عالمی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں رواں سال 40 فیصد کمی کا امکان

کورونا کے باعث ایف ڈی آئی آئندہ سال بھی کمی کا شکار رہے گی، اس میں رواں سال کی نسبت 5 سے 10 فیصد مزید کمی کا امکان ہے تاہم 2022ء میں صورتحال بہتری کی جانب جاسکتی ہے

287

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث عالمی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں رواں سال 40 فیصد کمی کا امکان ہے جبکہ آئندہ سال (2021 ء) صورتحال اس سے بھی بد تر ہوگی۔

یہ بات اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کے سیکرٹری جنرل مخیسا کتیوئی نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔ انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے دوسرے شعبوں کی طرح عالمی سطح پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوئی ہے، رواں سال اس کا حجم کم ہوکر 1 کھرب ڈالر سے بھی نیچے رہنے کا امکان ہے جبکہ 2019ء کے دوران 1.54 کھرب ڈالر کی ایف ڈی آئی ہوئی تھی۔ یہ 2005ء کے بعد اب تک کی کم ترین براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوگی۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ کورونا کے باعث ایف ڈی آئی آئندہ سال بھی کمی کا شکار رہے گی اور اس میں رواں سال کی نسبت 5 سے 10 فیصد مزید کمی کا امکان ہے تاہم 2022ء میں صورتحال بہتری کی جانب جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث عالمی معیشت 2008ء کے مالیاتی بحران کی مانند خراب ہوچکی ہے، وباءکے باعث عالمی سپلائی اور طلب بارے پالیسیوں کو بھی سخت دھچکا لگا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here