‘قرضہ لینے کا شوق نہیں، ماضی کی ادائیگیوں کیلئے لینا پڑتا ہے’

تاثر دیا جا رہا ہے جیسے آئی ایم ایف پاکستان پر ظلم کرنے کیلئے بنا ہو، آئی ایم ایف پاکستان کو کوئی حکم نہیں دے سکتا، صرف یہ کہتا ہے وسائل کے مطابق اخراجات کریں: مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی بعد از بجٹ پریس کانفرنس

362

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے مالی سال 2020-21ء کیلئے وفاقی بجٹ میں مشکل حالات کے باوجود کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا، قرضہ لینے کا کوئی شوق نہیں، ماضی کی حکومتوں کے قرضوں اور سود کی ادائیگی کیلئے نئے قرضے لئے جا رہے ہیں۔

ہفتہ کو وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داﺅد، چئیر پرسن ایف بی آر ڈاکٹر نوشین جاوید امجد، سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ اور ایف بی آر کے ممبران لینڈ ریونیو ڈاکٹر حامد عتقیق سرور کے ہمراہ بعد از بجٹ پریس کانفرس میں ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو آغاز سے ہی ماضی کی حکومتوں کی جانب سے لئے گئے 30 ہزار ارب روپے کے قرضوں کا سامنا تھا، موجودہ حکومت نے پہلے سال میں پانچ ہزار ارب روپے کا بیرونی قرضہ ادا کیا، جاری مالی سال میں 2700 ارب روپے کی بیرونی قرضہ کی ادائیگی کی گئی، حکومت کی کارگردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ان امور کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے، اگر ہمارا کل ریسورس بجٹ 2000 ہزار ارب روپے ہو اور ہم قرضوں اور سود کی ادائیگی میں 2700 ارب واپس کررہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اخراجات پر قابو پانے کے ضمن میں سخت پالیسی اپنائی ہے، گزرے سال میں سٹیٹ بینک سے ایک ٹکہ کا قرضہ نہیں لیا گیا، اسی طرح کسی ادارے کو ضمنی گرانٹ جاری نہیں کی گئی، پہلی بار ہم پرائمری بیلنس کے سرپلس میں گئے ہیں یعنی حکومت کے اخراجات آمدنی سے کم رہے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ٹیکس وصولیوں کے نظام کی بہتری، ٹیکس کی وسعت میں اضافہ اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کیلئے اقدامات کئے، ان اقدامات کی وجہ سے ٹیکس وصولیوں کی شرح میں 17 فیصد اضافہ ممکن ہوا، اس میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا تھا تاہم حکومت نے جان بوجھ کر درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جس سے درآمدات سے حاصل ٹیکسوں میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو آغاز سے ہی زرمبادلہ کے کم ذخائر کے مسئلہ کا سامنا تھا، درآمدات پر زرمبادلہ کا حجم برآمدات سے دوگنا سے بھی زیادہ تھا، اس کی وجہ سے حسابات جاریہ کا خسارہ 20 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا تھا حکومت نے اس ضمن میں جامع اقدامات کئے، برآمدات میں اضافہ کیلئے کوششیں کی گئی، حکومت کی کوششوں سے حسابات جاریہ کا خسارہ 20 ارب ڈالر سے کم کر کے تین ارب ڈالر کی سطح پرلایا گیا، یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ آئی ایم ایف ، موڈیز اور دوسرے عالمی اداروں نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ نئے مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ ایک ایسے موقع پر پیش کیا جا رہا ہے جب ملک کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کی وجہ سے کئی مسائل کا شکار ہے، اس ضمن میں نئے وفاقی میزانیہ میں کورونا وائرس کی وبا کے اثرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ عوام کو ریلیف دینے پر بھی توجہ دی گئی ہے، کورونا وائرس کی وبا سے پہلے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 137 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ وبا ایک ایسی حقیقت ہے جس نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے، پاکستان بھی متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ اس وبا سے پاکستان کی قومی معیشت کو 3 ہزار ارب روپے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے ، کورونا وائرس کی وجہ سے ٹیکس آمدن میں 700ارب روپے کی کمی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے احساس ایمرجنسی کیش گرانٹ اور گندم کی خریداری کیلئے فنڈز مختص کیے ہیں جس سے معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات اور کسانوں و کاشت کاروں کو فائدہ ہوگا۔ زرعی شعبے کی ترقی کیلئے بھی خصوصی پروگرام شروع کیا گیا ہے، وبا کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار رہی ہیں جس سے نمٹنے کیلئے کاروباری طبقے کیلئے متعدد اقدامات کیے گئے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ نوکریاں پیدا کرنے کےلیے 40 سے 50 ارب کی ڈیوٹیز ختم کی گئی ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی مڈل کلاس کی بہتری کیلئے کی۔ حکومت نے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کیا ہے جس کے معیشت پر بتدریج اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران حکومت 2900 ارب روپے کے قرضے واپس کر رہی ہے، قرضوں کی واپسی معیشت کو درپیش بہت بڑا چیلنج ہے۔ قرض لینے کا شوق نہیں، ماضی کے قرضوں کی واپسی کیلئے نئے قرضے لئے جا رہے ہیں۔

