شوگر ملوں کا حکومتی نرخوں پر چینی فروخت کرنے سے صاف انکار

وزارت صنعت و پیداوار کی شوگر ملوں کو یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو 60 ہزار ٹن چینی 63 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرنے کی ہدایت، حکم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، لہذا ماننے کے پابند نہیں : پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن

115

اسلام آباد : شوگر ملز مالکان نے حکومت کو چینی 63 روپے میں فروخت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

وزارت صنعت و پیداوار نے شوگر ملوں سے 60 ہزار ٹن چینی 63 روپے فی کلو کے حساب سے طلب کی تھی جس کے جواب میں اسے شوگر ملز کا انکار سننے کو ملا ہے۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کی جانب سے وزارت صنعت و پیداوار کو اس حوالے سے ایک خط لکھا گیا ہے جس میں چینی  63 کے بجائے 70 روپے فی کلو کے حساب سے فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

چینی کیس، گنے کے کاشتکاروں کا بھی اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

پاکستان نے کووڈ ۔19 تشخیصی کٹس تیار کر لیں، ڈریپ نے منظوری دیدی

صرف پاکستان ہی نہیں، کورونا نے بڑی معاشی طاقتوں کی شرح نمو بھی منفی کر دی

حکومت یہ چینی یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن (یوایس سی) کےلیے خریدنا چاہتی ہے تاکہ عوام کو چینی سستے داموں فراہم کی جا سکے۔

خط میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اور وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے چینی کی قیمتوں میں کمی کے مطالبے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے لہٰذا اس پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ وزارت صنعت و پیداوار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نامے کی روشنی میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کو یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو چینی کی سستے داموں فراہمی کی ہدایت کی تھی۔

اس سے پہلے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن بھی شوگر ملوں سے 63 روپے فی کلو کے حساب سے چینی فراہم کرنے کی تحریری درخواست کر چکی ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے پاکستان شوگر ملز ایسوی ایشن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم میں نان کمرشل صارفین کو چینی 70 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے لہٰذا اگلی سماعت تک یہ وفاقی حکومت اور شوگر ملز ایسوسی ایشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قیمت پر نان کمرشل صارفین کو چینی کی فراہمی یقینی بنائیں۔

خط میں ریٹیل لیول پر بھی چینی 70 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here