گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں کم نہ ہونے پر مسابقتی کمیشن کو تحقیقات کا حُکم

عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمت 789 سے کم ہوکر 512 ڈالر فی ٹن ہوگئی مگر ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کوئی خاص کمی نہ ہوئی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور کورونا کے باعث دو فیصد ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد قیمتیں 50 روپے کم ہونی چاہیے تھی : وزارت صنعت و پیداوار

115

اسلام آباد: وزارت صنعت و پیداوار نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کو عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کے نرخوں میں کمی نہ ہونے کی وجوہات کا پتہ لگانے کا حکم دے دیا۔

12 مئی کوعالمی مارکیٹ میں پام آئل کی قیمت 789 سے کم ہوکر 512 ڈالر فی ٹن کی سطح پر آگئیں تھیں مگر ملکی مارکیٹ میں اس کا کوئی خاص اثر نہیں دیکھا گیا۔

کچھ نامور برانڈز کی جانب سے قیمتوں میں پانچ روپے فی کلوگرام کمی کی گئی مگر وزارت صنعت و پیداوار کے اندازے کے مطابق قیمتوں میں پچاس روپے تک کمی ہونی چاہیے تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں کاریں مہنگی کیوں ہیں؟

کورونا لاک ڈاؤن کے باعث پام آئل کی مانگ میں کمی، ملائیشیا، انڈونیشیا کو بڑا دھچکا

تاریخ میں پہلی مرتبہ سگریٹ کی بیرونی دنیا کو فروخت سے پاکستان نے 6.2 ملین ڈالر کما لیے

مزید برآں ملکی گھی ساز صنعت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باعث ٹرانسپورٹ اخراجات میں کمی کا فائدہ بھی عوام تک نہیں پہنچایا۔

اس کے علاوہ کورونا کے باعث عارضی طور پر ہٹائی جانے والی دو فیصد ڈیوٹی کا فائدہ بھی عوام کو منتقل نہیں کیا گیا۔

پرافٹ اردو کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق پاکستان بناسپتی مینوفیکچورز ایسوی ایشن نے وزارت  صنعت و پیداوار کے حکام سے ملاقات میں درج بالا تمام معاملات کی بدولت کم ہونے والے اخراجات اور لاگت کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی تاہم ایسا نہیں ہو سکا۔

جس پر وزارت صنعت و پیداوار نے پاکستان بناسپتی مینوفیکچورز ایسوی ایشن کو مارچ میں چار خطوط لکھ کر گھی اور کوگنگ آئل کی قیمتیں کم کرنے پر زور دیا تاہم ان خطوط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

واضح رہے کہ ملکی قوانین کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار بزور طاقت گھی ساز صنعت کو قیمتیں کم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ تاہم کمپی ٹیشن ایکٹ 2020 کی شق 3 (3) (a) اور 37 کے تحت مسابقتی کمیشن آف پاکستان معاملے میں مداخلت کرسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here