حج سے متعلق سعودی فیصلے کے بعد حکومت کا حاجیوں کو رقوم کی واپسی کا فیصلہ

سعودی عرب نے رواں برس صرف مملکت میں موجود افراد کو حج کی ادائیگی کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے

115

اسلام آباد : سعودی عرب کی جانب سے صرف سعودی عرب میں مقیم افراد کے ساتھ حج کے انعقاد کے اعلان کے بعد وزارت مذہبی امور نے قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے حاجیوں کو حج اخراجات کی مد میں جمع کروائی گئی رقم واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے پہلے ایک لاکھ 79 ہزار 210 افراد نے حج کی ادائیگی کے  لیے خود کو رجسٹرڈ کروایا تھا جس میں سرکاری سکیم کے تحت 1 لاکھ 7 ہزار526 افراد جبکہ71 ہزار 684 افراد نے نجی شعبے کے تحت حج کی ادائیگی کرنا تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس، ٹرمپ نے امریکی شہریوں کیلئے گرین کارڈز، غیرملکیوں کیلئے ویزوں کا اجراء روک دیا

رواں سال پاکستان کی ترسیلات زرکا حجم 20 سے لیکر 21 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان 

کورونا وائرس، سعودی عرب سے رواں سال 12 لاکھ تارکین وطن واپس چلے جائیں گے

وزارت مذہبی امور کے ترجمان عمران صدیقی کا میڈیا کو بتانا تھا کہ سعودی وزیر حج و عمرہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو فون کرکے حج سے متعلق سعودی حکومت کے فیصلے سے آگاہ کیا جس کے بعد ایک ہنگامی اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لینے اور حج قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے افراد کو رقوم کی واپسی کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔

سعودی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث اس سال حج مملکت میں موجود افراد جس میں اقامہ ہولڈرغیر ملکی افراد بھی شامل ہیں کی محدود تعداد کے ساتھ  منعقد کروانے کا اعلان کیا ہے۔

وزارت مذہبی امور کے مطابق سعودی حکومت کے اس فیصلے کے بعد رواں برس پاکستان کے سفیر، سفارتی حکام اور حج ڈائریکٹوریٹ حج کے موقع پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here