ای ایف پی کا آئی پی پیز سے مذاکرات کی بجائے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ

ماضی کی حکومتوں نے آئی پی پیز کے لیے پالیسیوں پر پاکستان کے پائیدار مستقبل کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا، صدر ایمپلائز فیڈریشن اسماعیل ستار

446

کراچی: ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر اسماعیل ستار نے انڈپینڈنٹ پاور پلانٹس (آئی پی پیز) کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ گردشی قرضوں میں اضافے کی اصل وجہ آئی پی پیز کو روپوں کی بجائے ڈالر کے لحاظ سے ریٹ آف ریٹرن کی خودمختار ضمانتیں دینا ہے۔

ایک بیان میں اسماعیل ستار نے کہا ہے کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور روپے کے ساتھ مجموعی طور پر 13 سالوں میں نقصان حیران کن طور پر تقریباً 4,802  ارب روپے کے برابر ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مذاکرات کے کسی امکان کے بغیر مکمل طور پر فرانزک آڈٹ کر کے وصولیاں کی جائیں۔

ای ایف پی کے صدر نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے سے متعلق انکوائری رپورٹ نے پاکستان کے توانائی بحران اور آئی پی پیز سے اس کے تعلق پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ 2020ء  میں بجلی کی پیداواری صلاحیت تقریبا 35 ہزار میگا واٹ ہے لیکن اوسطاً توانائی کی طلب 19 ہزار میگاواٹ ہے کیونکہ صنعتیں اپنی پیدواری صلاحیتوں کے مطابق کام نہیں کر رہیں۔ بجلی کی اضافی پیداوار کو آئی پی پیز کے پاور جنریٹرز میں رکھا گیا ہے جبکہ حکومت آئی پی پیز کو روپوں کی بجائے ڈالر میں ادا کرنے کی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہاکہ توانائی کے نرخوں میں جارحانہ اضافہ امریکی ڈالر میں آئی پی پیز کو ضرورت سے زیادہ ادائیگی کا براہ راست نتیجہ ہے جس سے حکومت کے عوامی قرضوں میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کے پاس نیپرا کے ذریعے اضافی ٹیرف کی صورت میں صارفین پر اس کا بوجھ ڈالنے کے سواء کوئی چارہ نہیں بچتا۔اس کے نتیجے میں جب صارفین کو اس ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اوروہ کے الیکٹرک جیسی تقسیم کار کمپنیوں کو ادائیگی کی سکت نہیں رکھتے  تو بجلی استعمال کرنے کے غیر قانونی طریقوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ان عدم ادائیگیوں سے پیدا ہونے والا معاشی نقصان تقریباً12ارب روپے کے برابر ہے جبکہ گردشی قرضہ 128ارب روپے تک بڑھتا ہے جس سے اس شیطانی چکر کے تباہ کن معاشی اور معاشرتی اثرات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

صدر ای ایف پی نے مزید کہا کہ سردیوں میں جب بجلی کی طلب کم ہوتی ہے تو آئی پی پیز کم توانائی پیدا کرتے ہیں مگر پیداواری صلاحیت سے زیادہ چارجز کرتے ہیں۔ آئی پی پی کی رپورٹ میں بھی اس کی جھلک ملتی ہے جس میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ پاور کمپنیاں حقیقت میں ایکویٹی پر بھاری ریٹرن حاصل کررہی ہیں جو 87 فیصد سے زیادہ ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے آئی پی پیز کے لیے پالیسیوں پر فیصلہ کرتے وقت پاکستان کے پائیدار مستقبل کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا اور آج اس کی وجہ سے صنعتیں شدید مشکلات سے دوچار ہیں لہٰذا تمام ذمہ داروں کو بلا کسی بھی پچھتاوے کے نکالنا ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ ان کا فرانزک آڈٹ کرنا لازمی ہے تاکہ عام صارفین اور ڈوبتی صنعتوں کو بچایا جاسکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here