پاکستان کے پائلٹ لائسنس میں بے ظابطگیوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، آئی اے ٹی اے

224

پیرس: انٹرنیشنل ائیر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) میں پائلٹ لائنسز میں بے ضابطگیاں حفاظتی کنٹرولز میں ‘سنگین خرابی’ کی عکاسی کرتی ہیں، پی آئی اے نے مذکورہ بے ضابطگیوں کے بعد اپنے کئی پائلٹوں کو گراؤنڈ کر دیا تھا۔ 

ترجمان آئی اے ٹی اے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ “ہم پاکستان سے جعلی پائلٹ لائسنز سے متعلق رپورٹس کی پیروی کر رہے ہیں جو کہ ایوی ایشن ریگولیٹری کی جانب سے حفاظتی انتظامات کو نظرانداز کرنے میں سنگین کوتاہی اور خدشات کا باعث ہیں، عالمی تنظیم کو اس سے متعلق مزید معلومات درکار ہیں”۔

یہ بھی پڑھیے:

پی آئی اے نے 22 ماہ سے ناکارہ کھڑے بوئنگ 777، اے 320، اور اے ٹی آر طیاروں کو کار آمد بنا لیا

پی آئی اے کا مشتبہ لائسنس رکھنے والے تمام پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ

پی آئی اے نے کہا تھا کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کے 434 پائلٹوں میں سے 150 پائلٹوں کے جعلی لائنسز کی نشاندہی کی ہے۔

گزشتہ ماہ پی آئی اے طیارہ حادثے میں 97 افراد ہلاک ہوئے تھے جس سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے اور انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پائلٹس ہدایات کی درست طریقے سے پیروی نہیں کر رہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here