‘کورونا کا قہر، رواں دہائی دنیا پچھلے عشرے سے کم رفتار سے ترقی کرے گی’

مہلک وائرس کے باعث لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کی وجہ سے دنیا کی ترقی کی رفتار دھیمی پڑ گئی، رواں دہائی میں دنیا کی معیشت 2.4 فیصد ترقی کرے گی جبکہ پچھلے عشرے میں اس نے 3.2 فیصد ترقی کی تھی : فچ سلوشنز کی رپورٹ

95

کراچی : کورونا وائرس نے دنیا کو جہاں صحت کے شدید چیلنج سے دوچار کیا ہے وہیں اس نے معیشت کا بھی بیڑا غرق کردیا ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ سلوشنز نے اس حوالے سے اپنی تازہ رپورٹ میں پیشگوئی کی ہے کہ 2020ء میں دنیا کے پیداواری شعبے میں 3.6 فیصد کمی ریکارڈ کی جائے گی۔

تاہم فچ سلیوشنز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2020ء میں دنیا کی کم ہونے والی پیداوار 2021ء میں 4 فیصد تک بحال ہو جائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیداوار میں کمی کے زیادہ شکار ترقی یافتہ ممالک ہوں  گے اور ان کی پیداوار رواں برس 5.1 فیصد کم ہوجائے گی جبکہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی پیداوار میں 1.5 فیصد کمی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹڈی دل، زرعی معیشت کو 800 ارب روپے نقصان کا خطرہ

کورونا بحران سے عالمی معیشت کو 8.8 کھرب ڈالر نقصان ہو سکتا ہے

فچ شلیوشنز نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ اگلے برس معیشتیں بحالی کی جانب گامزن ہوں گی مگر یہ معاشی بحالی غیر متناسب ہوگی، اس کے علاوہ مزید معاشی گراوٹ کا خطرہ بھی اپنی جگہ موجود رہے گا۔

مزید برآں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں دہائی میں دنیا کی معیشت 2.4 فیصد ترقی کرے گی جبکہ پچھی دہائی میں اس نے 3.2 فیصد ترقی کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے برازیل، روس اور بھارت بالخصوص خطرے کی زد پر ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک ابھی بھی خطرے میں ہیں کیونکہ وباء کی دوسری لہر کا اندیشہ ہے اور ان ممالک میں صحت کی سہولیات ناکافی ہیں اور کوئی بھی سنگین صورتحال ان ممالک کی معاشی بحالی کو شدید نقصان پہنچائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here