ری فنانس سکیم کے تحت 10 لاکھ 44 ہزار ملازمین کے روزگار کو تحفظ فراہم کیا: سٹیٹ بینک

12 جون تک 2227 کاروباری اداروں، کمپنیوں نے 13 لاکھ 28 ہزار 793 ملازمین کے روزگار کے تحفظ کیلئے ایک کھرب 37 ارب 31 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے کیلئے درخواستیں دائر کیں، 1503 اداروں کیلئے ایک کھرب 7 ارب 48 کروڑ 60 لاکھ روپے قرضے کی منظوری دی گئی: مرکزی بینک 

129

اسلام آباد: کورونا وائرس کی وبا کے دوران روزگار کے تحفظ کیلئے سٹیٹ بینک کی سکیم کے تحت اب تک 10 لاکھ 44 ہزار ملازمین کے روزگار کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

سٹیٹ بنک نے کورونا وائرس کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اور بے روزگاری روکنے کے لیے یہ سکیم متعارف کرائی ہے۔ سکیم کے تحت کاروباری ادارے مستقل، کنٹریکٹ اور دیہاڑی دار سمیت ہر قسم کے ملازمین و آوٹ سورس کارکنان کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے سستے قرضے حاصل کرسکتے ہیں۔

سکیم کے تحت اپریل 2020ء سے جون 2020ء کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے والے ادارے ملازمین کی تین ماہ کی تنخواہوں کے لیے 5 فیصد شرح سود پر قرض حاصل کرسکتے ہیں جبکہ فعال ٹیکس گزاروں کی فہرست میں شامل ادارے چار فیصد کی شرح پر قرضہ لے سکیں گے۔

سکیم میں ان چھوٹے کاروباری اداروں کو ترجیح دی جارہی ہے جن کاروباری اداروں کی تین ماہ کی اجرتوں اور تنخواہوں کا خرچ 20 کروڑ روپے تک ہے، وہ اس پوری رقم کی فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 12 جون تک اس سکیم کے تحت 2227 کاروباری اداروں اور کمپنیوں نے 13 لاکھ 28 ہزار 793 ملازمین کے روزگار کے تحفظ کیلئے ایک کھرب 37 ارب 31 کروڑ روپے سے زائد کے قرضہ کیلئے درخواستیں دائر کیں۔

اعدادوشمار کے مطابق سٹیٹ بینک نے ان میں سے 1503 اداروں اور کمپنیوں کی جانب سے ایک کھرب 7 ارب 48 کروڑ 60 لاکھ روپے تک کے قرضہ درخواستوں کی منظوری دی اور یوں 10 لاکھ  44 ہزار ملازمین کے روزگار کو تحفظ فراہم کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here