چینی کیس، گنے کے کاشتکاروں کا بھی اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

302

اسلام آباد: چینی انکوائری کمیشن کے خلاف گنے کے کاشتکاروں نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

رحیم یار خان سے گنے کے کاشتکار احسن عابد رئیس نے چینی انکوائری کمیشن کیس میں فریق بننے کیلئے دائر درخواست میں کہا کہ گنے کے کاشتکار اور شوگر مافیا کے متاثرین کو بھی سنا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ شوگر ملز مالکان کے ساتھ ہمیں بھی سنے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 11 جون کو چینی انکوائری کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد سے روک دیا تھا اور شوگر ملز مالکان کو چینی 70 روپے فی کلو فروخت کرنے کا حکم دیا تھا۔

چینی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے بنائے گئے انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف ملز مالکان کی درخواست پر 11 جون کو سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں ہوئی تھی۔

دوران سماعت درخواست گزاروں نے دعوٰی کیا تھا کہ کمیشن تحقیقاتی رپورٹ آئین کے مینڈیٹ اور 2017 کے ایکٹ کے تحت تشکیل دیئے جانے والے فیڈرل کمیشن آف انکوائری کی حدود سے تجاوز کرتی ہے کیونکہ یہ صوبوں کے خصوصی قانون سازی اور ایگزیکٹو ڈومین کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے۔

شوگر ملز مالکان کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا تھا کہ آئین میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات کا الگ الگ ذکر موجود ہے۔ فروری 2020 میں کارروائی کے لیے ایڈہاک کمیٹی بنائی گئی، انکوائری کمیشن نے شوگر ملز کے فارنزک آڈٹ کے لیے وفاقی حکومت کو لکھا، کمیٹی نے تجویز دی ویسے ہی وہ کمیشن بن گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

چینی سبسڈی، اسد عمر پر کس نے دبائو ڈالا؟

چینی کمیشن کی رپورٹ کسی کو پھنسانے کی کوشش؟ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے تحقیقات مسترد کر دیں

کیا پاکستان چینی قرضوں کے چنگل میں پھنس رہا ہے؟ دفتر خارجہ کا بیان سامنے آ گیا

ملز مالکان کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انکوائری کمیشن کا مقصد عام آدمی کو ریلیف مہیا کرنا نہیں بلکہ ہمارا میڈیا ٹرائل تھا، وزیراعظم کے معاون خصوصی کے ذریعے شوگر ملز مالکان کا میڈیا ٹرائل کرایا گیا، گزشتہ روزبھی اس حوالے سے پریس کانفرنس کی گئی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ دو سال پہلے چینی کی قیمت کیا تھی؟ مخدوم علی خان نے بتایا کہ نومبر 2018ء میں چینی کی قیمت 53 روپے فی کلو تھی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ کمیشن نے عام آدمی کی سہولت کے لیے کوئی فائنڈنگ نہیں دی؟ ہم حکومت کو نوٹس کر کے پوچھ لیتے ہیں لیکن آپ اس وقت تک 70 روپے کی قیمت پرچینی فروخت کریں۔ آپ کو شرط منظور ہے تو ہم آئندہ سماعت تک حکومت کو کارروائی سے بھی روک دیتے ہیں، یہ عدالت عمومی طور پرایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔

چیف جسٹس نے شوگر ملزمالکان کے خلاف کارروائی پرحکم امتناع جاری کرتے ہوئے کہا کہ عام عوام کو اگلے 10 روز تک چینی 70 روپے فی کلو فراہم کی جائے۔

اس کے ساتھ ہی اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق، کمیشن کے سربراہ واجد ضیاء، معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر، سیکرٹری داخلہ اور انکوائری کمیشن کے ارکان سمیت درخواست کےتمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے ) کے سربراہ واجد ضیا کی سربراہی میں قائم کیے گئے کمیشن نے ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار شوگر ملز کے غیر قانونی اور ناجائز اقدامات کو قرار دیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here