تیل کی گراوٹ سے بحران، اصلاحات نہ کیں تو معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا: عراقی وزیر خزانہ

73

بغداد: عراق کے وزیر خزانہ علی علاوی نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخ گرنے سے سخت مالی بحران کا سامنا ہے، اگر فوری طور پر اصلاحات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ملکی معیشت کو آئندہ سال تک ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔

گزشتہ روز ایک انٹرویو میں علی علاوی نے کہا کہ ملکی معیشت کا زیادہ تر انحصار خام تیل کی برآمد پر ہے لیکن اس کے نرخ عالمی منڈی میں گرنے کی وجہ سے قومی آمدنی نصف تک کم ہوگئی ہے جس کے باعث سخت مالی بحران کا سامنا ہے، اگر ہم نے صورتحال کا بروقت ادراک نہ کیا تو ہمیں بڑے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے جن کی مقدار یا تعداد کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔

خام تیل کے نرخ 50 ڈالر سے کم ہوکر 20 ڈالر فی بیرل پر آنے کی وجہ سے عراق کی معیشت کی اقتصادی شرح نمو کو پہلے ہی 10 فیصد کمی کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کا دوسرا سب سے بڑا پیداواری ملک ہے جو اپنے بجٹ کی مالی اعانت (جس میں وسیع تر پبلک سیکٹر اور سبسڈیز بھی شامل ہیں) کے لیے خام برآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسی حکومت کو ہنگامی صورتحال یا جھٹکے کی صورت میں عام طور پر کم سے کم ڈیڑھ مہینے کے اخراجات اپنے پاس رکھنے چاہئیں، اس طرح ہمارے پاس 10 سے 15 کھرب عراقی دینار (12 ارب ڈالر) ہونے چاہئیں۔

عراقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے اور حکومت چلانے کے لئے ایک ماہ میں کم از کم ساڑھے چار ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں، تاہم انھوں نے توقع ظاہر کی کہ سرکاری ملازمین کی جون اور جولائی کی تنخواہوں کی ادائیگی اندرونی طور پر قرضہ لے کر کرنا پڑے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here