دو فیصد جی ڈی پی کا دارومدار بھی حالات پر ہے: مشیر خزانہ

84

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت نے مشکل حالات میں بجٹ پیش کیا ہے، نئے مالی سال میں 4.9 کھرب روپے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی، دو فیصد جی ڈی پی کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش ہے تاہم اس کا دارومدار مقامی اور بین الاقوامی حالات پر ہے۔

منگل کوانسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاونٹنٹس پاکستان (آئی سی اے پی) کے زیراہتمام آن لائن پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو آغازسے ہی مشکل اقتصادی صورتحال کا سامنا تھا جس کی وجہ سے پاکستان نے آئی ایم ایف سے معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، حکومت نے مشکل اقتصادی فیصلے کئے جس کے اچھے اثرات سامنے آئے، ان اقدامات کی وجہ سے حسابات جاریہ کا خسارہ 20 ارب روپے سے کم ہو کر3 ارب کی سطح پر لایا گیا، ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کی حرکیات اور حقائق کے مطابق بنایا گیا، حکومت نے غیرملکی قرضہ کی مد میں 5 ارب روپے کی ادائیگی کی، پہلی مرتبہ پرائمری بیلنس سر پلس ہو گیا ہے یعنی آمدنی کے مقابلے میں ہمارے اخراجات کم رہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوششوں سے محصولات میں 17 فیصد اضافہ ہوا، پہلی مرتبہ نان ٹیکس محصولات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 114 فیصد اضافہ ہوا، اگرامپورٹ پرٹیکسوں کوشمارکیا جائے تو محصولات اکھٹا کرنے کی شرح 27 فیصد بنتی ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، موڈیز، بلوم برگ اوردیگر بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں کو سراہا۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وباء ٍنے سب کچھ تبدیل کر دیا ہے، اس سے پاکستان کی معیشت کو 3000 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، ایف بی آر کو ٹیکس محصولات میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، ایف بی آر کو ہدف 4500 ارب کے مقابلے میں 3900 ارب روپے کے محصولات اکھٹا ہونے کا امکان ہے، وباء نے پاکستان میں برآمدات، ترسیلات زر، تجارت اوربڑی صنعتوں کے پیداوار پراثرات مرتب کئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 10 اقسام کے ود ہولڈنگ ٹیکسوں کو ختم کیا، درآمدات پرٹیکسوں میں کمی لائی گئی، تعمرات کے شعبہ کیلئے جامع مراعاتی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے، سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی لائی گئی ہے، پوائنٹ آف سیلزنظام کے تحت رجسٹرڈ کاروباری اداروں کیلئے سیلز ٹیکس کی شرح میں مزید کمی لائی گئی ہے، خریداری کیلئے شناختی کارڈ کی شرط اب ایک لاکھ روپے تک خریداری پرعائد ہوگی، حکومت نے میزبانی کی صنعت کیلئے بھی مراعات دی ہیں۔

ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ حکومت کے اخراجات میں کمی لائی گئی ہے، دفاع کے بجٹ میں افراط زرکے تناسب سے اضافہ ہوا ہے اسلئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حقیقی معنوں میں دفاع کے بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا۔ حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے فنڈز کو 650 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے اس سے ملک میں ترقیاتی سرگرمیاں شروع ہوگی اورلوگوں کوروزگارکے مواقع ملیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here