71 کھرب 37 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا

سیلز ٹیکس کی شرح 14 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد، سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 2روپے سے کم کرکے 1روپے 75 پیسے، پاکستان میں بنائے جانے والے موبائل فونز پر سیلز ٹیکس میں کمی، درآمدات پر انکم ٹیکس کی شرح کو خام مال پر 5.5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد اور مشینری پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کیا گیا ہے‘ کم سے کم تنخواہ 15 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کردی گئی‘

1303
وفاقی وزیر حماد اظہر مال سال 2020-21ء کا بجٹ پیش کر رہے ہیں، فوٹو: پی آئی ڈی

اسلام آباد: آئندہ مالی سال 2020-21ء کا 7137 ارب روپے (71 کھرب 37 ارب) حجم کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2874 ارب روپے کا ریونیو صوبوں کو منتقل کیا جائے گا‘ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 7 فیصد رہنے کا امکان ہے، سماجی تحفظ کا پروگرام 187 ارب سے بڑھا کر 208 ارب روپے کر دیا گیا، توانائی، خوراک اور دیگر شعبوں میں سبسڈی کیلئے 179 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، محصولات کا ہدف 6573 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

بجٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح 14 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کر دی گئی، سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 2 روپے سے کم کرکے 1 روپے 75 پیسے کردی گئی، پاکستان میں بنائے جانے والے موبائل فونز پر سیلز ٹیکس میں کمی کی گئی ہے‘ درآمدات پر انکم ٹیکس کی شرح کو خام مال پر 5.5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد اور مشینری پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کیا گیا ہے‘موٹرسائیکل رکشہ اور 200 سی سی تک موٹرسائیکل پر ایڈوانس ٹیکس ختم کردیا گیا‘ ٹیکس ادا نہ کرنے والے ایسے افراد جو سکول کی سالانہ فیس 2 لاکھ روپے سے زائد ادا کرتے ہیں ان سے سو فیصد زائد ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے ‘ ڈبل کیبن پک اپ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے‘ انرجی ڈرنکس پر ایف ای ڈی 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد‘ درآمدی سگریٹس‘ بیڑی‘ سگار اور تمباکو کی دیگر اشیاء پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

کوویڈ 19 سے متعلقہ صحت کے ساز و سامان کی درآمد پر جاری استثنیٰ مزید تین ماہ کے لئے توسیع دی گئی ہے، آئندہ مالی سال کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو کو -0.4 فیصد سے بڑھا کر 2.1 فیصد پر لایا جائے گا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کو 4.4 فیصد تک محدود رکھا جائے گا، افراط زر کی شرح 9.1 فیصد سے کم کرکے 6.5 فیصد تک لائی جائے گی، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 25 فیصد تک کا اضافہ کیا جائے گا،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنروں کی پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا البتہ کم سے کم تنخواہ 15 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کردی گئی۔

 جمعہ کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2020-21ء پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا ان کیلئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی مثالی قیادت میں اگست 2018ء میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ہم نے مشکل سفر سے ابتدا کی اور معیشت کی بحالی کیلئے اپنی کاوشیں شروع  کیں تاکہ وسط مدت میں معاشی استحکام اور شرح نمو میں بہتری لائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری معاشی پالیسیوں کا مقصد اس وعدے کی تکمیل ہے جو ہم نے ”نیا پاکستان“ بنانے کیلئے عوام سے کر رکھا ہے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران ہمارے رہنما اصول رہے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے، سرکاری اداروں میں زیادہ شفافیت لائی جائے اور احتساب کا عمل جاری رکھا جائے اور ہر سطح پر فیصلہ سازی کے عمل میں میرت پر عملدرآمد کیا جائے۔ ہمارا بنیادی مقصد معیشت کی بحالی اور اسلامی جمہوری پاکستان کو مستحکم و مضبوط معیشت کے راستے پر گامزن کرنا ہے تاکہ ان منازل و مقاصد کو حاصل کیا جاسکے جن کا خواب ہمارے وطن عزیز کے بانیوں نے دیکھا تھا۔ تحریک انصاف سماجی انصاف کی فراہمی، معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات کی حالت بہتر بنانے کے اصول پر کاربند ہے اور مفلسی و غربت میں پسے ہوئے ہم وطنوں کیلئے کام کرنے کا عزم رکھتی ہے، یہی ہمارا وژن اور رہنما اصول ہے۔

