پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 56 ارب روپے سے زائد ٹیکس ریلیف کا اعلان

بجٹ میں جی ایس ٹی آن سروس کی مد میں دیئے جانیوالے ریلیف پیکیج میں ہیلتھ انشورنس ، ڈاکٹرز کی مشورہ فیس اور ہسپتالوں پر ٹیکس کی شرح زیرو فیصد کرنے کی تجویز، 20 سے زائد سروسز پر ٹیکس ریٹ 16 فیصد سے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے، صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت

265

لاہور: پنجاب کے آئندہ مالی سال 2020۔21 ء کے بجٹ میں 56 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس ریلیف پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جی ایس ٹی آن سروس کی مد میں دیئے جانیوالے ریلیف پیکیج میں ہیلتھ انشورنس اور ڈاکٹرز کی مشورہ فیس اور ہسپتالوں پر ٹیکس کی شرح جو بالترتیب 16 اور 5 فیصد تھی کو کم کرکے زیرو فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے بجٹ تقریر میں کہا کہ 20 سے زائد سروسز پر ٹیکس ریٹ 16 فیصد سے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے جن میں چھوٹے ہوٹلز اور گیسٹ ہاﺅسز، شادی ہال، لانز، پنڈال اور شامیانہ سروسز و کیٹررز، آئی ٹی سروسز، ٹوور آپریٹرز، جم، پراپرٹی ڈیلرز، رینٹ اے کار سروس، کیبل ٹی وی آپریٹر ز، ٹریٹمنٹ آف ٹیکسٹائل اینڈ لیدر، زرعی اجناس سے متعلقہ کمیشن ایجنٹس، آڈیٹنگ، اکاﺅنٹنگ اینڈ ٹیکس کنسلٹینسی سروسز، فوٹو گرافی اور پارکنگ سروسز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پراپرٹی بلڈرز اور ڈویلپرز سے بالترتیب 50 روپے فی مربع فٹ اور 100 روپے فی مربع گز ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے، نیز جو شخص پراپرٹی بلڈرز اور ڈویلپر کے طور پر ٹیکس ادا کریگا اس کو کنسٹرکشن سروسز سے ٹیکس چھوٹ ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ریسٹورنٹ اور بیوٹی پارلرز پر بذریعہ کیش ادائیگی کرنے والے صارفین سے 16 فیصد جبکہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی کی صورت میں 5 فیصد ٹیکس ریٹ وصول کئے جانے کی تجویزہے جو کہ معیشت ڈاکومنٹ کرنے میں بھی مدد دے گی۔

آئندہ مالی سال کیلئے پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی دو اقساط میں کی جا سکے گی اور 30 ستمبر 2020ء تک مکمل ٹیکس کی ادائیگی کی صورت میں ٹیکس دہندگان کو 5 فیصد کی بجائے 10 فیصد ری بیٹ دیا جائے گا اور مالی سال 2020-21ء کے سرچارج کی وصولی پر بھی مکمل چھوٹ ہو گی۔

وزیر خزانہ پنجاب نے کہا کہ انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی کی شرح کو 20 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کئے جانے کی تجویز ہے، تمام سینما گھروں کو 30 جون 2021ء تک انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی سے مستثنیٰ کئے جانے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کے نئے ویلیوایشن ٹیبل کا اطلاق بھی ایک سال کیلئے موخر کر دیا گیا ہے، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی مکمل ادائیگی کی صورت میں 10 فیصد کی بجائے 20 فیصد ری بیٹ دیا جائے گا اور پنجاب ای پے پورٹل کے تحت آن لائن ادائیگی کی صورت میں 5 فیصد سپیشل ڈسکاﺅنٹ دیا جائے گا۔

ہاشم جواں بخت نے کہا کہ سرکاری زمینوں کی لیز، کرایہ داری، فروخت وغیرہ (لینڈ یوٹیلائزیشن پالیسی) کی مد میں بورڈ آف ریونیو کے محصولات میں 20 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے، اس سلسلہ میں لینڈ ریونیو ایکٹ 1967ء میں جلد ہی ضروری ترامیم منظور کروائی جائیں گی، آئندہ مالی سال میں سٹمپ ڈیوٹی کی موجودہ شرح کو 5 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز ہے جس سے کنسٹرکشن انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق کاروبار کرنے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کیلئے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے مقامی حکومتوں کے ٹیکسز میں سے کاروبار کے لائسنس سے متعلقہ فیس صفر فیصد کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے جس سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور مقامی آبادیوں کو تقریبا 60 کروڑ سالانہ کا ٹیکس ریلیف ملے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here