کورونا کی شدت بڑھی تو بجٹ میں طے کردہ اہم اہداف کا دوبارہ جائزہ لیں گے: مشیر خزانہ 

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنا مشکل فیصلہ لیکن وقت کا تقاضا تھا، اخراجات میں کمی کا عمل سب کیلئے ہے، صدر، وزیراعظم ہاوس کے اخراجات میں بھی کمی لائی گئی: ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا نٹ شیلز آن لائن کانفرنس سے خطاب

169

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ نئے سال کے وفاقی بجٹ میں حکومت نے مشکل فیصلے کئے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنا ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن یہ وقت کا تقاضا تھا، کورونا وائرس کی وبا کی صورتحال غیر یقینی ہے، اگر اس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو حکومت اہم اہداف کا دوبارہ جائزہ لے گی، اخراجات میں کمی کا عمل سب کےلئے ہے، صدر اور وزیراعظم ہائوس کے اخراجات میں بھی کمی لائی گئی ہے۔

نٹ شیلز آن لائن کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو آغاز سے مشکل اقتصادی صورتحال کا سامنا تھا جس کی وجہ سے پاکستان نے آئی ایم ایف سے معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، حکومت نے مشکل اقتصادی فیصلے کئے جس کے اچھے اثرات سامنے آئے، ان اقدامات کی وجہ سے حسابات جاریہ کا خسارہ 20 ارب روپے سے کم ہو کر 3 ارب کی سطح پر لایا گیا، ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کی حرکیات اور حقائق کے مطابق بنایا گیا، پہلی مرتبہ پرائمری بیلنس سرپلس ہو گیا یعنی کہ آمدنی کے مقابلے میں ہمارے اخراجات کم رہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی کی، کوئی ضمنی گرانٹ جاری نہیں کی، سٹیٹ بنک سے قرضہ نہ لینے کی پالیسی اپنائی گئی، برآمدات میں اضافہ پرتوجہ دی جس کے نتیجہ میں برآمدات، جس میں گزشتہ حکومت کے پانچ سالوں میں صفر فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، میں اضافہ کا رحجان دیکھنے میں آیا، حکومت کی کوششوں سے محصولات میں 17 فیصد اضافہ ہوا، امپورٹ کی حوصلہ شکنی کی وجہ سے حکومت کو درآمدات پر ٹیکسوں میں آمدنی میں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اگر امپورٹ پر ٹیکسوں کو شمار کیا جائے تو محصولات اکھٹا کرنے کی شرح 27 فیصد بنتی ہے، حکومت نے برآمدات میں اضافہ کیلئے اقدامات کے تحت ری فنڈز کی مد میں 253 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، موڈیز، بلوم برگ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں کو سراہا، پاکستان سٹاک ایکسچینج نے دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مارکیٹ کا اعزاز حاصل کیا، حکومت نے معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کیلئے مختص بجٹ کو 100 ارب سے بڑھا کر 192 ارب کردیا، حکومت کے سماجی تحفظ کا پروگرام ہر قسم کی سیاسی، مذہبی اور علاقائی وابستگی سے بالاتر اور شفاف ہے۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا نے سب کچھ تبدیل کر دیا ہے، اس سے پاکستان کی معیشت کو 3000 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، ایف بی آر کو ٹیکس محصولات میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، ایف بی آر نے ہدف 4300 ارب کے مقابلے میں 3900 ارب روپے کے محصولات اکھٹا کئے، وباء نے پاکستان میں برآمدات، ترسیلات زر، تجارت اور بڑی صنعتوں کے پیداوار پر اثرات مرتب کئے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء کے اثرات کو کم کرنے کیلئے حکومت نے 1240 ارب روپے کا امدادی پیکج جاری کیا، ایک کروڑ 60 لاکھ خاندانوں کو نقد امداد کی فراہمی کا منصوبہ بنایا ،اب تک ایک کروڑ خاندانوں کو نقد امداد فراہم کی جا چکی ہے اور باقی خاندانوں کو امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء کی صورتحال غیر یقینی ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ یہ وباء کب ختم ہو گی یا اس کی شدت میں اضافہ ہو گا یا کمی آئیگی، اگر لاک ڈاون کا سلسلہ مزید جاری رہتا تو اس سے پوری دنیا کی طرح ہم بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ اور حکومت کی کارگردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں بعض حقائق کو سامنے رکھنا چاہئیے، حکومت کے 4000 ارب کی محصولات میں سے 60 فیصد صوبوں کے پاس جا رہے ہیں، وفاق کو 1300 اور 1350 ارب روپے ملتے ہیں، ایف بی آر کی محصولات میں وفاق کو 2000 کے قریب ملے ہیں جبکہ حکومت نے 2700 ارب روپے کے قرضے واپس کرنا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کو فنڈز کی فراہمی آئینی تقاضا ہے اور اس کے بہت سارے فائدے بھی ہیں لیکن وفاق کے پاس محدود وسائل اور مسائل کے باوجود حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا، نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تجارت اورسرمایہ کاری کیلئے مراعات دی گئی ہیں، 1623 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی کی شرح ختم کر دی گئی ہے، 200 ٹیرف لائنز پر کسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ کر دیا گیا، 166 اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 10 اقسام کے ودہ ولڈنگ ٹیکسوں کو ختم کیا، درآمدات پر ٹیکسوں میں کمی لائی گئی، تعمرات کے شعبہ کیلئے جامع مراعاتی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے، اس پیکج پر آئی ایم ایف کے ساتھ بحث و مباحثہ بھی ہوا تاہم حکومت نے اس شعبہ کیلئے مراعات کا اعلان کیا، اسی طرح کیپٹل گین ٹیکس میں مراعات دی گئی ہیں۔

