چینی سکینڈل: تمام ادارے مقررہ مدت میں معاملہ منطقی انجام تک پہنچائیں، وزیر اعظم

وفاقی کابینہ کا اجلاس، فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ایکٹ کے مجوزہ مسودے کی منظوری، حکومت پنجاب کو اپنے ذخائر سے فوری طور پر 9 لاکھ ٹن گندم مارکیٹ میں ریلیز کرنے کی ہدایت 

100

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کمیشن رپورٹ کی سفارشات کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل اور فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ایکٹ 2020ء کے مجوزہ مسودے کی منظوری دیدی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کمیشن رپورٹ کی سفارشات کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کی منظوری دی۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے تحقیقات کے لئے کمیشن کا قیام عوامی مفاد میں کیا گیا۔ انہوں نے انکوائری کمیشن کی سفارشارت کے ضمن میں متعلقہ اداروں کو سونپی جانے والی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت میں اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔

معاونین خصوصی کی جانب سے اثاثہ جات کی تفصیلات پیش کرنے کے عمل میں پیش رفت کے حوالے سے کابینہ کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں تمام معاونین خصوصی کی جانب سے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائی جا رہی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک ایک مشیر جبکہ تین معاونین خصوصی کی جانب سے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کرانا باقی ہیں۔

گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے اقدامات کے حوالے سے مشیر خزانہ نے کابینہ کو گندم کی صورتحال، صوبائی حکومتوں کی جانب سے خریداری، ذخائر اور آٹے کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے کئے گئے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے فیصلہ کیا گیا ہے حکومت پنجاب اپنے ذخائر سے فوری طور پر نو لاکھ ٹن گندم مارکیٹ میں ریلیز کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت بھی گندم کی سپلائی بڑھانے کے حوالے سے اقدامات وضع کرے گی۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ صوبائی حکومتوں اور پاسکو کے مابین رابطہ کاری بڑھائی جا رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ درآمد کندگان سے براہ راست رابطہ کریں تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بتایا کہ گندم کی درآمد کی کوئی مقررہ حد نہیں ہوگی اور درآمد کندگان اپنی ضروریات کے مطابق ڈیوٹی فری گندم درآمد کر سکیں گے، سپلائی اور ڈیمانڈ کے حوالے سے اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، اس کے ساتھ نظام میں موجود خامیوں پر قابو پانے کی کوششوں کو تیز کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم نے وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی کو ہدایت کی کہ اس ضمن میں مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے روڈمیپ مرتب کیا جائے۔

کابینہ نے ملک میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ اور مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کے حوالے سے وزیرِ تعلیم شفقت محمود کی کاوشوں کو سراہا۔ اجلاس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ تعلیم (آن لائن تعلیم کی سہولت) کے فروغ کے لئے ملک بھر میں خصوصاً پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں گے۔

کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں بلوچستان کو ترقیاتی منصوبوں کی مد میں ریکارڈ فنڈز فراہم کیے گئے جس کا اعتراف صوبائی حکومت کی جانب سے کیا گیا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ کورونا کی وجہ سے مالی مشکلات کے باوجود بھی بلوچستان کو محصولات کے سابقہ اہداف کے مطابق شئیر دیا گیا ہے حالانکہ کورونا کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی اور محصولات اصل اہداف سے کم ہوئیں۔

وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 17 جون کے اجلاس میں کئے جانے والے فیصلوں اورکابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 04 جون 2020ء میں لئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔

کابینہ نے یورو فائیو کی درآمد کے فیصلے کو سراہتے ہوئے نوٹ کیا کہ یورو فائیو جیسے جدید درجے کی پٹرولیم مصنوعات کے استعمال سے ماحول کے تحفظ میں مدد ملے گی، ایل این جی ٹرمینل ٹو کے حوالے سے فیصلہ آئندہ ہفتے کیا جائے گا، متبادل اور قابل تجدید ذرائع سے توانائی کی پیداوار کے حوالے سے پالیسی متعارف کرانے پر وزیرِ توانائی کی کاوشوں کو سراہا گیا۔

سرکاری املاک کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے اور عوامی مفاد میں ان ذرائع سے مالی وسائل پیدا کرنے کی مہم کو آگے بڑھاتے ہوئے وفاقی کابینہ نے قصرِ ناز کراچی اور چنبہ ہاﺅس لاہور کو تیس سال کے لئے لیز پر دینے کی تجویز کی منظوری دی، لیز پر دینے کا عمل نہایت شفاف طریقہ کار کے ذریعے لگائی جانے والے بولی کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔

نیشنل سپیس پروگرام کے اغراض و مقاصد کو آگے بڑھانے اور سیٹلائٹ سروسز کے شعبے میں ملکی سیٹلائٹ کی استعداد کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کےلئے مجوزہ پالیسی ہدایات اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلہ کیا تاکہ اس حوالے سے تفصیلی غور کیا جا سکے۔

کابینہ نے پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے تمام ملازمین کے حوالے سے پاکستانی ایسینشل سروسز ایکٹ 1952ء کے اطلاق میں مزید چھ ماہ کی توسیع کرنے کی منظوری دی۔

چئیرمین متروکہ ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ نے ننکانہ صاحب میں واقع متروکہ املاک کے ریٹس کے تعین کے حوالے سے پیش رفت کی رپورٹ کابینہ کو پیش کی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پہلے مرحلے میں متروکہ املاک کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جائے تاکہ ان جائیدادوں کو مثبت طریقے سے بروئے کار لانے کے پلان کو حتمی شکل دے کر ان پر عملدرآمد کیا جا سکے۔

کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 19جون 2020 اور 20 جون 2020ء کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 22 جون 2020ء کو ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔

کابینہ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے پالیسی بورڈ کے چھ ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی جبکہ فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ایکٹ 2020ء کے مجوزہ مسودے کی منظوری دے دی۔ اس قانون کی بدولت میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کو خودمختاری میسر آئے گی اور عوام کو فراہم کی جانے والی سروسز کے معیار اور کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

اس کے قانون کے تحت میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ معیار اور کارکردگی میں کارپوریٹ سیکٹر کا مقابلہ کر سکیں، اس قانون کے تحت میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹس کے لئے ایک لائن کا بجٹ مختص کیا جائے گا۔ بورڈ آف گورنرز کو بااختیار بنایا جائے گا اور ہسپتال کے انتظام کے لئے مینجمنٹ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ ہیلتھ کیئر ورکرز کی حوصلہ افزائی کے لئے خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں، پانچ ہزار ہیلتھ پروفیشنلز کو ٹریننگ دی جا رہی ہے، ان میں سے گیارہ سو کی ٹریننگ مکمل ہو چکی ہے، آغا خان کی معاونت سے ملک بھر کے ہسپتالوں کے آئی سی یو سنٹر میں میڈیکل ایڈوائس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ہیلتھ کیئر ورکرز کے حوالے سے شہداء پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here