حماد اظہر نے بجٹ پیش کرنے سے قبل ایوان کو آگاہ کیا کہ جب 2018ء میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو اسے معاشی بحران ورثہ میں ملا، اس وقت ملکی قرض پانچ سالوں میں دگنا ہوکر 31 ہزار ارب روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا تھا جس پر سود کی رقم کی ادائیگی ناقابل برداشت ہوچکی تھی۔ جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر کی حد تک پہنچ چکا تھا جبکہ گزشتہ پانچ سالوں میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ پاکستانی روپے کی قدر کو غیر حقیقی اور مصنوعی طریقے سے بلند سطح پر رکھا گیا جس سے برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے گھٹ کر 10 ارب ڈالر سے کم رہ گئے تھے جس کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب آگیا تھا۔ بجٹ خسارہ 2300 ارب روپے کی بلند سطح پر پہنچ چکا تھا۔ ناقص پالیسیوں اور بدانتظامی کے باعث بجلی کا گردشی قرضہ 485 ارب کی ادائیگی کے باوجود 1200 ارب روپے کی انتہائی حد تک پہنچ چکا تھا جس کا بوجھ عوام پر ڈالا گیا۔ سرکاری اداروں کی تعمیرنو نہ ہونے سے ان کو 1300 ارب روپے سے زائد نقصانات کا سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک سے بے تحاشا قرضہ جات لئے گئے جس سے بینکاری نظام کو شدید نقصان پہنچا۔ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کیلئے مالی معاونت کی روک تھام کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے تھے جس کی وجہ سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا۔ ہم نے مالی سال 2019-20ء کا آغاز پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کردہ اہداف کو حاصل کرنے کیلئے کیا جس کیلئے ہم نے موزوں فیصلے اور اقدامات اٹھائے جس سے معیشت کو استحکام ملا۔ نتیجتاً مالی سال 2019-20ء کے پہلے 9 ماہ کے دوران 2018-19ء کے اسی عرصہ کے مقابلے میں اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں جاری کھاتوں کے خسارے کو 73 فیصد کم کیا گیا جو 10 ارب ڈالر سے گھٹ کر 3 ارب ڈالر رہ گیا۔ اس مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں بجٹ کا خسارہ 5 فیصد سے کم ہو کر 3.8 فیصد رہ گیا۔ گزشتہ 10 سالوں میں پہلی بار پرائمری سرپلس مثبت ہو کر جی ڈی پی کے 0.4 فیصد تک رہا۔ اس مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ایف بی آر کے ریونیو میں 17 فیصد کا اضافہ ہوا اور ہم 4,800 ارب کا بڑا ہدف حاصل کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ نان ٹیکس ریونیو میں 134 فیصد کا اضافہ ہوا اور ہم اس مالی سال میں 1162 ارب کے ہدف کے مقابلے میں 1600 ارب کا ریونیو حاصل کریں گے۔ حکومت نے 6 ارب ڈالر کے بیرونی قرضہ کی ادائیگی کی جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصہ میں ادائیگی 4 ارب ڈالر تھی۔ اس ادائیگی کے بعد بھی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم پر رہے۔

