سینیٹ کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس، گوادر میں ٹیکس چھوٹ کی سہولت کی منظوری دے دی گئی

گودار بندرگاہ سے متعلق اصل معاہدے میں 20 سال کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے مگر فنانس بل 2020-21 میں ایف بی آر نے یہ چھوٹ چالیس سال تک بڑھانے کی تجویز دی جسے کمیٹی نے منظور کرلیا، اس سے پہلے 18 جون کو گوادر سے متعلق معاہدوں کی تفصیلات خفیہ قرار دے کر کمیٹی کو فراہم کرنے سے انکار کردیا گیا تھا

241

اسلام آباد : سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس نے فنانس بل 2020-21 میں گوادرکی بندرگاہ اور گوادر فری زون کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ منظور کرلی۔

کمیٹی نے ان ٹیکس چھوٹ کی منظوری ان کیمرہ اجلاس میں دی۔

یہ بھی پڑھیے:

ایف بی آر کا نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف بھی پورا نہ ہو پانے کا امکان، چئیرپرسن کو ہٹانے کی کوشش شروع

گوادر میں انکم ٹیکس کی چھوٹ کب تک؟ سینیٹ کو کیا جواب ملا؟

گوادر کی بندرگاہ پر پہلے تجارتی بحری جہاز کی آمد

اس سے پہلے ایف بی آر نے کمیٹی کے پچھلے اجلاس میں بتایا تھا کہ اس نے  گوادر پورٹ کے آپریٹروں، بندرگاہ  پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں اور ذیلی ٹھیکیداروں کو سیکرٹری میری ٹائم رضوان احمد کی سفارش پر چالیس سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز دی ہے۔

کمیٹی نے اپنے 18 جون کے اجلاس میں میری ٹائم کے سیکرٹری سے گوادر پورٹ پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں اور ذیلی ٹھیکیداروں سے ہونے والے معاہدوں کی تفصیلات طلب کی تھی جو انہوں نے خفیہ قرار دے کر فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

مزید برآں سیکرٹری نے کمیٹی سے یہ بات بھی چھپائی کہ  گوادر پورٹ کے حوالے سے اصل معاہدے میں بندرگاہ پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو چالیس کے بجائے بیس سال کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے اور یہ چھوٹ ذیلی ٹھیکیداروں کے لیے نہیں ہے۔

تاہم اب جب سیینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس کے سربراہ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے میری ٹائم کے سیکرٹری رضوان احمد سے گوادر پورٹ پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کے ذیلی ٹھیکیداروں پر اطلاق کے حوالے سے استفسار کیا تو انہوں نے انکشاف کیا کہ وزارت بحری امور یہ کہہ کرپارلیمنٹ کو گمراہ کرچکی ہے کہ ذیلی  کنٹریکٹرز کو بھی ٹیکس چھوٹ حاصل ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here