کیمیکلز ایسوسی ایشن کا خام مال پر انکم ٹیکس کی پرانی شرح برقرار رکھنے کا مطالبہ

انکم ٹیکس کی شرح میں 3.5 فیصد اضافہ سے کمرشل امپورٹرز کا کاروبار متاثر ہو گا، صنعتوں باالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کے خام مال کی قلت پیدا ہونے اور پیداواری سرگرمیوں میں رکاوٹ کا خدشہ ہے: امین یوسف بالاگام والا

128

کراچی: پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین و سابق ڈائریکٹر کراچی اسٹاک ایکسچینج امین یوسف بالاگام والا نے بجٹ 2020-21ءمیں بعض صنعتی خام مال کو فنشڈ گڈز کی کیٹگری میں ڈالنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صنعتی خام مال کے پارٹ 2 میں واپس اندراج اور اس کے تحت انکم ٹیکس کی سابقہ شرح برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امین یوسف بالاگام والا نے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود اور ایف بی آر کی بجٹ اناملیز کمیٹی کو خطوط ارسال کیے ہیں جن میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ فنانس بل 2020ء کے 12 شیڈول میں 3 پارٹ ہیں۔ پارٹ وَن میں کیپٹل گڈز، پارٹ 2 میں خام مال اور پارٹ 3 میں فنشڈ گڈز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں کیمیکلز و ڈائز کے متعدد خام مال کو پارٹ 2 سے نکال کر پارٹ 3 میں ڈال دیا ہے جو فنشڈ گڈز کے لیے ہے، پارٹ 3 میں انکم ٹیکس کی شرح 5.5 فیصد ہے جبکہ پارٹ وَن میں یہ شرح ایک فیصد اور پارٹ 2 میں انکم ٹیکس کی شرح 2 فیصد ہے۔

چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ کیمیکلز و ڈائز کا خام مال پہلے پارٹ 2 میں درج تھا مگر کئی خام مال کو پارٹ 3 میں ڈالنے سے خام مال پر فنشڈ گڈز کے لحاظ سے ٹیکس نافذ ہو گا۔

درآمدی مال پر انکم ٹیکس کی شرح میں 3.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس سے کمرشل امپورٹرز کا کاروبار متاثر ہو گا اور صنعتوں باالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کے خام مال کی قلت پیدا ہونے اور صنعتوں کی پیداواری سرگرمیوں میں رکاوٹ کا خدشہ ہے. اس سے برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں جبکہ ایسے حالات میں برآمدات کی بڑھوتری انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مینوفیکچرر صنعتی خام مال درآمد کرتا ہے تو اس پر ٹیکس کی شرح کم ہے مگر وہی خام مال جب کمرشل امپوٹرز صنعتوں کو ہی سپلائی کرنے کے لیے درآمد کرتے ہیں تو ان پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے جو مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مینوفیکچررز کم ڈیوٹی کا فائدہ اٹھا کر درآمدی خام مال مارکیٹ میں فروخت کریں گے جس سے زیادہ ڈیوٹی ادا کر کے خام مال درآمدکرنے والے صنعتی امپورٹرز کوشدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امین یوسف بالاگام والا نے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود اور ایف بی آر کی بجٹ اناملیز کمیٹی کو بھیجے گئے خطوط میں کیمیکلز و ڈائز کے خام مال کو دوبارہ پارٹ 3 سے نکال کر پارٹ ٹو میں ڈالنے اور 2 فیصد کی سابقہ انکم ٹیکس شرح برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی و کمرشل امپورٹرز کے لیے ٹیکس کی شرح یکساں کی جائے کیونکہ دونوں ہی صنعتوں کے لیے خام مال درآمد کرتے ہیں لہٰذا یہ تفریق ختم ہونی چاہیے۔

چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے صنعتی خام مال کے کمرشل امپورٹرز کو فکسڈ ٹیکس ریجم میں بحال کرنے ایس آر او 1125 کو بھی بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کی موجودگی میں کاروبار کرنا ویسے ہی دشوار ہے لہٰذ حکومت کاروبار کرنے کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرے تاکہ صنعتوں کو سستا خام مال میسر آئے اور ملکی برآمدات کو فروغ حاصل ہو۔

انہوں نے خط میں مزید کہا کہ 3204 کے چیپٹر میں تمام درآمدی آئٹمز میں یکساں ڈیوٹی ہونی چاہیے کیونکہ ڈیوٹی کی شرح مختلف ہونے سے مسائل پیدا ہوں گے۔

انہوں نے تجویز دی کہ 3204 کے چیپٹر میں تمام درآمدی آئٹمز پر 5 فیصد کی شرح سے یکساں ڈیوٹی عائد کی جائے بصورت دیگر مس ڈیکلریشن کے رجحان کو فروغ ملے گا جس سے حکومت کو ریونیو کی مد میں خطیر نقصان کا خدشہ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here