حکومت کا آئندہ مالی سال کے لیے 2.17 کھرب روپے کے غیرملکی قرضے لینے کا فیصلہ

137

اسلام آباد: حکومت نے آئندہ مالی سال 2020-2021 کے لیے 2.17 کھرب روپے کے غیرملکی قرضے لینے کا منصوبہ کر رکھا ہے، حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران 2.188 کھرب روپے کے غیرملکی قرضے وصول کیے تھے۔

گزشتہ مالی سال کے لیے غیرملکی قرضوں کا حقیقی تخمینہ تین کھرب روپے لگایا گیا تھا۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق، موجودہ حکومت کو پہلے سے لیے جانے والے قرضوں کی ادائیگی کے لیے 2.17 کھرب روپے کے مزید قرضے لینا ہوں گے، جو مختلف ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ ہیں۔

تاہم، فیڈرل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے ساتھ ساتھ پی ایس ڈی پی سے باہر کے دونوں منصوبوں میں غیرملکی گرانٹ کم ہو کر 20.667 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، مالی سال 2020 میں ملک نے 32.4 ارب کی یہ گرانٹ وصول کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے:

وفاقی بجٹ، ماہرین کا حکومت سے ٹیکس اصلاحات لانے کا مطالبہ

تحریک انصاف کا دور، قرضے 9.2 کھرب اضافے سے 33.4 کھرب ہوگئے

آئی ایم ایف پاکستان کا سالانہ ٹیکس ہدف کم کرنے پر آمادہ، 4.9 کھرب روپے مقرر کر دیا

بجٹ دستاویزات کے مطابق، مالی سال 2021 میں حکومت اسلامک ڈویلپمنٹ بینک سے 165 ارب روپے کی خریداری کرے گی جو مالی سال 2020 میں مذکورہ بینک سے 127.117 ارب روپے وصول کرنے کے علاوہ ہوں گے۔

اس دوران سعودی عرب کے ساتھ تیل کی ملتوی ہونے والی ادائیگی کے شیڈول کے تحت حکومت کو آئندہ مالی سال میں 165 ارب روپے کا مزید ریلیف ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، 480 ارب روپے کے تیل کی خریداری میں سے حکومت نے گزشتہ مالی سال صرف 138.840 ارب روپے کا تیل حاصل کیا تھا۔

بین الاقوامی سکوک کے ذریعے مالی سال 2021 میں حکومت 247.5 ارب روپے حاصل کرے گی۔ اس کے علاوہ حکومت کمرشل بینکوں سے 647.213 ارب روپے کے قرضے وصول کرے گی۔

2.17 کھرب روپے کے بیرونی قرضوں میں سے 218 ارب روپے کے قرضے ترقیاتی منصوبوں کے لیے تھے جس میں سے وفاقی حکومت، وزارتیں، ڈویژنیں اور صوبوں کے لیے باالترتیب 66.822 ارب روپے، 13.274 ارب روپے اور 53.54 ارب روپے کے شئیرز شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق، حکومت نے پی ایس ڈی پی سے باہر کے منصوبوں کے لیے کم از کم 44.750 ارب روپے کے قرضوں کا تخمینہ لگا رکھا ہے جس میں 2.34 ارب روپے کی گرانٹ شامل ہیں۔

اگر پی ایس ڈی پی سے باہر منصوبوں کے قرضوں کو شامل کیا جائے تو مالی سال 2021 میں 2.22 کھرب روپے کے مجموعی بیرونی وسائل کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

2.22 کھرب روپے کے غیرملکی قرضوں میں سے حکومت 1.22 کھرب روپے قرضوں کی ادائیگی کے لیے خرچ کرے گی جبکہ 183.691 ارب روپے شورٹ ٹرم کریڈٹ کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال میں 810.347 ارب روپے کے مجموعی بیرونی وسائل ہو جائیں گے۔

بجٹ دستاویزات میں اعتراف کیا گیا ہے اگر صحیح معنوں میں بیرونی امداد کو استعمال کی جائے تو یہ غیرملکی مالی امداد مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here