یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹے، چینی کی قلت کا مسئلہ دو تین دن میں حل کر لیا جائیگا، ایم ڈی

پاکستان پوسٹ یوٹیلیٹی سٹورز کے ساتھ کیش آن ڈیلیوری کے عمل میں معاونت فراہم کرے گا،  جولائی تک ملک بھر میں مزید ایک ہزار سٹورز قائم کیے جائیں گے، عمر حبیب خان لودھی

224

اسلام آباد: مینجنگ ڈائریکٹر یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن عمر حبیب خان لودھی نے کہا ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹے اور چینی کی قلت کا مسئلہ آئندہ دو تین دن میں حل ہو جائیگا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عمر لودھی نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورنے شہریوں کو گھروں پر اشیاء کی فراہمی کا منصوبہ بنایاہے، پاکستان پوسٹ کے ساتھ مل کر لوگوں کو ہو م ڈیلیوری شروع  کر رہے ہیں۔ آئندہ ایک ماہ میں پاکستان پوسٹ کے ساتھ مل کر کام شروع کر دیں گے، ابتدائی طور پر اسلام آباد سے یہ منصوبہ شروع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے پاکستان پوسٹ کا ریونیو بھی بڑھے گا، جولائی تک ملک بھر میں مزید ایک ہزار سٹورز قائم کر دیے جائیں گے، پشاور، کراچی، لاہور، ملتان میں میگا سٹورز قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔

عمر لودھی نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹور میں لازمی سروسز ایکٹ کا نفاذ کیا گیا ہے، کورونا کی وجہ سے لاک ڈائون جیسے معاملات کے متحمل نہیں ہو سکتے صرف اس لیے لازمی سروسز ایکٹ نافذ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلی سہ ماہی تک یوٹیلیٹی سٹورز کا خسارہ ختم ہو جائے گا، ہمارا 8 ارب روپے کا قرضہ ہوتا تھا جو آج 2 ارب روپے تک آ گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب عمر لودھی نے کہا کہ یہ پہلا حکومتی ادارہ ہوں گے جو منافع میں ہو گا، یوٹیلیٹی سٹورز کا بنیادی مسئلہ کمپیوٹرائزیشن نہ ہونا ہے، ہم آٹومیشن پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پانچ بنیادی اشیائے خوردونوش پر وفاقی حکومت کی طرف سے دی گئی سبسڈی کا سلسلہ جاری رہے گا، آٹا، چینی، گھی، دال اور چاول پر 20 فی صد تک رعایت دی جارہی ہے۔

مینجنگ ڈائریکٹر یوٹیلیٹی سٹورز نے کہا کہ کارپوریشن کی انتظامیہ کی بہترین حکمت عملی اور بر وقت اقدامات کی وجہ سے رمضان ریلیف پیکج خوش اسلوبی اور کامیابی سے مکمل ہوگیا ہے جبکہ وفاقی حکومت کی طرف سے دی گئی سبسڈی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان ریلیف پیکج کے دوران یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی تاریخ کی سب سے زیادہ سیلز ریکارڈ کی گئی جو کہ تقریبا 22ارب روپے بنتی ہے۔ اس پیکج کے دوران یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی خدمات تقریباً 7.3 ملین گھرانوں تک پہنچائی گئی جو کل گھرانوں کا 22 فیصد بنتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here