احساس راشن پورٹل، لنگر اور پناہ گاہ ایپس، کورونا ریلیف فنڈ ویب سائٹ کا آغاز 

حکومت کووڈ۔19 سے متاثرہ معاشرے کے طبقات کی معاونت کیلئے عطیہ کئے گئے ہر ایک روپے کے حوالہ سے شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے، ایپس اور ویب سائٹس کو لانچ کرکے شفافیت کے حوالہ سے ڈونرز کو اعتماد فراہم کر رہے ہیں: وزیراعظم عمران خان کا تقریب سے خطاب

190

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے احساس راشن پورٹل، احساس لنگر، پناہ گاہ ایپس اور وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ ویب سائٹ سمیت دیگر (ویب سائٹس اور ایپس) کے احساس اقدامات کا آغاز کر دیا، ان اقدامات کا مقصد کووڈ۔19 سے متعلقہ ریلیف کے اقدامات کے سلسلہ میں حکومت اور سول سوسائٹی کے بہتر اشتراک اور تعاون کو یقینی بنانا ہے۔

اس حوالہ سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کووڈ۔19 سے متاثرہ معاشرے کے طبقات کی معاونت اور سپورٹ کیلئے عطیہ کئے گئے ہر ایک روپے کے حوالہ سے شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے اور ان متعلقہ ایپس اور ویب سائٹس کو لانچ کرکے شفافیت کے حوالہ سے ڈونرز کو اعتماد فراہم کر رہی ہے۔

نئی لانچ کی گئی پی ایم ویب سائٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس پر تمام مستفید ہونے والوں کی فہرست شائع کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ احساس پروگرام میں بھی شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور ان کی ٹیم کی احساس کیش پروگرام کو کامیاب بنانے کے حوالہ سے کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پروگرام کے تحت رقوم کی شفاف اور موثر ترسیل کو یقینی بنایا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے وباء کے دوران روزگار کھو دینے والے طبقہ کی معاونت کیلئے احساس ویب پورٹل کی کامیابی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا جس کے ذریعے بے روزگار ہونے والوں کی مالی معاونت کی گئی ہے۔

کورونا ریلیف فنڈ ویب سائٹ کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ اس سے مکمل معلومات دستیاب ہوں گی اور ڈونرز کو براہ راست مستحق افراد تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے پوری دنیا کو غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے حتیٰ کہ امریکہ میں عوام کو خوراک حاصل کرنے کیلئے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا جبکہ اٹلی میں بھی لوگوں کو خوراک کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر صوبے لاک ڈاﺅن کے آپشن پر غور کا کہیں گے تو میں اس کی حمایت نہیں کروں گا کیونکہ چین کے شہر ووہان کے مقابلہ میں یہاں پر مختلف صورتحال ہے۔

سندھ کے اپنے حالیہ دورہ کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ صرف لاڑکانہ میں متاثرین میں سے 20 فیصد کاروباری تھے جن کے کاروبار بند تھے۔ صوبہ میں وباء کی وجہ سے لاک ڈاﺅن کا فیصلہ گھبراہٹ میں کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل میں شیلٹر ہومز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ مستحق افراد کی ایک بڑی تعداد کو سہولت دی جا سکے۔ مزدور اور دوسرے کارکن روزگار کمانے کیلئے شہروںکا رخ کرتے ہیں اور رہائشی اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے وہ کھلے مقامات یا سڑکوں پر رات گزارتے ہیں جو تکلیف دہ بات ہے۔ پناہ گاہ قائم کرنے کا آئیڈیا ان کو سہولت فراہم کرنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے وزراءکو ہدایات دی ہیں کہ وہ ان مقامات کا دورہ کریں اور وہاں قیام کرنے والے افراد سے صورتحال معلوم کریں۔

وزیراعظم عمران خان نے سمارٹ لاک ڈاﺅن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ متاثرہ افراد، بزرگ شہریوں اور وبائی امراض سے متاثرہ افراد کی زندگیاں بچانے کیلئے اس طرح کے اقدامات سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں تاہم واضح کیا کہ ٹائیگر فورس کے رضاکار ایسی صورتحال میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here