فولاد سازی کی صنعت کا بجٹ 2020-21 میں تبدیلی کا مطالبہ

حکومت نے رولنگ ملوں کو بائلٹس کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی کی چھوٹ دے دی ہے جبکہ یہ ملیں وائر راڈ تیار کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتیں، سرمائے کے مسائل کا شکار انڈسٹری کے لیے 100 فیصد ان پُٹ ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کیا جائے ، سی پیک کے منصوبوں میں مقامی طور پرتیار ہونے والا سامان استعمال کرنے کی اجازت دی جائے : پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج سٹیل پروڈیوسرز

142

اسلام آباد : پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج سٹیل پروڈیوسرز نے بجٹ برائے مالی سال 2020-21  میں انڈسٹری سے متعلق فیصلوں کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں کمی کرتے ہوئے رولنگ ملوں کو بائلٹس درآمد کرنے کی اجازت دی ہے مگر ان رولنگ ملوں کی جانب سے اس چھوٹ کا غلط استعمال کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ ان  کے پاس وائر راڈ بنانے کی صلاحیت نہیں ہے۔

ایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں صرف تین سے چار کارخانوں کے پاس بائلٹس کی مدد سے وائر راڈ بنانے کی صلاحیت ہے اور مقامی طور پر بائلٹس بنانے والے انکی مانگ پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لہذا بائلٹس کی درآمد پر ٹیکسوں اور ڈیوٹی کی چھوٹ سے مقامی سطح پر وائرراڈ بنانے والوں کے علاوہ ملک میں سٹیل بائلٹس بنانے کی صنعت بھی متاثر ہوگی جبکہ درآمدات میں اضافے کی وجہ سے  زرمبادلہ کا نقصان الگ ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

جدہ کے 30محلوں میں کارخانے قائم کرنیکا فیصلہ

پاکستان کی معیشت کو کیسے درست کیا جائے؟

کورونا کے باعث قرض ادائیگیاں مؤخر ہونے سے پاکستان کو کتنے ارب ڈالر کی بچت ہوگی ؟

مزید برآں پاکستان  ایسوسی ایشن آف لارج سٹیل پروڈیوسرز کا کہنا تھا کورونا کے باعث ملکی فولاد سازی کی صنعت سرمائے کے مسائل کا سامنا کر رہی ہے اور سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن بی کے باعث بہت سا سرمایہ پھنسا ہوا ہے لہذا اس صورتحال کے پیش نظر حکومت انڈسٹری کے لیے 100 فیصد ان پٹ ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کرے۔

ایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ ری رول ایبل میٹیریل، شپ پلیٹس اور بائلٹس جو کہ تعمیراتی بارز کے اجزا ہیں ان میں قیمتوں کا فرق دو سے تین ہزار سے زائد نہیں ہونا چاہیے مگر اس وقت ان کی قیمتوں کے درمیان 14 ہزار سے 19 ہزار کا فرق ہے جس کی وجہ سے بائلٹ بنانے والے مالی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ایسوسی ایشن نے حکومت سے غیر رجسٹرڈ پارٹیوں کو فروخت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔  اس وقت سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 73 کا کلاز 4 غیر رجسٹرڈ پارٹیوں کو دس کروڑ سے زائد کی سیل کرنے سے روکتا ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ کلاز سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 8 کے کلاز ایم سے متصادم ہے جوکہ غیر رجسٹرڈ پارٹیوں اور اشخاص کو شناختی کارڈ یا این ٹی این نمبر کی بنا پر اشیا کی فروخت کی اجازت دیتا ہے۔

مزید برآں ایسوسی ایشن نے میلٹنگ انڈسٹری کو سہولت دینے کے لیے حکومت سے پگھلائے جانے والے بھاری سکریپ پر کسٹم ڈیوٹی ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

اس کے علاوہ ایسوسی ایشن نے حکومت سے پی سی ٹی کوڈ 9917 میں ترمیم کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ مقامی طور پر تیار ہونے والا عالمی معیار کا سامان گوادر پورٹ، سپیشل اکنامک زونز اور سی پیک سے متعلقہ دیگر منصوبوں میں استعمال کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ اس وقت ملک میں سٹیل کی پیداوار کرنے والے کارخانوں کی تعداد دو سو سے زائد ہے جو کہ مجموعی طور پر چار ٹن سٹیل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان خارخانوں سے حکومت کو ہر سال سو ارب روپے حاصل ہوتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here