کووڈ۔ 19: خیبر پختونخوا میں سیاحت کو 4 ارب روپے کا نقصان

سوات میں قائم 400 ہوٹلز اور گیسٹ ہائوسز سے 23 ہزار لوگوں کا براہ راست روزگار وابستہ، کورونا وائرس کے باعث سیاحت پر پابندی سے ہزاروں افراد کے روزگار متاثر ہو چکے ہیں: سوات ہوٹل ایسوسی ایشن

97

اسلام آباد: کورونا وائرس کی عالمگیر وباء کی وجہ سے عائد ہونے والی پابندیوں کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاحتی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اربوں ڈالر کی یہ انڈسٹری اب زوال پذیر ہو چکی ہے اور اس سے وابستہ لاکھوں کارکن بے روزگار ہو چکے ہیں۔

کووڈ۔ 19 کے باعث پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا (کے پی) میں بھی سیاحت کے شعبہ کو چار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کے پی میں سیاحت کے فروغ کے محکمہ کے مطابق گزشتہ سیزن کے دوران 20 لاکھ افراد نے سیاحتی مقامات کا رخ کیا تھا جن میں 20 ہزار غیر ملکی تھے جو ریکارڈ تعداد ہے۔

کووڈ۔ 19 کی حالیہ وبا کے باعث سیاحت کے شعبہ کو ہونے والے اعدادوشمار دستیاب نہیں تاہم خیبر پختونخوا حکومت کے اندازوں کے مطابق اس صورتحال سے سیاحت کے شعبہ کو 3 سے 4 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

خیبر پختونخوا میں سیاحتی صنعت سے وابستہ دیہاڑی دار لوگوں کی تعداد 56 ہزار ہے جو وباء سے متاثر ہوئے ہیں۔

سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے مطابق سوات میں قائم 400 ہوٹلز اور گیسٹ ہائوسز سے 23 ہزار لوگوں کا براہ راست روزگار وابستہ ہے جبکہ صوبہ کے دیگر سیاحتی مقامات پر بھی ہزاروں ہوٹلز اور رہائش گاہیں موجود ہیں اور کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے سیاحت پر پابندی سے شعبہ سے منسلک ہزاروں افراد کے روزگار متاثر ہوئے ہیں۔

گزشتہ روز آل پاکستان ہوٹلز گیسٹ ہاﺅسز اینڈ ٹورازم ایسوسی ایشن کے رہنماﺅں نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی تھی کہ ملک بھر میں سیاحت کے فروغ اور سیاحت کے شعبے سے متعلق سرمایہ کاروں اور ملازمین کو فاقہ کشی سے بچانے کے لئے فوری طور پر سیاحتی مراکز کھولے جائیں۔

چیئرمین آل پاکستان ہوٹلز گیسٹ ہاﺅسز طاہر اورکزئی نے کہا تھا کہ مری، گلیات، بالاکوٹ، ناران، سوات، مالم جبہ، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور دیگر سیاحتی مراکز کو فوری طور پر کھولا جائے کیونکہ کورونا کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں کی بندش کے باعث ہوٹل انڈسٹری اور ریزورٹس سے متعلق کاروباروں سے وابستہ لوگ  بے روزگار ہو کر رہ گئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں اس کاروبار سے وابستہ ورکر اور ان کے اہل خانہ روزی روٹی سے محروم ہیں۔

ایسوسی ایشن کے صدر گلریز خٹک نے کہا کہ ایس او پیز کی مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ ایسے کاروبار کھولنے کی اجازت دی جائے جن سے ملک میں سرمایہ آئے اور حکومت کو ٹیکسوں سے آمدن بھی حاصل ہو سکے، ہم حکومت کے ساتھ ہیں اور کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے حکومت کے ہر ممکن معاونت کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاﺅن نے عالمی معاشی بحران کو جنم دیا ہے تاہم سب سے زیادہ متاثر وہ ممالک ہوئے ہیں جن کی معیشت کا انحصار سیاحت جیسے خدمات کے شعبوں پر ہے۔

 آئی ایم ایف کی چیف ماہر معاشیات گیتا گوپی ناتھ کے مطابق کورونا وباء سے دنیا بھر میں پیداواری و کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں جس سے عالمی سطح پر معاشی بحران نے جنم لیا۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں وہ ممالک ہیں جن کی معیشت کا انحصار سیاحت کے شعبے پر تھا، سیاحتی سرگرمیوں کے تعطل سے ان کی اقتصادی شرح نمو بہت زیادہ خراب ہوئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here