مشیرخزانہ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اخراجات میں کمی لائی جائے ، گزشتہ سال دفاعی اخراجات میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا، نئے سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنا ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن یہ وقت کی ضرورت ہے، اس کی بجائے سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 100 ارب کے قریب اضافہ کیا گیا تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں سے روزگارکے مواقع سامنے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے نئے بجٹ میں زر تلافیوں میں 100 ارب روپے کی کمی کی ہے، ہماری کوشش ہے کہ زر تلافیاں شفاف اور ہدف پر مبنی ہوں۔ موجودہ حکومت نے پہلی پار پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ کو بجٹ کا حصہ بنایا ہے، سٹیٹ بنک کو خود مختاری دی ہے، حکومت مانیٹری پالیسی کمیٹی پر بھی اثرانداز نہیں ہو رہی، نجکاری کا عمل جاری ہے، وباء سے قبل بجلی کے دو اداروں کی نجکاری حتمی مرحلے میں تھی تاہم چین اور روس کے سرمایہ کاروں نے وباء کی وجہ سے یہ عمل ملتوی کرنے کی درخواست کی، وباءکی صورتحال میں بہتری کے بعد اس کا دوبارہ آغاز کیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ پنشن اصلاحات پر کام جاری ہے، حکومت ریگولیٹری رجیم میں بھی بہتری لا رہی ہے، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی کارگردگی میں بہتری لائی جارہی ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں سختی لانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت مراعات اور ترغیبات کے ذریعہ ٹیکس وصولیوں اور ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت لانے کیلئے کام کر رہی ہے، گزشتہ سال فعال ٹیکس گزاروں کی تعداد 18 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ کر دی گئی ہے، حکومت ایف بی آر اور نادرا کے درمیان رابطہ کاری کو بھی بڑھا رہی ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ عالمی بنک کے ساتھ آٹومیشن کے ایک پراجیکٹ پر کام جاری ہے، ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل نظام سے وابستہ کاروباریوں کیلئے سیلز ٹیکس کی شرح مزید کم کرکے 12 فیصد کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی وباءکی صورتحال غیریقینی ہے، اگر اس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس صورت میں حکومت اہم اہداف کا دوبارہ جائزہ لے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here