قطر ائیر ویز کا ایک سال تک نئے طیارے نہ خریدنے، بوئنگ، ائیر بس کے آرڈرز منسوخ کرنے کا فیصلہ

ہم نے بوئنگ اور ایئربس کو مطلع کر دیا ہے، جو طیارے اگلے دو یا تین سال میں ائیر لائن کو فراہم کیے جانے تھے، اب انکی ڈلیوری کو 8 سے 10 سال تک پیچھے کر دیا جائے گا: چیف ایگزیکٹو قطر ائیر ویز

280

دوحہ: کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی ایوی ایشن انڈسٹری زوال کا شکار ہے، فضائی سفر محدود ہونے کی وجہ سے ائیر لائنز کو خسارے کا سامنا ہے جس سے نبرد آزما ہونے کیلئے ناصرف بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفیاں کی جا رہی ہیں بلکہ نئے طیارے خریدنے کے آرڈرز بھی منسوخ ہونے لگے ہیں۔

قطر کی سرکاری ائیرلائن قطر ائر ویز نے ایک سال نئے طیارے نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بوئنگ اور ائیربس کو دئیے گئے آرڈرز بھی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قطر ائیر ویز کے چیف ایگزیکٹو اکبر الباقر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء کے باعث ہوائی سفر میں  نمایاں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے قطر ایئر ویز 2020ء تا 2021ء کوئی نیا طیارہ نہیں خریدے گی اور پہلے سے بوئنگ اور ایئربس خریدنے کے آرڈرز بھی موخر کر دے گی۔

قطر کے ذرائع ابلاغ کے مطابق قطر ایئر ویز کے چیف ایگزیکٹو نے کہا ہے کہ ہم نے پہلے ہی بوئنگ اور ایئربس دونوں کو اس بارے مطلع کر دیا ہے اور باقی تمام طیارے جن کا ہم نے آرڈر دیا تھا جو اگلے دو یا تین سال میں ہمیں فراہم کیے جانے تھے، اب ان کی ڈلیوری کو 8 سے 10 سال تک پیچھے کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب قطر ایئر ویز نے بھی دیگر عالمی فضائی کمپنیوں کی طرح ملازمین کی برطرفی کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ ملازمین بالخصوص غیر ملکی ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق موجودہ معاشی بحران کے باعث قطر ایئر ویز کے متعدد پائلٹس کو نوکریوں سے فارغ کیا جا رہا ہے جبکہ باقی پائلٹس کی تنخواہوں میں کمی کی جا رہی ہے جو کہ 15 سے 25 فیصد تک ہو گی تاہم یہ کٹوتی قطری ملازمین کی تنخواہوں میں سے نہیں ہو گی بلکہ غیر ملکی ملازمین کی تنخواہوں میں سے کی جائے گی۔

اس حوالے سے قطر ایئر ویز کی جانب سے اپنے ملازمین کو ایک آفیشل ای میل کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق قطر ایئر ویز کی جانب سے اپنے بیشتر ملازمین کو کئی مہینوں کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔ قطر ایئر ویز کی جانب سے کچھ عرصہ قبل کہا گیا تھا کہ کمپنی کے کل 40 ہزار میں سے 20 فیصد ملازمین کو برطرف کیا جائے گا تاہم بعد میں کمپنی کا بیان سامنے آیا کہ 20 فیصد سے کم ملازمین کو برطرف کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سینکڑوں ملازمین کی نوکریاں ختم کرنے کے علاوہ ایمریٹس اور اتحاد ایئر لائنز نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں کمی بھی کر دی ہے۔ دونوں ائر لائنز کی جانب سے اپنے ملازمین کو ستمبر 2020ء تک کم تنخواہ دی جائے گی۔

ایمریٹس نے بھی اپنے ملازمین کو ایک آفیشل ای میل بھیجی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایمریٹس نے تین ماہ کے لیے جو تنخواہوں میں کٹوتی کا اعلان کیا تھا اس کی مُدت بڑھا کر 30 ستمبر 2020ء تک کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل تنخواہوں میں کٹوتی کا یہ دورانیہ اس مہینے جون میں ختم ہونا تھا۔

ای میل کے مطابق کچھ کیسز میں تنخواہوں میں زیادہ کٹوتی ہوگی، جو کہ پچاس فیصد تک ہو سکتی ہے۔ ای میل میں یہ بھی لکھا تھا کہ یہ فیصلہ کمپنی کی کیش کی صورتحال کو بچانے کے لیے تمام آپشنز کا جائزہ لینے کے بعد کیا جارہا ہے، تاہم یہ کٹوتی کم درجے والے ملازمین پر لاگو نہیں کی گئی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here