پاکستان موبائل کنیکٹیوٹی کے اعتبار سری لنکا اور نیپال سے بھی پیچھے

2025ء تک پاکستان میں 49 فیصد لوگ موبائل فون استعمال کرنے لگیں گے تاہم تب تک بھی یہ شرح جنوبی ایشیاء کی شرح سے 10 فیصد کم رہنے کا امکان ہے

104

اسلام آباد: دنیا بھر میں موبائل فون آپریٹرز کے مفادات کےلئے کام کرنے والی تنظیم گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونیکیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں موبائل فون کی مارکیٹ نے تیزی سے ترقی کی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں موبائل فون کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد جنوبی ایشیاء کی مجموعی اوسط سے کم ہے۔

پاکستان میں 2005ء میں انٹرنیٹ کے ساتھ موبائل فون استعمال کرنے والے افراد جنوبی ایشیاء کی اوسط شرح سے زیادہ تھے جو اب بھی 41 فیصد یعنی 8 کروڑ 90 لاکھ کے قریب ہیں لیکن جنوبی ایشیاء میں اب یہ شرح 52 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

خطہ کے دیگر ممالک اور پاکستان کا موازنہ کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میدان کے کئی شعبوں میں پاکستان اپنے پڑوسی اور خطے کے دیگر ممالک سے پیچھے ہے۔

گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونیکیشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے، مختلف سروسز بشمول ریٹیلز، ٹرانسپورٹ اور بینکنگ وغیرہ میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، اس کے باوجود پاکستان جنوبی ایشیاء میں موبائل کنیکٹیوٹی کے اعتبار سے دیگر ممالک سے پیچھے ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت ہر 10 میں سے 5 سے بھی کم افراد موبائل براڈ بینڈ یعنی تھری جی اور فور جی سروسز استعمال کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں 2005ء میں انٹرنیٹ کے ساتھ موبائل فون استعمال کرنے والے افراد جنوبی ایشیاء کی اوسط شرح سے زیادہ تھے۔

اندازہ ہے کہ 2025ء تک پاکستان میں 49 فیصد لوگ موبائل فون استعمال کرنے لگیں گے تاہم تب تک بھی یہ شرح جنوبی ایشیاء کی شرح سے 10 فیصد کم رہنے کا امکان ہے۔

اس وقت ایران، سری لنکا، انڈونیشیا، قزاقستان، بھارت، ازبکستان اور حتیٰ کہ نیپال میں بھی موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی شرح پاکستان سے زیادہ ہے لیکن دوسری جانب بنگلہ دیش اور افغانستان اس شعبہ میں فی الحال پاکستان سے پیچھے ہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here