دنیا بھر میں بے گھر افراد کی تعداد 8 کروڑ تک پہنچ گئی 

مہاجرت کے بحران سے شام، وینزویلا، افغانستان اور جنوبی سوڈان کے شہریوں کے علاوہ روہنگیا باشندے سب سے زیادہ متاثر، 73 فیصد مہاجرین پڑوسی ممالک میں پناہ کی تلاش میں پہنچے، 2019ء میں 46 ملین اپنے ہی ملک میں بے گھر ہوئے: اقوام متحدہ

302
KUTUPALONG, BANGLADESH - SEPTEMBER 17: Sameera, 20, looks our from a cement cylinder holding her 7 month old baby where the family are living until a shelter is built September 17, 2017 in Kutupalong, Cox's Bazar, Bangladesh. Over 400,000 Rohingya refugees have fled into Bangladesh since late August during the outbreak of violence in the Rakhine state. Recent satellite images released by Amnesty International provided evidence that security forces were trying to push the minority Muslim group out of the country. Myanmar's de facto leader Aung San Suu Kyi cancelled her trip to the United Nations General Assembly in New York, which begins next week, while criticism of her handling of the Rohingya crisis grows and her government has been accused of ethnic cleansing. According to reports, the Rohingya crisis has left at least 1,000 people dead, including children and infants. Dozens of Rohingya Muslims drowned when their Ill-equipped, overloaded boat capsized in rough waters. (Photo by Paula Bronstein/Getty Images)

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا کی آبادی کا ایک فیصد سے زیادہ ( تقریبا 8 کروڑ افراد) پر تشدد کارروائیوں اور جبر کے سبب اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو کر دور دراز مقامات پر زندگی گزار رہے ہیں۔

عالمی ادارے کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے زیر انتظام پناہ گزینوں کے ہائی کمیشن کی آخری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2019ء کے اختتام پر 7.95 کروڑ افراد ایسے تھے جو پناہ گزین تھے یا پناہ کے طالب تھے یا پھر اپنے ملکوں کے اندر ہی نقل مکانی کر کے بے گھر ہو چکے تھے۔ ان افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کے مواقع بھی کم ہو گئے ہیں۔

پناہ گزینوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ دنیا کی ایک فیصد آبادی جنگوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تشدد کی دیگر صورتوں کے سبب اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکتی۔

انہوں نے بتایا کہ بحرانوں کو روکنے کے لیے سیاسی حل کافی نہیں ہیں، وہ بحران جن کے نتیجے میں لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو جاتے ہیں اور پھر واپس نہیں آ پاتے۔ دس برس قبل بے گھر افراد کی تعداد 4 کروڑ تھی جو ایک دہائی کے اندر دگنی ہو گئی اور ہمارے نزدیک یہ رجحان سست نہیں پڑے گا۔

اقوام متحدہ نے مزید انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال بے گھر ہونے والے افراد کی وطن واپسی کا عمل نہایت مشکل رہا ہے۔ 2018ء کے مقابلہ میں 2019ء کے دوران مہاجرین کی تعداد میں 9 ملین کا اضافہ ہوا ہے۔

ہجرت کے اس بحران سے شام، وینزویلا، افغانستان اور جنوبی سوڈان کے شہریوں کے علاوہ روہنگیا باشندے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ہجرت پر مجبور 73 فیصد افراد پڑوسی ممالک میں پناہ کی تلاش میں پہنچے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران وطن واپس لوٹنے والے مہاجرین کی تعداد 4 لاکھ سے بھی کم رہی ہے جبکہ 1990ء کی دہائی میں یہ تعداد ڈیڑھ کروڑ تھی۔

فیلیپو گرانڈی نے کہا ہے کہ 10 سال قبل دنیا بھر میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً 40 ملین تھی جو اب دوگنا ہوگئی ہے اور اس رجحان میں کمی نظر نہیں آ رہی۔

یو این رپوٹ کے مطابق 2019ء کے آخر میں قریب 46 ملین افراد اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو گئے جبکہ 26 ملین سرحدیں پار کرکے مہاجرین بن گئے، ان میں تقریباً 4.2 ملین پناہ کے متلاشی تھے جبکہ وینزویلا سے بیرون ملک نقل مکانی کرنے والے مزید 3.6 ملین مہاجرین ان میں شامل نہیں ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here