مئی میں ترسیلاتِ زر میں 18.6فیصد کمی

225

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے مئی 2020ء میں بھیجی جانے والے ترسیلاتِ زر میں 18.6 فیصد یعنی 429.2 ملین ڈالر کمی آئی ہے، مئی 2019ء میں ترسیلاتِ زر کا حجم 2.3 ارب ڈالر تھا۔

مئی 2020ء میں اوورسیز پاکستانیوں نے کُل 1.87 ارب ڈالر کی رقوم بھیجیں جو اپریل 2020ء کی نسبت 82.8 ملین ڈالر یعنی 4.6 فیصد زیادہ تھیں، اپریل 2020 میں بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 1.79 ارب ڈالر بھجوائے گئے تھے۔

سٹیٹ بینک نے کمی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترسیلاتِ زر متاثر ہونے کی بڑی وجہ کورونا وائرس کی عالمگیر وباء بنی جس کی وجہ سے بین الاقوامی سرحدیں بند اور زیادہ تر اوورسیز ملازمین نوکریوں سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔

سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ گزشتہ سال مئی 2019ء کا پورا مہینہ ماہِ مقدس کا تھا جس کے دوران ترسیلاتِ زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا۔

مالی سال 2019-20ء کے 11 ماہ کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر کا حجم 20.65 ارب ڈالر رہا جن میں مالی سال 2018-19ء کے زیر جائزہ عرصے کی نسبت 551.5 ملین ڈالر یعنی 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا، گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران ترسیلات کا حجم 20.1 ارب ڈالر رہا تھا۔

مئی اور اپریل 2020ء کے دوران وصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کا موازنہ کیا جائے تو کچھ ممالک سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ جبکہ اکثر کی جانب سے کمی واقع ہوئی۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے وصول ہونے والی ترسیلاتِ زر بالترتیب 436.2 ملین ڈالر اور 323.4 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، تاہم امریکہ اور برطانیہ سے رقوم کی ترسیل میں کمی آئی اور بالترتیب 428.3 ملین ڈالر اور 284.8 ملین ڈالر پاکستان بھجوائے گئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here