہ آوروں سے دستی بم اور دیگر اسلحہ برآمد ہوئے۔

تاہم سٹاک ایکسچینج کے ایم ڈی فرخ خان کے مطابق حملہ آور عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے اور سٹاک ایکسچینج کے احاطے میں ہی داخل ہو پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریڈنگ فلور پر کاروباری سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئی۔

ڈائریکٹر پاکستان اسٹاک ایکسچینج عابد علی حبیب نے نجی ٹی وی گفتگو میں کہا کہ دہشتگرد پارکنگ ایریا میں آئے اور اندھا دھند فائرنگ کر دی، سکیورتی گارڈز نے ڈٹ کر مزاحمت کی۔ دہشتگردوں نے سٹاک ایکسچینج کے گراؤنڈ اور ٹریڈنگ ہال میں بھی فائرنگ کی جس سے بھگدڑ مچ گئی اور لوگ آس پاس کی عمارتوں میں گھس گئے۔

پی ایس ایکس کے ڈائریکٹر نے کہا کہ تقریباً 200 میں سے 150 ممبران کے پرائمری دفاتر سٹاک ایکسچینج میں موجود ہیں، ہم نے واقعے کے بعد خود کو دفاتر میں بند کرلیا۔

ایم ڈی پی ایس ایکس فرخ خان کے مطابق حملے کے وقت سیکیورٹی گارڈز نے بہت اچھا رد عمل دیا جبکہ پولیس اور رینجرز نے فوری کارروائی کرکے صورتحال کو قابو کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کی وجہ سے لوگوں کی تعداد کم تھی ورنہ عام حالات میں 5 سے 6 ہزار افراد موجود ہوتے ہیں۔

فرخ خان کا کہنا تھا کہ صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے اور حملے کی وجہ سے ٹریڈنگ ایک منٹ کے لیے بھی نہیں رکی جو مسلسل جاری ہے۔

ادھر وزیر اعظم عمران خان، صدر ممکت عارف علوی سمیت دیگر رہنمائوں نے سٹاک ایکسچینج پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کی ہے۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here