پی آئی اے نے ‘مشتبہ’ پائلٹ لائسنس کا تاثر زائل کرنے کی کوششیں تیز کردیں

264

اسلام آباد: ترجمان پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) نے کہا ہے کہ قومی ائیرلائن نے غیرملکی مشنز اور عالمی ریگولیٹری اینڈ سیفٹی باڈیز کو ایک خط کے ذریعے یقین دہانی کرائی ہے کہ انہوں نے غیرقانونی طریقے سے لائسنس حاصل کرنے والے 141 مشتبہ پائلٹوں کو گراؤنڈ کردیا ہے۔

وزیر برائے سول ایوی ایشن غلام سرور خان نے  کہا تھا کہ پی آئی اے کا یہ اقدام حفاظتی خدشات کو کم کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت نے مختلف تجارتی ائیرلائنز، فلائنگ کلبوں اور چارٹر کمپنیوں کو انکے 262 پائلٹوں کو انکی قابلیت سے متعلق تفتیش مکمل ہونے تک گراؤنڈ کرنے کا حکم دیا تھا۔

گزشتہ ماہ کراچی میں پی آئی اے کے طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ میں تجویز پر مذکورہ اقدام کیا گیا، متعلقہ رپورٹ میں پائلٹوں کا سیفٹی سٹینڈرڈز کو نظرانداز کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔

گلوبل سیفٹی اینڈ ٹرانسپورٹ باڈیز نے مبینہ طور پر ‘مشتبہ’ لائسنسز کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ پی آئی اے کی پروازیں امریکہ، برطانیہ اور یورپ سمیت بین الاقوامی طور پر سفر کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

پی آئی اے کا مشتبہ لائسنس رکھنے والے تمام پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ

پی آئی اے حادثہ: پرواز نے تین بار رَن وے کو چھوا، پائلٹ نے لینڈنگ گئیر نہ کھلنے کا نہیں بتایا

“پی آئی اے کی پروازیں چلانے والے پائلٹوں کے پاس حکومت پاکستان کے ذریعے حقیقی لائسنسوں کی توثیق کی جارہی ہے”۔

خط پر پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک کی جانب سے دسخط کیے گئے ہیں اور یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ ائیرلائن تمام انٹرنیشنل ایوی ایشن سیفٹی اینڈ ریگولیشنز سٹینڈرڈز کے مطابق کاربند رہے گی۔

ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ مذکورہ خط پاکستان میں تمام غیرملکی مشنز کے سربراہان کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل ایوی ایشن ریگولیٹرز اینڈ سیفٹی مانیٹرنگ ایجنسی کو بھیج دیا گیا ہے۔

وزیرہوابازی نے کہا کہ پائلٹوں کو گراؤنڈ کرنے کے اقدام سے عالمی خدشات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی، سول ایوی ایشن کے پانچ افسران کو مشتبہ پائلٹوں کی معاونت کرنے کے الزام میں برطرف کردیا گیا ہے۔

پاکستانی پائلٹ یونین نے خبررساں ایجنسی رائٹرز کی درخواست پر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے جواب نہیں دیا۔

ایک مشترکہ بیان میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف ائیرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن  اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ائیرٹریفک کنٹرولرز ایسوسی ایشن نے طیارہ حادثے میں عالمی معیار کے تحت تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here