’80 فیصد کاروبار ختم ہونے کا خدشہ، حکومت شادی ہال، ماکیز کھولنے کی اجازت دے‘

ہزاروں ورکرز بے روزگار ہو چکے، حکومت کو اس صنعت کے لئے امدادی پیکیج کا اعلان کرنا چاہئے؛ شادی ہالز اینڈ ماکیز ایسوسی ایشن  

80

اسلام آباد: مارکیز اور شادی ہالز کو ایس او پیز کے ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دی جائے کیونکہ طویل بندش سے 80 فیصد کاروبار مستقل بند ہونے اور ہزاروں ورکرز کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

مارکیز اور شادی ہالز ایسوسی ایشن اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس او پیز کے ساتھ شادی ہالز اور ماکیز دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جائے کیونکہ کاروبار بند ہونے سے یہ کاروباری ادارے مالی بحران کا شکار ہو رہے ہیں اور ہزاروں ملازمین بے روزگار ہو رہے ہیں۔

مارکیز اور شادی ہالز ایسوسی ایشن کے وفد نے آئی سی سی آئی کا دورہ کیا، وفد سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر کے صدر محمد احمد وحید نے کہا کہ مارکیز اور شادی ہالز معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں کیونکہ اس صنعت سے دوسرے بہت سارے شعبوں کا کاروبار وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے ان کاروباروں کو بہت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ ان کو کرایہ، عملے کی اجرت اور یوٹیلیٹی بلوں سمیت معمول کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں لہٰذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت انہیں مزید تباہی سے بچانے کے لئے دوبارہ کاروبار کھولنے کی اجازت دے۔

صدر اسلام آباد چیمبر نے کہا کہ ہزاروں افراد ان کاروباروں سے اپنا ذریعہ معاش کما رہے ہیں اور انہیں بند رکھنے سے غربت بڑھ رہی ہے۔ جب ایس او پیز کے ساتھ دوسرے کاروبار کھولے گئے ہیں تو مارکیز اور شادی ہالز کو بھی دوبارہ کھولنا چاہئے کیونکہ ان کے مالکان طے شدہ ایس او پیز کے ساتھ اپنا کاروبار چلانے کے لئے تیار ہیں۔

احمد وحید نے کہا کہ یہ کاروبار محصولات کی مد میں بھی حصہ ڈال رہے ہیں اور ان کو بند رکھنے سے حکومت بھی ٹیکسوں سے محروم ہو گی۔ حکومت مارکیز اور شادی ہالوں کو تین سے چار اقساط میں یوٹیلیٹی بلز ادا کرنے کی اجازت دے کیونکہ موجودہ مالی مشکلات کی وجہ سے ان کو بل ادا کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

اس موقع پر مارکیز اور شادی ہالز ایسوسی ایشن کے وفد نے کہا کہ شادی ہالوں کے مالکان تین ماہ کی لاک ڈائون کی وجہ سے اب دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں اور اگر انہیں دوبارہ جلد کاروبار کھولنے کی اجازت نہ دی گئی تو اس صنعت کے 80 فیصد کاروبار مستقل بند ہو جائیں گے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو اس صنعت کے لئے ایک امدادی پیکیج کا اعلان کرنا چاہئے اور انہیں دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ مستقبل کی بکنگ کا سلسلہ شروع کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مختصر نوٹس پر 14 مارچ 2020ء کو ان کی صنعت مکمل طور پر بند کر دی تھی جس وجہ سے ہزاروں ورکرز ملازمت سے محروم ہوگئے ہیں اور ان کے خاندان شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مارکیز اور شادی ہالوں کی بندش کی وجہ سے گوشت، پولٹری، زیورات، دلہن کے لباس، پھول فروش، فرنیچر، کراکری سپلائرز، ٹینٹ سروس والے، ویٹر سپلائی کرنے والے، بینڈوالے، لائٹنگ اور جنریٹر سپلائی کرنے والے سمیت دیگر بہت سے کاروبار بھی بہت متاثر ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا کاروبار زیادہ محفوظ ہے اور وہ ایس او پیز کے مطابق کاروبار چلائیں گے۔ اپنے صارفین اور ورکروں کی صحت کی حفاظت کے لئے مکمل منصوبہ رکھتے ہیں لہٰذا حکومت انہیں دوبارہ کاروبار کھولنے کے لئے ایک تاریخ دے تا کہ وہ شادی فنکشنز کی بکنگ کا سلسلہ شروع کر سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here