وزیر صنعت و پیداوار نے کہا کہ یہ امر قابل غور ہے کہ ماضی کے بھاری قرضوں کی وجہ سے ہم نے اپنے دو سالہ دور حکومت میں 5000 ارب کا سود ادا کیا ہے جس سے خزانے پر غیر معمولی بوجھ پڑا ہے، ہم نے خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 152 ارب کا تاریخی پیکیج دیا ہے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں تقریباً دس لاکھ پاکستانیوں کیلئے بیرون ملک ملازمت کے مواقع پیدا کئے گئے جس سے ترسیلات زر 16 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر ہو گئیں۔ بیرونی براہ راست سرمایہ کاری 0.9 ارب ڈالر سے تقریباً دگنی ہو کر 2.15 ارب ڈالر ہو گئی۔ 74 فیصد اندرونی قرضہ جات کو طویل المیعادی قرضہ جات میں تبدیل کیا گیا جس کی وجہ سے لاگت 14 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد ہو گئی۔ ہمارے اصلاحاتی پروگرام کو سراہتے ہوئے آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کی منظوری دی۔ مشہور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے ہماری معیشت کی درجہ بندی بی تھری نیگیٹو سے بہتر کرکے بی تھری پازیٹو قرار دی۔ بلومبرگ نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو دسمبر 2019ء نے دنیا کی بہترین مارکیٹس میں شمار کیا۔

حماد اظہر کا بجٹ تقریر میں کہنا تھا کہ حکومت کے جن معاشی فیصلوں کے نتیجہ میں مالیاتی استحکام پیدا ہوا۔ بجٹ فنانسنگ کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے ادھار لینے کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔ ایکسچینج ریٹ کو غیر حقیقت پسندانہ حکومتی کنٹرول سے آزاد کرکے مارکیٹ کیلئے مفید کیا گیا۔ اس فیصلہ سے زرمبادلہ کی منڈی میں استحکام پیدا ہوا اور زرمبادلہ کی عدم دستیابی کا مسئلہ حل کرنے میں مدد ملی، کوئی ضمنی گرانٹس نہیں دی گئیں۔ ترقیاتی اخراجات کی راہ میں حائل سرخ فیتے کی رکاوٹ کو ختم کر کے تعمیر و ترقی کیلئے سہولت پیدا کی گئی۔ قرضے کے انتظام میں بہتری لائی گئی جس سے 240 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ سٹاک آف پبلک گارنٹیز میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور نقصانات میں کمی لانے کیلئے سٹرکچرل ریفارمز شروع کی گئیں اور جہاں ناگزیر تھا شفاف انداز سے ان کی نجکاری کا آغاز کیا۔ نومبر 2019ء میں نیشنل ٹیرف پالیسی کی منظوری دی گئی جس کا مقصد ہماری مصنوعات کی عالمی منڈی میں دیگر ممالک کی مصنوعات کے مقابلے میں بہتری لانا، روزگار میں اضافہ کرنا اور ٹیرف سٹرکچر میں پائی جانے والی خرابیوں اور سقم کو دور کرنا تھا۔ میڈ اِن پاکستان کے نام کے ساتھ پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرایا گیا ہے۔ توانائی کے شعبے میں بہتری لانے اور نقصانات کو کم کرنے کیلئے اصلاحات کی گئیں۔کاروباری طبقے کو اس سال 254 ارب روپے کے ریفنڈ جاری کئے گئے جو گزشتہ سال کے 113 ارب روپے کے مقابلے میں 125 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ وزارت تجارت کو ڈی ایل ٹی ایل کلیمز کی ادائیگی کیلئے 35 ارب روپے فراہم کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام اہم شعبوں میں شفافیت اور احتساب کے عمل میں بہتری لانے کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات شروع کیں۔ ہم نے پبلک فنانس کے بہتر انتظام کیلئے دور رس اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے۔ ان اصلاحات سے وفاقی حکومت کی فنانشل مینجمنٹ میں زیادہ شفافیت اور بہتری آئی ہے۔ پبلک فنانس مینجمنٹ (پی ایف ایم) ایکٹ 2019ء کا نفاذ کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت نے پی ایف ایم ایکٹ کے تحت بجٹ سٹرٹیجی پیپر کابینہ اور قومی اسمبلی میں پیش کیا اور پہلی مرتبہ سالانہ بجٹ گوشوارہ کے ساتھ کنٹیجنٹ لائبلٹیز اور فسکل رسک کے گوشوارے بھی پارلیمنٹ میں پیش کئے جائیں گے۔ ٹریژری سنگل اکاؤنٹ کے نفاذ کیلئے قواعد و ضوابط منظوری کے آخری مرحلہ میں ہیں۔ پنشن کے نظام میں اصلاحات لائی گئیں جس سے پنشن کی ادائیگی خود کار نظام سے ہو رہی ہے۔ اس سے تقریباً 20 ارب روپے کی بچت ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کفایت شعاری اور حکومتی اداروں کی تنظیم نو کیلئے وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو سرکاری اور نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل ہے۔ اس ٹاسک فورس نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں 43 اداروں کی نجکاری، 8 غیر فعال اداروں کو ختم کرنے، 14 اداروں کی صوبوں کو منتقلی کرنے اور 35 اداروں کو دوسرے اداروں میں ضم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس تنظیم نو سے وفاقی حکومت کے غیرپیداواری مالیاتی بوجھ کو کم کیا جا سکے گا۔ احساس کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو کر کے شفافیت لائی گئی جس سے 8 لاکھ 20 ہزار جعلی بینفشریز کو مستحقین کی فہرست سے نکالا گیا، مزید برآں ڈیٹا پاکستان پورٹل کا آغاز کیا گیا جس سے ادائیگیوں کے نظام میں مزید بہتری لائی گئی۔

وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے کہا کہ آر ایل این جی ٹو پلانٹس، جو بند ہونے کے قریب تھے، کی بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں جس سے ان کی کارکردگی میں قابل قدر بہتری آئی ہے۔ اس کے علاوہ کلیدی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا گیا۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کی آمدن میں 70 فیصد، پاکستان پوسٹ کی آمدن میں 50 فیصد اور کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کی آمدن میں 17 فیصد اضافہ کیا گیا اور ان کی استطاعت، کارکردگی اور شفافیت میں بہتری لائی گئی۔ ہم نے کاروبار اور صنعت کو ترقی دینے اور بیرونی سرمایہ کاری کا رخ پاکستان کی طرف موڑنے کیلئے کاروبار میں آسانی کئی اقدامات اٹھائے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان میں کاروبار کرنے کی رینکنگ میں 190 ممالک میں 136 ویں نمبر سے بہتری حاصل کر کے 108 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے اور انشاء اللہ اس میں مزید بہتری آئے گی۔

ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد

انہوں نے کہا کہ جون 2018ء میں فنانشل ایکشن ٹآسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا اور ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے 27 قابل عمل نکات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ ہماری حکومت نے اپنی اے ایم ایل/سی ایف ٹی (اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ ٹیررفنانسنگ) رجیم کو بہتر بنانے کیلئے زبردست کاوشیں کیں تاکہ ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت نے قومی اور بین الاقوامی اے ایم ایل/سی ایف ٹی سرگرمیوں اور حکمت عملی کی تشکیل اور نفاذ کیلئے نیشنل ایف اے ٹی ایف رابطہ کمیٹی کی سربراہی مجھے سونپی ہے۔ جامع قسم کی قانونی تکنیکی اور انتظامی اصلاحات شروع کی گئی ہیں، ان اقدامات سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔ ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے 27 قابل عمل نکات کے سلسلہ میں ہم نے نمایاں پیشرفت کی۔ ایک سال کے عرصہ میں 14 نکات پر مکمل عمل کیا گیا ہے اور 11 پر جزوی طور پر عمل درآمد کیا گیا ہے جبکہ دو شعبوں میں عمل درآمد کیلئے زبردست کوششیں جاری ہیں۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کورونا وائرس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے دنیا کو سنگین سماجی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کیلئے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پہلے تو اسے انسانی صحت کیلئے مسئلہ سمجھا گیا لیکن جلد ہی اس کے معاشی اور سماجی مضمرات بھی سامنے آئے۔ پاکستان بھی کورونا کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا اور ہم نے معیشت کے استحکام کیلئے جو کاوشیں اور محنت کی تھی اس آفت سے ان کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس مشکل وفقت میں عوام کی زندگی کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کیلئے ایسے اقدامات اور فیصلے کئے جا رہے ہیں جن سے لوگوں کی زندگی اور ذریعہ معاش کم سے کم متاثر ہو۔

