کے الیکٹرک سے لوڈشیڈنگ ختم، ترسیلی نظام کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کا مطالبہ

236

کراچی: کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے کے الیکٹرک کی بدترین کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ کمپنی سے حالیہ لوڈشیڈنگ جلد روکنے اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور ترسیلی نیٹ ورک کےانفراسٹرکچر کو بہتر کرنے پر توجہ دینے کی درخواست کی ہے۔

صدر کے سی سی آئی آغا شہاب احمد خان نے کہا کہ کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی شہر میں سات انڈسٹریل زونز کے علاوہ ہرکئی لوڈشیڈنگ کا باعث بن رہی ہے۔

آغا شہاب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کراچی میں کورونا وائرس پھیلنے اور دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے سبب صنعتوں کو بری طرح نقصان ہوا، کے الیکٹرک کی جانب سے طویل لوڈ شیڈنگ نے صنعتکاروں کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ “ایسے غیرمعمولی حالات میں طویل لوڈشیڈنگ کرنے کا کیا مقصد ہے؟ کے الیکٹرک کی جانب سے غیراعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ شہر کے کاروباری افراد کے لیے تابوت میں آخری کیل کی طرح ثابت ہوگی”۔

یہ بھی پڑھیے:کے الیکٹرک کو اضافی پاور سپلائی کی منظوری

انہوں نے کہا کہ کراچی کے مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے کے سی سی آئی سے کے الیکٹرک کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کا کہا ہے تاکہ بغیر کسی رکاوٹ کے پاور سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

صدر کے سی سی آئی نے مزید کہا کہ “کے الیکٹرک کراچی کی کاروباری برادری کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے، مذکورہ شہر پاکستان کے کُل ریونیو میں 70 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے”۔

شہاب احمد نے کہا کہ کے الیکٹرک ہر سال اربوں روپے کے بھاری منافع جات کماتی آئی ہے لیکن بدقسمتی سے کمپنی نے خستہ حال تقسیم کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے مناسب طریقے سے سرمایہ کاری نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا “جیسا کہ مون سون کا آغاز ہو رہا ہے اور میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شہر میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، کے الیکٹرک کو سمجھداری اور ذمہ داری کے ساتھ کام اور غلطیوں کو دہرانے سے گریز کرنا چاہیے ، مون سون کے موسم کے دوران حفاظتی اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے بغیرکسی رکاوٹ کے بجلی فراہم کرنی چاہیے”۔

آغا شہاب احمد خان نے وزیراعظم عمران خان، گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور متعلقہ دیگر وفاقی و صوبائی وزراء سے صورتِ حال کا جائزہ لینے کی درخواست کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here