صنعتوں، معاشی سرگرمیوں کی بندش کورونا کو روکنے کا مؤثرحل نہیں، خودکشی ہے: ای ایف پی

صنعتوں، کاروباری مقامات پر ایس اوپیز پر عمل درآمد سے کورونا جیسی وبا کا باآسانی مقابلہ کیا جاسکتا ہے، صدر ایمپلائز فیڈریشن کا ویبنار سے شرکاء کا خطاب

305
A labourer wearing a facemask sits beside closed shops at a market during a government-imposed nationwide lockdown as a preventive measure against the COVID-19 coronavirus, in Karachi on April 7, 2020. / AFP / Asif HASSAN

کراچی: ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر اسماعیل ستار نے کہا ہے کہ کاروبار و صنعت اور معاشی سرگرمیوں کی بندش کسی صورت میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کا مؤثر حل نہیں بلکہ یہ معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے ای ایف پی کے زیر اہتمام محکمہ محنت و صنعت سندھ کے تعاون سے ”معاشی سرگرمیوں اورکاروبار کے لیے محفوظ اقدامات کے ساتھ ایس اوپیز پر عمل درآمد، کاروباری مقامات پر ورکرز کا تحفظ“ کے موضوع پر وڈیو لنک کے ذریعے منعقدہ ویبینارسے خطاب میں کیا۔

اس موقع پرای ایف پی کے نائب صدر ذکی احمد خان، ڈائریکٹر بورڈ آف ڈائریکٹرز مجید عزیز، سیکریٹری صنعت و تجارت سندھ ڈاکٹر نسیم الغنی سہتو، سیکریٹری لیبر اینڈ ہیومن ریسورس سندھ عبد الرشید سولنگی، سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلمان چاؤلہ، آئی ایل او کی کنٹری ڈائریکٹر انگریڈ کرسٹینسن، آئی ایل ای ایس پروجیکٹ کی منیجر کیرولن بیٹس، پائلر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرامت علی، مزدور رہنما حبیب الدین جنیدی اور چیئرمین ویب کوپ احسن اللہ خان نے بھی خطاب کیا۔

اسماعیل ستار نے میں کہا کہ ہمیں انتہائی سنگین اور مشکل صورتحال کا سامنا ہے جس کا پہلے کبھی سامنا نہیں ہوا، بہرحال یہ وقت گھبرانے کا نہیں بلکہ ڈٹ کر بحران کا سامنا کرنے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تاریخ کے تجربے سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہسپانوی فلو کے وبائی مرض کے دوران کیلیفورنیا سٹیٹ کس طرح بحرانوں کو سرمایہ کاروں کے لیے مواقعوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہا اور اس کے نتیجے میں آج 50 فیصد ارب پتی افراد کا تعلق کیلی فورنیا ریاست سے ہے۔

ای ایف پی کے سابق صدر مجید عزیز نے نئی راہیں تلاش کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں اور صنعتوں کو مقامی و برآمدی منڈی کے لیے ماسک، محفوظ آلات اور کوویڈ 19 سے متعلق دیگر سازو سامان کی جدت اور تیاری پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ ان اشیاء کی عالمی سطح پر بہت مانگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آجروں کو چاہیے کہ وہ نئے آئیڈیاز لے کر آئیں اور نئی مارکیٹیں تلاش کریں اور اس سلسلے میں بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ کاروباری روابط قائم کرنے میں صنعت کی مدد کریں۔

سیکریٹری صنعت و تجارت سندھ ڈاکٹر نسیم الغنی سہتو نے کہا کہ وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ لوگ احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات نہیں کررہے جبکہ کاروباری افراد بھی ایس او پیز کی تعمیل نہیں کر رہے۔ کورونا سے متعلقہ دوائیں اور حفاظتی آلات کی بلیک مارکیٹنگ ہمیں قومی سلامتی کے مسئلے کی طرف لے جارہی ہے۔

سیکریٹری لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ سندھ عبد الرشید سولنگی نے ایس او پیز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی حفاظت اور کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کی جگہ پر ان ایس او پیز کی سختی سے تعمیل ضروری ہے۔

انہوں نے کارکنوں، آجروں اور حکومت کی طرف سے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں مل جل کر کرونا سے پیدا ہونے والے بحرانوں، چیلنجز اور نتائج کا سامنا کرنا ہے۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلمان چاؤلہ نے کہا کہ حکومت نے ایس او پیز کی تیاری کے عمل میں صنعتوں کو شامل کرنے کا کہا اور ہدایت کی کہ سائٹ کے علاقے میں صنعتیں اپنے کاروبار کو چلانے کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کارکن ہمارا اثاثہ ہیں اور ان کی حفاظت نہ صرف ہماری ذمہ داری ہے بلکہ وہ ہماری صنعت کی ترقی کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن (آئی ایل او) کی کنٹری ڈائریکٹر انگریڈ کرسٹینسن نے کہا کہ کورونا بحران نے باضابطہ اورغیر رسمی دونوں کاروباروں پر سنگین اثرات مرتب کیے ہیں اور اس کے نتیجے میں زندگی اور معاش کے مسائل بڑھ رہے ہیں جس نے بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ معاشرتی تحفظ کی کمی، غربت میں اضافہ اور لوگوں کی زندگی کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں آئی ایل او مزدوروں، آجروں اور خریدار تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی تباہی سے بچنے اور مزدوروں کی آمدنی، صحت اور روزگار کی حفاظت کے لیے صنعت کاروں کی مدد کی جا سکے۔

آئی ایل ای ایس پروجیکٹ کی منیجر کیرولن بیٹس نے مزدوروں کے تحفظ کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایس او پیز کے نفاذ کے لیے بہتر معلومات اور تربیت فراہم کرنے کی ضرورت کا بھی اعادہ کیا۔

پائلر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرامت علی نے کہا کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اور صحت و معاشی مسائل کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے جاگیردارانہ معاشرے کی بجائے آزاد اور خودمختار معاشرے کی تشکیل کے لیے 21ویں صدی کی ضرورت کے مطابق پالیسیوں کووضع کرنے کے علاوہ خوراک، تحفظ اور معاشرتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے معاشرتی پالیسیوں پر سنجیدگی سے غور کرنے پر بھی زور دیا۔

ای ایف پی کے نائب صدر ذکی احمد خان نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ اد کرتے ہوئے کہاکہ اس مشکل وقت میں کرونا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے صنعتوں اور کام کی جگہ پر محفوظ اقدامات کے ساتھ ایس او پیز کے نفاذ میں ای ایف پی کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here