رواں سال آم کی پیداوار میں سات لاکھ ٹن تک کمی کا خدشہ 

201

اسلام آباد: کورونا وائرس کی وجہ سے تجارتی مشکلات، ٹڈی دل کے حملوں اور غیرموزوں موسمی حالات کے باعث رواں سال آم کے کاشتکار اور برآمد کنندگان کو مسائل کا سامنا ہے۔

نیشنل ایگری کلچر ریسرچ کونسل (این اے آرسی) کے ڈائریکٹر ہارٹی کلچر تاج نصیب خان نے کہا ہے کہ رواں سال آم کی پیداوار 11 لاکھ ٹن تک رہنے کا امکان ہے جبکہ گزشتہ سیزن میں 18 لاکھ ٹن پیداوار حاصل ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سرد موسم کی طوالت اور پھل لگنے کے عمل کے دوران آندھیوں کے علاوہ ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے رواں سال آم کی پیداوار میں 7 لاکھ ٹن تک کمی کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے زراعت کے چیئرمین احمد جواد نے کہا ہے کہ رواں سال آم کی برآمدات میں 30 ہزار ٹن تک کمی کا امکان ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایک لاکھ 30 ہزار ٹن آم برآمد کیا گیا تھا تاہم رواں سال کووڈ 19- کی وجہ سے تجارتی مسائل اور آم کی فضائی ترسیل کے کرایوں میں اضافہ اور درآمدی ممالک تک کم پروازوں کی دستیابی کے باعث برآمدات میں تیس ہزار ٹن کمی متوقع ہے۔

پھل و سبزیوں کی درآمد، برآمد اور تجارت کے ادارے (پی وی اے ) کے پیٹرن انچیف محمد احمد وحید نے کہا ہے کہ قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی جانب سے آم کی برآمد پر فضائی کرایوں میں کمی کا فیصلہ قابل تحسین ہے جس کے بعد برآمد کنندگان اس قابل ہو سکیں گے کہ وہ عالمی مارکیٹ مےں آم برآمد کرنے والے دیگر ممالک کا بہتر مقابلہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی آم اپنے ذائقہ اور معیار کی وجہ سے دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے تاہم رواں سال آمد کا سیزن کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کے لئے ایک اچھا سال ثابت نہیں ہوگا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here