سینیٹ کی بجٹ 2020-21ء میں متعدد ترامیم کی سفارش

277

اسلام آباد: سینیٹ نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی آئندہ مالی سال کے بجٹ 2020-21ء پر مرتب کردہ سفارشات کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی، یہ سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوائی جائیں گی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کمیٹی کی سفارشات ایوان میں پیش کیں، انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے 93 سفارشات کی اتفاق رائے سے منظوری دی ہے۔

سینیٹ نے قومی اسمبلی کو سفارش کی ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے تھرڈ شیڈول میں شامل اشیاء کے علاوہ تمام ریٹیل اشیاء پر مزید ٹیکس لاگو ہونا چاہیے، صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لئے بجٹ دگنا ہونا چاہیے۔

سینیٹ نے سفارش کی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی 16A اور 3B  میں مجوزہ ترمیم کے بجائے مکان یا پلاٹ کی خرید و فروخت پر کیپٹل گین ٹیکس مکمل ختم کیا جائے۔ قرضوں سے متعلق تمام معاہدے جانچ پڑتال کے لئے فوری طور پر پارلیمنٹ کے سامنے پیش کئے جائیں، وزارت صحت کے لئے بجٹ ڈبلیو ایچ او کی سفارشات کے مطابق کم از کم پانچ فیصد بڑھایا جانا چاہیے۔

سینیٹ نے قومی اسمبلی کو سفارش کی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ 11 فیصد کم کرنے پر فوری نظرثانی کی جائے، سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ ہونا چاہیے، تمباکو کو بھی گندم، مکئی اور گنے جیسی فصل تسلیم کیا جانا چاہیے اور اس پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیوں سے استثنیٰ ہونا چاہیے، ٹیکس صرف تمباکو کی تیار شدہ مصنوعات پر لاگو ہونا چاہیے۔

یہ سفارش کی گئی ہے کہ سگریٹ کی پہلے درجے کی مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 30 روپے فی پیکٹ جبکہ دوسرے درجے میں شامل سگریٹ پر ٹیکس میں دس روپے فی پیکٹ اضافہ ہونا چاہیے، بین الاقوامی برانڈ کے حامل سگریٹ کی ملک کے اندر اور بیرون ملک سمگلنگ کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کئے جانے چاہئیں۔

سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں کم از کم دس فیصد اضافہ ہونا چاہیے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کو بجٹ سیشن 2020-21ء کے دوران سخت محنت اور بالخصوص ہیلتھ ایمرجنسی اور کورونا وائرس کی صورتحال میں فرائض انجام دینے پر چھ اعزازیئے دیئے جانے چاہئیں۔

سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ گوادر ضلع کے لئے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی کے حوالے سے 10 سال کی چھوٹ دی جائے۔

قومی اسمبلی کو سفارش کی گئی ہے کہ پی پی ایز، سپرے گن اور فیس ماسک کے تمام بین الاقوامی خام مال کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا جانا چاہیے۔

سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ 4963 ارب روپے کی بجائے ایک حقیقی ٹیکس وصولی ہدف مقرر کیا جانا چاہیے، ٹیکسٹائل کے شعبے کے لئے سیلز ٹیکس میں چار فیصد کمی کی جائے۔ حکومت نقصان میں چلنے والے منصوبوں پر شفاف انداز میں کام تیز کرے۔

سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ احساس یوتھ لون پروگرام کے لئے سٹیٹ بینک کا ریلیف وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کے تحت بھی دیا جانا چاہیے۔ ملک بھر میں آن لائن یونیورسٹی تعلیم میں مدد دینے کےلئے ایچ ای سی کو مزید فنڈز دیئے جانے چاہئیں۔

سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ 2020-21ء میں ٹڈی دل پر قابو پانے کے لئے مختص فنڈز چار ارب روپے سے بڑھا کر آٹھ ارب روپے کئے جائیں۔ کورونا وائرس کی صورتحال اور ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے کھاد کے لئے پیکج، قرضے کی معافی اور دوسرے امدادی اقدامات میں کم از کم پچاس فیصد اضافہ کیا جانا چاہیے۔

سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ عالمی سطح پر کاروباری مسائل اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ملکی ٹیکسٹائل صنعت کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے حکومت کو ٹیکسٹائل کے شعبے کے لئے زیرو ریٹنگ کی سہولت بحال کرنی چاہیے یا ٹیکسٹائل کے برآمدی شعبے کے لئے جنرل سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کر کے 4 فیصد کیا جائے۔ 700 سی سی تک کی گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس ختم کیا جانا چاہیے، کھاد ڈیلرز کی طرف سے قومی شناختی کارڈ کی شرط میں پانچ لاکھ روپے تک اضافہ کیا جانا چاہیے۔

 سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ حکومت بالخصوص دور دراز علاقوں میں آئی ٹی اور انٹرنیٹ کی رسائی کے لئے آن لائن تعلیم کے پروگراموں کے لئے بجٹ میں مختص فنڈز میں اضافہ کرے۔ ایچ ای سی کے لئے بجٹ 100 ارب روپے بڑھانا چاہیے۔ ہوا بازی کے شعبے کی بہتری اور ملک بھر میں ہوائی اڈوں کو بہتر بنانے کے لئے حکومت فنڈز مختص کرے۔ پی پی ایز کی تیاری اور سپلائی کے لئے ٹیکس میں ریلیف دیا جائے۔ چھوٹے پیمانے کی ری سائیکلنگ انڈسٹری کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ وفاقی حکومت تعمیراتی شعبے کے پیکج کے تحت پلاٹوں کے حصول، نقشے کی منظوری اور ابتدائی کام شروع کرنے کے حوالے سے 31 دسمبر 2020ء کی شرط میں 20 جون 2021 تک بڑھانے کیلئے نظرثانی کرے۔ بلڈرز اور ڈویلپرز کو کام کی تکمیل کےلئے 31 دسمبر 2023ء تک کام کی تکمیل حتمی تاریخ دی جانی چاہیے اور 30 جون 2021ء تک اس پیکج کے تحت زمین کی ملکیت منتقل کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں کام کرنے والے طبی اور نیم طبی عملے کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کیا جانا چاہیے۔ حکومت بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے مزید فنڈز مختص کرے۔ نئے چھوٹے اور منی ڈیم بنانے کے لئے خصوصی فنڈز مختص کئے جانے چاہئیں۔

چیئرمین سینیٹ نے سفارشات کی تیاری پر کمیٹی کو مبارکباد دی اور ارکان کی طرف سے سفارشات کی منظوری دیدی۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کمیٹی نے 6 دن، 10 جلاس کئے، 25 گھنٹے تک کمیٹی کے اجلاس ہوئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here