کورونا کے باعث قرض ادائیگیاں مؤخر ہونے سے پاکستان کو کتنے ارب ڈالر کی بچت ہوگی؟

قرض ادائیگیوں میں دی جانے والی رعایت سے فائدہ اُٹھانے والے ممالک میں پاکستان کا دوسرا نمبر، عالمی قرض خواہوں کی جانب سے دی جانے والی سہولت اس سال کے آخر تک ہے۔

146

نیو یارک: عالمی مالیاتی اداروں اور قرض خواہ ممالک کی جانب سے کورونا وائرس کے تناظر میں قرضوں میں دی جانے والی رعایت کے باعث دنیا کے غریب ممالک اس برس 12 ارب ڈالر کا فائدہ اُٹھا سکیں گے۔

قرضوں میں رعایت کے اس پروگرام سے صرف انگولا کو رواں سال 3.4 ارب ڈالر کا فائدہ ہوگا، اس ضمن میں دوسرا نمبر پاکستان کا ہے جسے 2.4 ارب ڈالر کا فائدہ پہنچے گا، تیسرا نمبر پر موجود کینیا کو 802 ملین ڈالر کا فائدہ ہو گا۔

اس بات کا انکشاف ورلڈ بنک کی جانب سے ایک حالیہ اشاعت میں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

کورونا وائرس: ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کا آئی ڈی اے رکن ممالک سے قرض واپسی موخر کرنے پراتفاق

سی پیک ترقی کا زینہ، پاکستان کے جی ڈی پی میں 14.06 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے: ورلڈ بنک

ورلڈ بنک، شرائط پر پورا نہ اترنے کے باعث پاکستان کے لیے دو معاونتی قرضہ جات کا اجرا ملتوی

تاہم قرض ادائیگیوں میں دی جانے والی یہ سہولت رواں سال کے آخر تک کے لیے ہے اور اس کے تحت قرض دار ممالک کے قرضے مکمل طور پر معاف نہیں کیے گئے ہیں۔

اگر بچت اور جی ڈی پی کا موازنہ کیا جائے تو قرضوں میں رعایت کے اس پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ بھوٹان کو ہوگا جسے جی ڈی پی کے 7 فیصد کے برابر بچت ہوگی اس کے بعد انگولا اور جبوتی کا نمبر آتا ہے جنھیں جی ڈی پی کے  بالترتیب 3.7 اور 2.5 فیصد کے برابر فائدہ ہوگا۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے مطابق ترقی پذیر ممالک پر کورونا کے مضر اثرات شدید ہونگے اور ایسا بھاری قرضوں اور تیل اور دوسری اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور صحت کی ناکافی سہولیات کے باعث ہوگا۔

غریب ممالک کو قرضوں میں رعایت کے اس عالمی پروگرام کو جی ٹونٹی ممالک، پیرس کلب، ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی حمایت حاصل ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اگر غریب ممالک کے قرضے معاف کردیے جائیں تو انہیں 25 ارب ڈالر کی بچت ہوگی تاہم اگر قرضوں کی ادائیگیوں کو 2021ء تک مؤخر کردیا جائے تو قرض دار ممالک کو 50 ارب ڈالر کا فائدہ ہوگا۔

پاکستان سمیت بہت سے افریقی ممالک کورونا کے باعث قرض ادائیگیوں میں دو سال کی چھوٹ دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ بھی عالمی مالیاتی اداروں کو مقروض ممالک کیلئے قرض ادائیگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کی اپیل کر چکا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here