وفاقی بجٹ، ماہرین کا حکومت سے ٹیکس اصلاحات لانے کا مطالبہ

335

لاہور: ملک کے بڑے ٹیکس ماہرین اور کنسلٹینٹس نے کہا ہے کہ جمعہ کے روز پیش کیا جانے والا وفاقی بجٹ 2020-2021 ملکی معاشی صورتحال پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے، ماہرین نے ٹیکس اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پرافٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ٹیکس کنسلٹینٹ ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ پاکستان میں معیشت میں بدحالی کی ایک بنیادی وجہ جابرانہ، غیرمنصفانہ اور پیچیدہ ٹیکس نظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ “فنانس بل 2020 کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کے مسائل کو کم کرنے کے لیے بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔ حکومت نے کاروباروں کی بحالی اور بقاء کو یقینی بنانے کے اعتبار سے ٹیکسیشن کے منفی کردار میں تبدیلی نہیں کی”۔

کورونا وائرس کی وجہ سے گزشتہ مالی سال پاکستان کی تاریخ میں بدترین رہا اور ترقی کی شرح منفی ہونے کے ساتھ 3500 ارب روپے کا بجٹ خسارہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے:

سرمایہ کاری، صنعتی و تجارتی ترقی کیلئے ٹیکس اصلاحات کی ضرورت پر زور

کے پی حکومت آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس فری بجٹ پیش کرے گی

اکرام الحق نے کہا کہ “وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) 5.5 کھرب روپے کے حقیقی ٹیکس میں 900 ارب روپے خسارے کے بڑے مارجن سے اکٹھا کرنے میں ناکام رہا۔ اتنا بڑا فرق صرف کورونا وائرس کی وجہ سے نہیں ہو سکتا”۔

“ایف بی آر کی نااہلی کی وجہ سے آمدن میں اتنا بڑا فرق سامنے آیا ہے۔ شہریوں کی تعمیل کی لاگت بہت زیادہ ہے کیونکہ 90 فیصد محصولات ودہولڈنگ، ایڈوانس ٹیکس یا ٹیکس ریٹرن کے ذریعے وصول کیے جاتے ہیں”۔

ٹیکس کنسلٹینٹ نے حکومت سے ٹیکس اصلاحات لانے کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے اور غیرضروری ودہولڈنگ ٹیکسز ختم کرنے کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ “آمدن میں مختلف اضافی ٹیکسز کے ذریعے اور کئی ودہولڈنگ ٹیکس کی حکمتِ عملی بری طرح سے ناکام ہوگئی ہے”۔

ٹیکس کنسلٹینٹ حزیمہ بخاری نے اکرام الحق سے متفق ہوتے ہوئے امریکہ میں ٹیکس نظام پر کیے جانے والے عملدرآمد جیسے نظام کو اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔

حزیمہ بخاری نے اس بات پر زور دیا کہ اگر امریکہ کی طرز پر پاکستان میں ٹیکس نظام پر عملدرآمد کیا گیا تو یہ نظام آسان ہوجائے گا اور یہ ٹیکس انکم کی بجائے کھپت کے معنوں میں تبدیل ہوجائے گا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اکانومک سروے 2019-2020 میں ٹیکس ایمنسٹی 2018 اور 2019 کے اثرات کو شامل نہ کرنے کے سبب 1149.95 ارب روپے کے ٹیکس اخراجات کو کم خیال کیا گیا ہے۔ ٹیکس کنسلٹینٹ نے اپنی تجویز میں کہا کہ سیلز ٹیکس میں تبدیلی کے ذریعے اسکی شرح کو 8 فیصد تک کم کیا جانا چاہیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here