بجٹ میں عوامی ریلیف کیلئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہ اکہ مشکل حالات کے باوجود حکومت نے کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے مالی سال میں 1600سے زائد اشیاء پر ڈیوٹی کو ختم کیا گیا، کاروباری لاگت کو کم کرنے کیلئے کئی اقداما ت کیے گئے ہیں۔ 200 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی کو کم کیا جا رہا ہے، 166 ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کی گئی ہے، امپورٹ پر ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کیا جا رہا ہے، سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس سے تعمیرات اور گھر بنانے والے لوگوں فائدہ پہنچے گا، تعمیرات کے شعبے کیلئے ٹیکسوں کو نصف کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوائنٹ آف سیل نظام پر ٹیکس کی شرح کو کم کیا ہے اس سے تاجروں کو اس نظام کے تحت لانے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے پرتوجہ دی جا رہی ہے ۔ بجٹ میں نجی شعبے کیلئے مراعات دی گئی ہیں، حکومت نے ٹیکس لگانے کے بجائے مراعات دینے کو ترجیح دی ہے۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ لوگوں کیلئے ٹیکس ادائیگی کو آسان بنایا جا رہا ہے، پاکستان میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح صرف 11 فیصد ہے، عوام کی سہولت کیلئے خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط کو ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جب اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کی زیادہ تکلیف حکومت کو ہوتی ہے، عمران خان کو پاکسان کے عوام نے ووٹ دیا ہے، عوام کی ترقی اورخوشحالی ان کا وژن ہے، نئے مالی سال کیلئے افراط زر کا ہدف ساڑھے 6 فیصد رکھا گیا ہے، عوام کی سہولت کیلئے ریگولیٹری نظام میں تبدیلیاں متعارف کرائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وباء کی وجہ سے بے روزگار ہونے والوں کی پریشانی کا احساس ہے۔

ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی شرح بدستور 30 روپے فی لیٹر ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اورنہ ہی اس میں تبدیلی کا کوئی ارادہ ہے۔ جب حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کر رہی تھی تو اس وقت ہمیں بتایا گیا کہ پڑوسی ممالک میں قیمتیں کم نہیں کی جا رہی تو پاکستان میں ایسا کیوں ہو رہا ہے تاہم یہ وزیراعظم عمران خان کا وژن تھا کہ پٹرولیم کی قیمتیں کم کرکے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نجکاری کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے، نجکاری کرنے والے اداروں کی فہرست میں مزید 15 نئے اداروں کو شامل کیا ہے، وبا سے قبل دو اداروں کی نجکاری کا عمل تیز کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 16 سو ارب حاصل کیے، آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا، ٹیکس اکھٹا کرنے میں مشکل سے 3 ہزار 900 ارب تک پہنچے ، 700 ارب تک ٹیکس ریونیو میں نقصان پہنچا جبکہ کورونا کی وجہ سے ٹرانسپورٹ بند ہوئی، غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

تعمیراتی صنعت کیلئے مراعات پرعمل درآمد سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے اعلان کردیا ہے اور ان مراعات سے استفادہ کرنے کیلئے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی بھی کررہی ہے۔

آئی ایم ایف سے متعلق سوال پر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے آئی ایم ایف پاکستان پر ظلم کرنے کیلئے بنایا گیا ہو، آئی ایم ایف ایک بینک کی طرح کام کرتا ہے، 200 ممالک نے یہ فنڈ قائم کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی رکن ملک کو اقتصادی مسائل کا سامنا ہو تو آئی ایم ایف اس کے ساتھ معاونت کرے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو کوئی حکم نہیں دے سکتا، آئی ایم ایف صرف یہ کہتا ہے کہ وسائل کے مطابق اخراجات کریں اور اگر مشکل فیصلے کرنا ہیں تو وہ کریں، آئی ایم ایف اورپاکستان کے اچھے تعلقات ہیں، آئی ایم ایف نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو 1.4 ارب ڈالر کی معاونت فراہم کی، پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان مشاورت کاسلسلہ جاری ہے، اسی طرح کی مشاورت پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اوردیگر بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں سے کرتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here