‘دو ماہ گزرنے کے باوجود تعمیراتی صنعت کیلئے اعلان کردہ پیکج پر عملدآمد نہیں ہو سکا’

کنسٹرکشن انڈسٹری کے فروغ سے معیشت کا پہیہ چلے گا، ابھی تک کسی محکمہ نے نوٹیفیکیشن تک جاری نہیں کیا، وزیر اعظم نوٹس لیں: صدر اسلام آباد چیمبر

206

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد احمد وحید نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے اعلان کردہ مراعاتی پیکج پر دوماہ گزرنے کے باوجود عمل درآمد نہیں ہو سکا کیونکہ کسی بھی محکمہ نے پیکج کے حوالے سے ابھی تک کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اس صورتحال کا نوٹس لیں اور پیکج کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام متعلقہ محکموں کو فوری احکامات جاری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ کنسٹرکشن انڈسٹری کے فروغ سے معیشت کا پہیہ تیزی سے چلے گا کیونکہ 50 سے زائد ذیلی صنعتوں کا کاروبار اس انڈسٹری سے وابستہ ہے۔ تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی آنے سے مارکیٹوں میں کاروبار بڑھے گا، سرمایہ گردش کرے گا، ہزاروں افراد کو روزگار ملے گا جس سے معاشرے میں غربت کم ہو گی جبکہ پاکستان ہائوسنگ پروگرام کے تحت گھروں کی تعمیر سے کم آمدن والے افراد کو اپنی چھت ملے گی۔

صدر اسلام آباد چیمبر نے کہا کہ وزیراعظم اپنے اعلان کردہ پیکج پر فوری عمل درآمد کیلئے اقدامات اٹھائیں۔

احمد وحید نے کہا کہ کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کی وجہ سے صنعتی پیداوار میں 40 فیصد کمی ہو گئی ہے، مارکیٹوں میں گذشتہ تین ماہ سے کہیں سمارٹ اور کہیں مکمل لاک ڈائون کے نتیجے میں صنعتی شعبے کی سپلائی بہت متاثر ہوئی ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو کارپوریٹ شعبے کی بے شمار کمپنیاں ڈیفالٹ ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسی صورتحال میں کارخانوں میں کام کرنے والی لیبر کو کب تک ادائیگیاں کی جا سکتی ہیں اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو آئندہ سال بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کو مزید بگڑنے سے بچانے کیلئے سے حکومت فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کرنے کے باوجود اس کا فائدہ ابھی تک نچلی سطح تک عوام کو نہیں پہنچایا جا سکا۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے بجلی کے نرخوں میں بھی کمی کی جاتی تاکہ صنعتی پیداوار کی لاگت کم ہوتی جس سے ہماری ایکسپورٹ علاقائی و عالمی مارکیٹ میں بہتر مقابلہ کر سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے پیداواری لاگت کافی زیادہ ہو چکی ہے جس سے پاکستانی ایکسپورٹس متاثر ہو رہی ہیں لہٰذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی کی قیمت فوری طور پر کم کی جائے جس کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں کمی کی تھی لیکن موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ شرح سود کو مزید کم کر کے 4 فیصد تک لایا جائے تا کہ نجی شعبے کو کاروبار کو وسعت دینے اور نئی سرمایہ کاری کرنے کیلئے سستی فنانسنگ ملے جس سے معیشت تنزلی سے نکل کر تیزی سے بحالی کی طرف گامزن ہو گی۔

صدر اسلام آباد چیمبر نے کہا کہ نئے وفاقی بجٹ میں اسلام آباد کے گھروں اور فارم ہائوسز پر بھاری لگژری ٹیکس لگانے کی تجویز سراسر زیادتی ہے۔ گذشتہ برس ایم سی آئی نے اسلام آباد میں پراپرٹی ٹیکس میں تین سو فیصد اضافہ کر دیا تھا جبکہ اسلام آباد کے شہری پہلے ہی گھروں پر چھ قسم کے ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں لگژری ٹیکس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں چھوٹے تاجروں کیلئے فکسڈ ٹیکس کا اعلان کیا گیا ہے جس کی تفصیلات ابھی تک فراہم نہیں کی گئی ہیں لہٰذا انہوں نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ سے مطالبہ کیا کہ چیمبرز کے ساتھ مشاورت کر کے فکسڈ ٹیکس رجیم کو حتمی شکل دی جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here