کیا دیامر بھاشا ڈیم کی وجہ سے پانچ ہزار سال پرانے تاریخی ورثہ کو نقصان پہنچ رہا ہے؟

154

لاہور: سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس زیر گردش ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ دیا میر بھاشا ڈیم پراجیکٹ پر جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے وہاں موجود چٹانوں پر پانچ ہزار سال پرانی کندہ کاری اور نقوش کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

تاہم واپڈا ترجمان کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت واپڈا پراجیکٹ ایریا میں ثقافتی اور تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لئے مینجمنٹ پلان پر بھی کام شروع کر رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق مینجمنٹ پلان کا مقصد دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے باعث زیرِ آب آنے والی چٹانوں پر نقش کی گئی تصویروں اور تحریروں کو محفوظ بنایا جائے گا، چلاس فورٹ کی بحالی اور تزئین و آرائش کی جائے گی، میوزیم قائم کیا جائے گا اور گلگت بلتستان خصوصاً چلاس اور اِس کے ارد گرد واقع علاقوں میں ثقافتی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے مختلف اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔

دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کےلئے ثقافتی اور تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لئے مینجمنٹ پلان ورلڈ بنک، ایشائی ترقیاتی بنک، یونیسکو اور قومی و بین الاقوامی طریقہ کار اور معیار کے مطابق عالمی سطح پر معروف ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اِن بین الاقوامی ماہرین میں ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی میں منقش چٹانوں اور تحریروں کے ادارے سے وابستہ پروفیسرڈاکٹر ہیرالڈ ہاپٹ مین بھی شامل ہیں۔

ترجمان واپڈا کے مطابق دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے لئے ثقافتی اور تاریخی ورثہ کے تحفظ کیلئے مینجمنٹ پلان کی تفصیلات کے مطابق 7 ہزار سال قبل از مسیح سے لیکر 16 ویں صدی عیسوی تک کے مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والی تقریباً 5 ہزار اہم ترین تاریخی چٹانی نقوش کی تھری ڈی سکیننگ کی جائے گی ، ان کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، جن چٹانی نقوش کو منتقل کرنا ممکن ہے اُنہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے گا اور جن چٹانی نقوش کو منتقل کرنا ممکن نہیں، اُن کی نقول تیار کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے آبی ذخیرے میں پانی کی سطح کم ہونے پر خالی ہونے والے علاقوں میں موجود بھاری چٹانی نقوش کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات بھی عمل میں لائے جائیں گے جبکہ تاریخی چٹانی نقوش کے تحفظ کے لئے سائٹ پر بینرز ، سکرین اور علامات سمیت دیگر تمام احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جائیں گی۔ تاریخی چٹانی نقوش کے تحفظ سے ہمیں مختلف تاریخی ادوار میں لوگوں کے سماجی ، ثقافتی اور سیاسی رُجحانات کے ساتھ ساتھ مذہبی عقائد بھی جاننے میں مدد ملے گی۔

مینجمنٹ پلان کے تحت چلاس فورٹ کو بحال کیا جائے گا اور اِس کی تزئین و آرائش کی جائے گی، اِس کے علاوہ میوزیم، آرکائیوز اور لائبریری قائم کئے جائیں گے جبکہ چلاس اور نواحی علاقوں سمیت پراجیکٹ ایریا میں ثقافتی سیاحت کے فروغ کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں مقامی لوگوں کو سیاحتی گائیڈبننے میںمدد دینے کے لئے اُن کی استعداد میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here