وزارت خزانہ نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے نو ارکان کے نام شارٹ لسٹ کرلیے

شارٹ لسٹ کیے گئے ارکان میں تین سابق ارکان بھی شامل، کمیشن اس وقت دو ارکان کے ساتھ کام کر رہا ہے جبکہ کورم پورا کرنے کے لیے پانچ ارکان درکار ہوتے ہیں، ایک بار پھر متنازعہ راحت کونین کو کمیشن کا سربراہ بنائے جانے کا امکان

266

اسلام آباد : وزارت خزانہ نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے نو ارکان کے نام شارٹ لسٹ کرلیے۔

ان ناموں کی حتمی منظوری کے لیے سمری وفاقی کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق شارٹ لسٹڈ کیے گئے اُمیدواروں میں مسابقتی کمیشن کی سابق چئیرپرسن راحت کونین اور کمیشن کے سابق ارکان معین بیٹلے اور شمائلہ لون شامل ہیں۔

راحت کونین اس وقت بطور وکیل پریکٹس میں مصروف ہیں اور حسن کونین لا فرم کے ساتھ منسلک ہیں۔ وہ اس سے پہلے دو مرتبہ کمیشن میں خدمات فراہم کرچکی ہیں اور سن  2010 سے 2013 تک وہ اس کی سربراہ بھی رہیں۔

ذرائع کا بتانا تھا کہ اس مرتبہ بھی کمیشن کی سربراہی راحت کونین کو ہی سونپے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کیا پاکستان کا بینکاری نظام کورونا وبا کا مقابلہ کرنے کا اہل ہے؟

گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں کم نہ ہونے پر مسابقتی کمیشن کو تحقیقات کا حُکم

کفایت شعاری مہم : حکومت نے ایوان صدر کے بجٹ میں 60 فیصد کٹوتی کردی

ماضی میں جب راحت کونین کمیشن کی سربراہ تھیں تو ڈاکٹر حفیظ شیخ وزیر خزانہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔

اس دور میں ان پر اپنے خاوند کی فرم کو نوازنے اور تحقیقات کا سامنا کرنے والی ٹیلی کام کمپنیوں کو جواب تیار کرکے دینے کا الزام لگایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مسابقتی کمیشن کی خالی اسامیوں پر بھرتی کے لیے وزارت خزانہ کو پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسز کے ریٹائرڈ افسران سمیت 100 کے قریب افراد کی درخواستیں موصول ہوئیں جس کی جانچ پڑتال کے لیے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، مشیر تجارت اور سیکرٹری فنانس پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیا گیا جس نے امیدواران کے انٹرویوز کیے۔

ذرائع کے مطابق پینل کےممبر ڈاکٹر عشرت حسین نے اسامیوں کو پر کرنے کے لیے دیے جانے والے اشتہار میں سلیکشن کے طریقہ کار پر اعتراضات اُٹھاتے ہوئے متعدد درخواستیں رد کردیں۔ انکا کہنا تھا کہ اُمیدواران کے پاس ریگولیٹری تجربہ ہونا چاہیے۔

اس وقت مسابقتی کمیشن آف پاکستان دو ممبران کے ساتھ کام کررہا ہے یہ دونوں ارکان کمیشن کی قائم مقام سربراہ شائستہ بانو اور بشری ناز ملک ہیں۔

کمیشن کا کورم مکمل کرنے کے لیے مزید پانچ ارکان کی ضرورت ہے۔

ذرائع کا بتانا تھا حکومت کمیشن کے سربراہ کا اعلان ممبران کی تعیناتی کے بعد کرے گی۔

واضح رہے کہ چینی کمیشن کی تحقیقات منظر عام پر آنے کے بعد سوالات اُٹھائے جارہے تھے کہ کمیشن شوگر ملوں کے ناجائز اکٹھ پر مشکوک طور پر خاموش کیوں رہا ؟  جس کے بعد کمیشن کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here