یورپی یونین 63 سالہ تاریخ میں بدترین کساد بازاری کا شکار

رکن ملکوں پر دبائو بڑھنے لگا، 750 ارب یورو کے پیکج کی تجویز، کورونا متاثرہ بلاک کی معاشی بحالی بارے اقدامات پر غور 

125

برسلز: یورپی رہنماﺅں کے اہم اجلاس میں کورونا وائرس سے متاثرہ بلاک کی معاشی بحالی بارے اقدامات پر غور کیا جائے گا تاہم اس حوالے سے رہنماﺅں میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین اپنی 63 سالہ تاریخ میں بدترین کساد بازاری سے گزر رہی ہے اور رکن ملکوں پر دبائو بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے ملکوں کے ساتھ ساتھ پورے براعظم کی معاشی بحالی کے لیے اقدامات کریں۔

جمعہ کو شروع ہونے والے ورچوئل اجلاس کے لیے یورپی کمیشن کے سربراہ ارسلا وون ڈر لیئن نے معاشی بحالی کے 750 ارب یورو (840 ارب ڈالر) کے پیکج کی تجویز دی ہے، اگر اس تجویز کو مان لیا جاتا ہے تو یہ یورپی یونین کے اتحاد میں ایک تاریخی سنگ میل ہوگا۔

اس معاشی پیکج میں سے 500 ارب یورو گرانٹ کی شکل میں ہوگا جبکہ 250 ارب یورو قرضوں کی شکل میں یورپی یونین کے ممالک کو دیے جائیں گے تاکہ خطے کی معیشت کو جلد بحال کیا جا سکے تاہم ہالینڈ، سویڈن، ڈنمارک اور آسٹریا کی جانب سے اس تجویز کو شدید مخالفت کا سامنا ہے جنہوں نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ گرمیوں کے آخر تک اخراجات پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔

جرمنی کے ایک حکومتی عہدے دار نے کہا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ ہم اجلاس میں کوئی ضروری معاہدے تسلیم نہیں کریں گے، ہم مشکلات سے آگاہ ہیں، یہ بہت اہم کام ہوگا۔

واضح رہے کہ جرمنی یکم جولائی سے یورپی یونین کی صدارت سنبھال لے گا اور مذاکرات کو آگے لے کر چلے گا، ایک فرانسیسی ذریعے نے اس اجلاس کو وارم اپ رائونڈ قرار دیا ہے جو جولائی میں ہونے والے یورپی رہنمائوں کے سمجھوتے سے قبل کے حالات کو جانچنے کے لیے ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here