نومبر 2019ء کے بعد پہلی مرتبہ سٹیٹ بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے نیچے آ گئے

مئی میں زرمبادلہ ذخائر 12.2 ارب ڈالر تھے، کمی کی بڑی وجہ بیرونی قرض ادائیگیاں ہیں ، کورونا کے باعث برآمدات، ترسیلات زر میں کمی اور قرض ادائیگیاں بڑھنے سے آنے والے دنوں میں زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی ہو گی: سٹیٹ بنک

283

کراچی : سٹیٹ بنک آف پاکستان (ایس بی پی) کے پاس موجود زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 19 جون 2020ٗ کو اختتام پذیر ہونے والے ہفتے تک 146 ملین ڈالر کم ہو کر 9 ارب 961 ملین ڈالر رہ گئے ہیں۔

اس کمی کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر نومبر 2019ء کے بعد پہلی مرتبہ دس ارب ڈالر سے نچلی سطح پر آئے ہیں۔

مئی 2020ء میں سٹیٹ بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر 12.2 ارب ڈالر ہوگئے تھے مگر بیرونی قرض ادائیگیوں کے باعث ان ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو مالیاتی اداروں سے 1.5 ارب ڈالرموصول

کورونا کے باعث رواں برس دنیا میں ترسیلات زر 100 ارب ڈالر کم ہوجائیں گی : ورلڈ بنک

ایشیائی ترقیاتی بینک کراچی ریڈ لائن پروجیکٹ کیلئے 235 ملین ڈالر قرضہ دیگا

سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے جاری ایک بیان مں بتایا گیا ہے کہ رواں ہفتے اسے مجموعی طور پر ایک ارب 725 ملین  ڈالر موصول ہوئے ہیں جس میں 725 ملین ڈالر ورلڈ بنک، 500 ملین ڈالر ایشیائی ترقیاتی بنک اور 500 ملین ڈالر ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک کی جانب سے دیے گئے ہیں۔

یہ فنڈز سٹیٹ بنک کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ بفر کا کام کرتے ہیں، ماہرین کے مطابق 25 جون 2020ء کو شرح سود میں مزید ایک فیصد کی حیران کن کمی کرنے سے پہلے مرکزی بنک نے سرمائے کی آمد اور دوسرے عوامل کو مد نظر رکھا۔

ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ سٹیٹ بنک یہ چاہتا تھا کی شرح سود میں مزید کمی سے پہلے اس کے پاس کچھ سرمایہ موجود ہو جو کہ شرح سود میں کمی کے نتیجے میں نکلنے والے سرمائے کے اثر سے نمٹنے کے لیے بفر کا کام کرے۔

مرکزی بنک کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ کمی 244.5 ملین ڈالر کی بیرونی قرض ادائیگیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔

ملک کے مجموعی لیکویڈ زرمبادلہ کے ذخائر 19 جون 2020ء کو ختم ہونے والے ہفتے تک 16.73 ارب ڈالر کی سطح پر تھے۔

سٹیٹ بنک نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کے باعث ترسیلات زر اور برآمدات میں کمی اور بیرونی قرض ادائیگیوں میں اضافے کے باعث ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی آئے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here