کے پی حکومت عوام پر مہربان، بجٹ میں متعدد ٹیکسوں پر چھوٹ دے دی

پراپرٹی ٹیکس ایک سال کے لیے مؤخر، سکولوں اور کالجوں کی فیسوں پر ٹیکس چھوٹ، گاڑیوں کی دوبارہ رجسٹریشن کی فیس اور دوسروں صوبوں سے این او سی کی شرط ختم، 18 پروفیشنل شعبہ جات سمیت متعدد شعبوں پر ٹیکس ختم

205

پشاور : خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال 2020۔21ء کے لیے اعلان کردہ بجٹ میں عوام کو متعدد ٹیکسوں میں رعایت دے دی۔

فنانس بل 2020-21ء کے مطابق خیبر پختونخوا میں پراپرٹی ٹیکس کا نفاذ جون 2021ء تک نہیں ہوگا تاہم موجودہ پراپرٹی ٹیکس 25 سے 30 فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ 12 اقساط میں 31 جون 2021ء تک ادا کیا جا سکتا ہے۔

عدم ادائیگی کی صورت میں حکومت کارروائی کرے گی اور واجبات کی ادائیگی تک جائیدادوں کے منتقلی پر پابندی لگا دے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

گوادر میں انکم ٹیکس کی چھوٹ کی مدت کے سوال پر پاکستان کی سینیٹ کو کیا جواب دیا گیا؟

ایف بی آر 75 دن میں قاضی فائز عیسی کی فیملی کی ٹیکس رپورٹ جمع کروائے: سپریم کورٹ

خیبر پختونخوا کا ورلڈ بنک کی معاونت سے لاکھوں ایکڑ بنجر رقبہ زرعی استعمال میں لانے کا فیصلہ

مزید برآں پراپرٹی ٹیکس میں لوکیشن کے عنصر کو بھی کم کر دیا گیا ہے اور وقت پر ٹیکس ادا کرنے والوں کے لیے 35 فیصد رعایت کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسی طرح شہروں میں کمرشل پراپرٹیز پر ٹیکس میں بھی کمی کر دی گئی ہے تاہم صوبائی دارالحکومت میں کمرشل پراپرٹیز پر 40 ہزار روپے، ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں کمرشل پراپرٹی پر تین ہزار روپے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں کمرشل پراپرٹی پر 20 ہزار روپے سالانہ فکسڈ ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے۔

اسی طرح کار واش اور فلنگ سٹیشنز کی کمرشل پراپرٹی پر سالانہ 15 ہزار روپے ٹیکس دینا ہو گا۔

مزید برآں کے پی حکومت نے 200 چھوٹی صنعتوں اور کاروباروں پر ٹیکس ختم جبکہ ہوٹلوں اور ریستورانوں پر ٹیکس 15 فیصد سے کم کرکے 08  فیصد کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ اٹھارہ شعبوں پر پروفیشنل ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن کو بڑھانے کے لیے حکومت نے دوبارہ رجسٹریشن کی فیس اور دوسرے صوبوں سے این او سی کی شرط کو ختم کردیا ہے۔

اسی طرح ہیومن ریسورس سیکٹر اور لیبارٹریز  پر ٹیکس 15 فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد، بیوٹی پارلرز پر آٹھ فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد ، ہوائی اڈے پر 15 فیصد سے کم کرکے آٹھ فیصد، درمیانے درجے کی لانڈریوں پر آٹھ فیصد سے کم کرکے 2 فیصد، ریلوے کارگو پر 15 فیصد سے کم کرکے دو فیصد اور نیلامی کی سروسز پر ٹیکس 15 فیصد سے کم کرکے دو فیصد کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کییٹل ویلیو ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی پر دی جانے والی چھوٹ برقرار رکھی گئی ہے۔

اس کے علاوہ بل کی بنیاد پر امپورٹ، ایکسپورٹ لائسنس ہولڈر، کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس، ٹریول ایجنٹس، ریستوران گیسٹ ہاؤسز، شادی ہالوں، اشتہاری ایجنسیوں، ڈاکٹروں، ٹھیکیداروں، سپلائروں، پٹرول، ڈیزل، سی این جی، فلنگ سٹیشنز، ویڈیو شاپس، سٹیل اسسٹنٹ انجئینرز، سٹاک ایکسچینج کے ممبران، منی مینیجرز، کیبل آپریٹرز، صحت کے مراکز کو ٹیکس پر چھوٹ دی گئی ہے تاہم ٹیکس میں رعایت کی اس سہولت سے فائدہ اُٹھانے کے لیے انہیں خود کو خیبر پختونخواہ ریونیو اتھارٹی سے رجسٹر کروانا ہوگا۔

مزید برآں حکومت نے پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کے تمام سرکاری سکولوں اور پروفیشنل آرٹس کالجز کو فیسوں پر ٹیکس چھوٹ دے دی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here