کاروباری برادری نے اسلام آباد میں لگژری ٹیکس بلا جواز قرار دیدیا، نظرثانی کا مطالبہ

بجٹ میں وفاقی دارالحکومت میں 2 کنال سے بڑے گھروں پر ایک لاکھ روپے فی کنال، 5 کنال سے بڑے گھروں پر 2 لاکھ روپے فی کنال، 5 سے 7 ہزار مربع فٹ فارم ہائوس پر 25 روپے فی مربع فٹ اور 10 ہزار مربع فٹ سے بڑے فارم ہائوس پر 80 روپے فی مربع فٹ کے حساب سے لگژری ٹیکس کی تجویز، یکم جولائی 2020ء سے نافذ ہو گا

109

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد احمد وحید  نے کہا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں لگژری ٹیکس کا نفاذ قابل قبول نہیں اور یہ بلاجواز ہے۔ حکومت نظرثانی کرے اور فیصلہ واپس لے۔

صدر اسلام آباد چیمبر نے  اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے نئے بجٹ میں اسلام آباد میں 2 کنال سے بڑے گھروں پر ایک لاکھ روپے فی کنال، 5 کنال سے بڑے گھروں پر 2 لاکھ روپے فی کنال، 5 سے 7 ہزار مربع فٹ فارم ہائوس پر 25 روپے فی مربع فٹ اور 10 ہزار مربع فٹ سے بڑے فارم ہائوس پر 80 روپے فی مربع فٹ کے حساب سے لگژری ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز دی ہے جو یکم جولائی 2020ء سے نافذ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری سمیت تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اس ٹیکس کا نفاذ قبول نہیں کیونکہ پورے ملک میں صرف اسلام آباد میں لگژری ٹیکس کا نفاذ بالکل بلا جواز ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری میں لگژری ٹیکس کے نفاذ پر نظرثانی کرے اور یہ فیصلہ واپس لے۔

صدر اسلام آباد چیمبر کے مطابق کراچی اور لاہور سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں اسلام آباد سے بھی بڑے گھر اور فارم ہاوسز موجود ہیں اور اگر ان پر کوئی لگژری ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا تو صرف اسلام آباد میں ایسا ٹیکس نافذ کرنے کا کیا جواز بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی نے بجٹ میں شرح سود کو پانچ فیصد تک لانے، سیلز ٹیکس کو سنگل ڈیجٹ میں لانے، کاروباری طبقہ سے قرضوں کی واپسی سود سمیت ایک سال تک موخر کرنے اور ایس ایم ایز کو ریلیف پیکیج فراہم کرنے کی تجویز سمیت متعدد تجاویز پیش کی تھیں لیکن حکومت نے ان تمام تجاویز کو نظر انداز کر دیا ہے جو مایوس کن ہے۔

احمد وحید نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں بہت متاثر ہوئی ہیں جس وجہ سے معیشت مزید کمزور ہو گئی ہے اور ان حالات میں حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ کاروباری طبقہ کی مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے بجٹ میں موثر اقدامات لیتی تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو تنزلی سے نکال کر بحال کیا جاتا جس سے معیشت کو مشکلات سے نکالنے میں کافی مدد ملتی لیکن حکومت نے تاجر برادری کی تجاویز کو بجٹ میں نظرانداز کر کے کاروباری طبقے کو مایوس کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ حکومت بجٹ دستاویز میں ترامیم کر کے بزنس کمیونٹی کی اہم تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنائے جس سے کاروبار کیلئے سازگار ماحول پیدا ہو گا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے سے معیشت تیزی سے بحال ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ٹیکس ریونیو پر زیادہ توجہ دینے کی بجائے حکومت کو چاہئے کہ وہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے پر زیادہ توجہ دے اور اس مقصد کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے جس سے ملک میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بہتر ترقی ملے گی، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے سے غربت و بے روزگار کم ہو گی جبکہ حکومت کے ٹیکس ریونیو میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here