آئندہ مالی سال کے دوران نیشنل ہائی ویز اتھارٹی 25 نئے منصوبوں کا اجراء کرے گی

پی ایس ڈی پی کے تحت نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے 32 جاری منصوبوں پر 88 ارب 95 کروڑ 48 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ 25 نئی سکیموں پر 29 ارب 72 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے 

184

اسلام آباد: آئندہ مالی سال 2020-21 کے دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) 25 نئے منصوبوں کا اجراء کرے گا جس میں ملک بھر کی شاہرات، پلوں، انڈر پاسز اور فلائی اوور کے علاوہ موٹر ویز کی تعمیر اور اپ گریڈیشن و بحالی کے منصوبے شامل ہیں۔

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2020-21 کے بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت ان منصوبوں کے لئے رقوم مختص کر دی ہیں۔ پی ایس ڈی پی کے اعدادو شمار کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)کے 32 جاری منصوبوں پر 88 ارب 95 کروڑ 48 لاکھ 55 ہزار (88954.855 ملین) روپے بھی مختص کئے ہیں جبکہ 25 نئی سکیموں پر 29 ارب 72 کروڑ ( 29720 ملین) روپے خرچ کئے جائیں گے جس کے لئے 3 ارب 35 کروڑ (3350 ملین) روپے غیر ملکی امداد بھی حاصل ہو گی جبکہ 26 ارب 37 کروڑ (26370 ملین) روپے ملکی وسائل سے فراہم کئے جائیں گے۔

این ایچ اے کے منصوبوں کے لئے سب سے زیادہ رقم 20 ارب (20000 ملین) روپے ایم۔ون برہان۔ ہکلہ سے ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے کے منصوبے کے لئے مختص کی گئی ہے۔ پی ایس ڈی پی کے تحت جگلوٹ۔سکردو روڈ (ایس۔1) 167 کلومیٹر اَپ گریڈیشن کے منصوبے کے لئے 9 ارب (9000 ملین) روپے رکھے گئے ہیں جبکہ لاہور۔ ملتان موٹر وے ( ایم۔3 ) کے لئے سات ارب (7000 ملین ) روپے مختص کئے گئے ہیں۔

انڈس ہائی وے (این۔55) سرائے گمبیلا تا کوہاٹ حصہ کو دو رویہ کرنے کے لئے پانچ ارب (5000 ملین) روپے اور پنڈی گھیپ۔ کوہاٹ روڈ کو دو رویہ کرنے اور اسے اَپ گریڈ کرنے کے لئے 4 ارب 50 کروڑ (4500 ملین) روپے مختص کئے گئے ہیں۔

پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی بجٹ میں بسیما تا خضدار 106 کلومیٹر دو رویہ شاہراہ کی تعمیر کے لئے 4 ارب 40 کروڑ (4400 ملین) روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پرانے بنوں روڈ کو دو رویہ اور بہتر کرنے کے لئے 4 ارب (4000 ملین) روپے اور 2010ء کے سیلاب اور مون سون کی طوفانی بارشوں سے نیشنل ہائی ویز کو ہونے والے نقصانات کی بحالی و مرمت کے لئے تین ارب 86 کروڑ 82 لاکھ 50 ہزار (3868.25 ملین) روپے رکھے گئے ہیں جس میں دو ارب 50 کروڑ (2500 ملین) روپے کی غیر ملکی امداد بھی شامل ہے۔

اسی طرح پی ایس ڈی پی کے تحت حکومت نے 32 کلومیٹر پشاور شمالی بائی پاس کی تعمیر کے لئے تین ارب 50 کروڑ (3500 ملین) روپے جبکہ لاہور ٹھوکر نیاز بیگ ہڈیارا نالہ ملتان روڈ کی بہتری اور دو اضافی لین تعمیر کرنے کے لئے تین ارب(3000 ملین) روپے مختص کئے گئے ہیں۔

سکھر ملتان موٹروے کے 392 کلومیٹر حصہ کی تعمیر کے لئے دو ارب 50 کروڑ ( 2500 ملین ) روپے رکھے گئے ہیں جس میں دو ارب (2000 ملین) روپے غیر ملکی امداد شامل ہے۔

اسی طرح کاریک راہداری کے لئے دو ارب 50 کروڑ (2500 ملین) روپے رکھے گئے جس میں راہداری ترقیاتی سرمایہ کاری کے تحت ایک ارب (1000 ملین) روپے کی غیر ملکی امداد بھی شامل ہے۔

چین۔پاکستان اقتصدی راہداری (سی پیک) کے حصہ حویلیاں تا تھاکوٹ 118 کلومیٹر کی تعمیر کے لئے دو ارب 50 کروڑ (2500 ملین) روپے رکھے گئے ہیں، اِس منصوبے کےلئے غیر ملکی امداد کا حصہ دو ارب (2000 ملین) روپے ہو گا۔ پشاور موڑ۔ نیو اسلام آباد انٹر نیشل ایئر پورٹ، میٹرو بس سروس منصوبے کے انفراسٹرکچر و دیگر ملحقہ کاموں کے لئے ایک ارب 50 کروڑ (1500 ملین) روپے رکھے گئے ہیں۔

بلوچستان میں مچھ ۔خاران براستہ دوستین، واڑھ، خورماگئی بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر کے لئے ایک ارب 50 کروڑ (1500 ملین) روپے رکھے گئے ہیں۔ فیصل آباد۔ خانیول ایم۔فور موٹر وے کی تعمیر کے لئے دو ارب 50 کروڑ (2500 ملین) روپے رکھے گئے ہیں جس میں ایک ارب 50 کروڑ (1500 ملین) روپے کی غیر ملکی امداد بھی شامل ہے۔

این ایچ اے کی نئی سکیموں میں شامل ژوب ۔ کچلاک روڈ کی تعمیر کے لئے 10 ارب (10000 ملین) روپے رکھے گئے ہیں جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی راہداری کا حصہ ہے۔

ایم۔ 8 ہوشاب۔ آواران 146 کلومیٹر حصہ کی تعمیر کے لئے چار ارب (4000 ملین) روپے مختص کئے گئے ہیں۔ درہ خیبر اقتصادی راہداری منصوبے کی تعمیر کے لئے 1500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں 50 کروڑ (500 ملین) روپے غیر ملکی امداد کا حصہ ہو گا۔

اسی طرح 23 کلومیٹر کوئٹہ مغربی بائی پاس کی تعمیر کے لئے ایک ارب 50 کروڑ (1500 ملین) روپے اور لودھراں۔ ملتان این۔5 کو کشادہ کرنے اور بہتری کے لئے ایک ارب 50 کروڑ (1500 ملین) روپے رکھے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال 2020-21ء کے بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے 32 جاری اور 25 نئے منصوبوں کے علاوہ مواصلات ڈویژن کے لئے 25 کروڑ 47 کروڑ 53 لاکھ (254.753 ملین) روپے بھی مختص کئے ہٰیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here