پی کے 8303 حادثہ: کون ذمہ دار؟ حکومتی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

پائلٹ، ایئر ٹریفک کنٹرولر نے مروجہ طریقہ کار نظر انداز کیا، طیارے میں کوئی نقص نہیں تھا، لینڈنگ کے وقت جہاز 2500 فٹ کی بجائے 7500 فٹ کی بلندی پر تھا، وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان

237

اسلام آباد: حکومت نے 22 مئی کو کراچی ائیرپورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے کی پرواز پی کے 8303 سے متعلق عبوری تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیارے میں کوئی نقص نہیں تھا اور یہ پرواز کیلئے مکمل فٹ تھا جبکہ پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر نے مروجہ طریقہ کار کو مدنظر نہیں رکھا۔

بدھ کو وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں عبوری رپورٹ پیش کی، انہوں نے کہا کہ طیارہ حادثہ میں 97 افراد شہید ہوئے، اسی رات ایک ٹیم تشکیل دی جو سینئر ترین افراد پر مشتمل بورڈ تھا، اسی رات یہ بورڈ کراچی پہنچا اور اس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے طیارہ حادثے کے دن ہی 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی تھی، حادثے کے فوری بعد 10 رکنی فرانسیسی ٹیم تحقیقات میں معاونت کے لیے پاکستان آئی۔ اس ٹیم میں چھ افراد ایئر بس فرانس سے تھے جبکہ تین افراد کا تعلق فرانس کے تحقیقاتی ادارے سے تھا۔ اس کے علاوہ باقی ایک شخص انجن بنانے والی کمپنی سے تھا۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ کی نگرانی میں ڈیٹا ریکارڈر اور وائس ریکارڈر فرانس لے جایا گیا جہاں غیر ملکی ادارے سے تعلق رکھنے والے چودہ ماہرین نے اسے ڈی کوڈ کیا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق بد قسمت طیارہ فضائی پرواز کے لیے فٹ تھا، طیارے نے سات سے بائیس مئی کے دوران چھ مرتبہ کامیاب پروازیں مکمل کی تھیں۔ دونوں پائیلٹس اور معاون پائلٹ تجربہ کار اور طبی طور پر پرواز اڑانے کے لئے فٹ تھے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق پائلٹ نے فائنل اپروچ پر جہاز میں کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی۔ رن وے سے 10 میل کے فاصلے پر جہاز کو تقریبا 2500 فٹ کی بلندی پر ہونا چاہیے تھا جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جہاز 7220 فٹ کی بلندی پر تھا۔

کنٹرولر نے تین دفعہ پائلٹ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ اس کی اونچائی ابھی بھی زیادہ ہے اور پائلٹ سے کہا کہ لینڈنگ نہ کریں اور ایک چکر لگا کر آئیں لیکن اس کے باوجود پائلٹ نے کنٹرولر کی ہدایات کو نظر انداز کیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق رن وے سے 10 نائیکل میل پر جہاز کے لینڈنگ گئیر کھولے گے جبکہ رن وے سے تقریبا پانچ نائیکل میل پر جہاز کے لینڈنگ گئیر بند کر دیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاز جب لینڈنگ کے لیے آیا تو اسے رن وے پر 1500 سے 3000 فٹ پر ٹچ ڈاون کرنا چاہیے تھا لیکن جہاز نے 4500 فٹ پر لینڈنگ گیئر کے بغیر انجن پر ٹچ ڈاون کیا اور 3000 سے 4000 فٹ تک رن وے پر رگڑیں کھاتا رہا، اسی دوران پائلٹ نے دوبارہ انجن کو پاور دے کر ٹیک آف کر لیا۔

جہاز نے جب دوبارہ ٹیک آف کیا تو دونوں انجن تباہ ہو چکے تھے اور جب دوبارہ لینڈنگ کے لئے اپروچ بنا رہا تھا تو اس دوران سول آبادی پر گر گیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق پائلٹ اور کنٹرولر دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا، ایک طرف پائلٹ نے کنٹرولر کی ہدایات کو نظر انداز کیا، دوسری طرف کنٹرولر نے بھی پائلٹ کو جہاز کے انجن کے رگڑ کھانے کے بعد نقصان کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔

وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ پہلا واقعہ نہیں، 72 سالوں میں 12 حادثات ہو چکے ہیں، گزشتہ تمام حادثات کی بروقت انکوائری ہوئی، رپورٹ سامنے آئی نہ حقائق عوام تک پہنچے۔ آج تک عوام اور مرنے والوں کے لواحقین میں تشنگی ہے کہ ماضی کے حادثات کے ذمہ دار کون تھے۔

انہوں نے کہا تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پچھلے چار بڑے حادثات میں سے ایئر بلیو اور بھوجا ائیر کریش کی تحقیقاتی رپورٹس مکمل ہو چکی ہیں جبکہ چترال حادثے کی رپورٹ اپنے آخری مراحل اور گلگت حادثے کی رپورٹ ابھی تیاری کے مراحل میں ہے۔

ایئر بلیو اور بھوجا ایئر حادثات کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دونوں حادثات پائلٹس کی غلطی کی وجہ سے پیش آئے جبکہ چترال والا حادثہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پیش آیا۔ اس سلسلے میں حتمی رپورٹ اگست 2020 میں تیار کر لی جائے گی۔

پی آئی اے کے گلگت حادثے کی ابتدائی تحقیقات بھی پائلٹ کی غلطی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس حادثے کی رپورٹ بھی اس سال کے آخر تک تیار کر لی جائے گئی۔

ان تحقیقات کا مقصد صرف کسی فرد پر ذمہ داری عائد کرنا نہیں ہے بلکہ ایسے اقدامات کا تعین کرنا ضروری ہے جس سے یہ واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اسی سلسلے میں کچھ اطلاعات کی بنیاد پر ہماری حکومت نے 2019 میں ایک اعلی سطحی انکوائری تشکیل دی۔

وزیر ہوابازی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی اور کورونا وائرس کی وباء کی صورتحال کے باوجود انکوائری بورڈ نے احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی ادا کئے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے پی آئی اے سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا، بدقسمتی سے چار پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلی تھیں۔

غلام سرور خان نے کہا کہ 29 گھر طیارہ حادثہ میں مکمل تباہ ہوئے۔ ان کا ازالہ بھی کیا جائے گا، متاثرہ افراد کو متبادل رہائش گاہیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ کسی کے دکھوں کا مداوا اللہ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا مگر جس حد تک ہم کر سکتے تھے وہ کرنے کی کوشش کی۔ جو افراد جاں بحق ہوئے ان میں 90 افراد کو فی کس 10 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں ۔ ایک گھر کی بچی بھی شہید ہوئی اس کو بھی معاوضہ دیا گیا ہے۔ تمام تر وجوہات، محرکات اور معاوضے کی تفصیلات مکمل رپورٹ میں شامل ہوں گی۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ جب بھی کوئی رپورٹ ایوان میں پیش ہوتی ہے وہ قائمہ کمیٹی کو بھیجی جاتی ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے پیپلز پارٹی کے رکن کی نشاندہی کے بعد رپورٹ قائمہ کمیٹی کو بھیج دی۔ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ جس فورم پر چاہیں گے جوابدہی کے لئے حاضر ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here