کورونا سے 3300 ارب روپے کا نقصان

انہوں نے کہا کہ طویل لاک ڈاؤن، ملک بھر میں کاروباری بندش، سفری پابندیوں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے نتیجہ میں معاشی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں جس کی وجہ سے جی ڈی پی کی شرح نمو اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بے روزگاری بڑھنے سے ترقی پذیر ممالک میں غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے جس سے پاکستان بھی نہ بچ سکا۔ مالی سال 2019-20ء کے دوران پاکستان پر کورونا کے جو فوری اثرات ظاہر ہوئے ہیں ان کی وجہ سے تقریباً تمام صنعتیں اور کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔ جی ڈی پی میں اندازاً 3300 ارب روپے کی کمی ہوئی جس سے اس کی شرح نمو 3.3 فیصد سے کم ہو کر 0.4 فیصد تک رہ گئی۔ مجموعی بجٹ خسارہ جو جی ڈی پی کا 7.1 فیصد تک تھا جو 9.1 فیصد تک بڑھ گیا۔ فیڈرل بورد آف ریونیو (ایف بی آر) محصولات میں کمی کا اندازہ 900 ارب روپے ہے۔ وفاقی حکومت کا نان ٹیکس ریونیو 102 ارب روپے کم ہوا ہے۔ برآمدات اور ترسیلات زر بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

1200 ارب روپے کا امدادی پیکج

انہوں نے کہا کہ حکومت اس سماجی و معاشی چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے معاشرے کے کمزور طبقے اور شدید متاثر کاروباری طبقے کی طرف حکومت نے مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے تاکہ کاروبار کی بندش اور بے روزگاری کے منفی اثرات کا ازالہ کیا جا سکے۔ کورونا کے اثرات کے تدارک کیلئے حکومت نے 1200 ارب روپے سے زائد کے پیکیج کی منظوری دی۔ مجموعی طور پر 875 ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ سے فراہم کی گئی ہے۔ طبی آلات کی خریداری، حفاظتی لباس اور طبی شعبے کیلئے 75 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ 150 ارب روپے ایک کروڑ 60 لاکھ کمزور اور غریب خاندانوں اور پناہ گاہوں کیلئے مختص کئے ہیں۔ 200 ارب روپے روزانہ اجرت کمانے والے ورکرز/ملازمین کو کیش ٹرانسفر کیلئے مختص کئے ہیں۔ 50 ارب روپے یوٹیلٹی سٹورز پر رعایتی نرخوں پر اشیاء کی فراہمی کیلئے مختص کئے ہیں۔ 100 ارب روپے ایف بی آر اور وزارت تجارت کیلئے مختص تھے تاکہ وہ برآمد کنندگان کو ریفنڈز کا اجراء کرے۔ 100 ارب روپے بجلی اور گیس کے مؤخر شدہ بلوں کیلئے مختص ہیں۔ وزیراعظم نے چھوٹے کاروباروں کیلئے خصوصی پیکیج دیا جس کے تحت ٰتقریباً 30 لاکھ کاروباروں کے 3 ماہ کے بجلی کے بل کی ادائیگی کیلئے 50 ارب فراہم کئے گئے۔

زراعت کیلئے 100 ارب روپے کا ایمرجنسی فنڈ

انہوں نے کہا کہ کسانوں کو سستی کھاد، قرضوں کی معافی اور دیگر ریلیف کیلئے 50 ارب کی رقم دی گئی، 100 ارب روپے ایمرجنسی فنڈ قائم کرنے کیلئے مختص ہیں۔ اس پیکیج سے وفاقی حکومت کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا جس کیلئے وفاقی حکومت کو سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دینا پڑی۔ فنانس ڈویژن نے معتلقہ اداروں خاص طور پر احساس پروگرام، نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن اور ایف بی آر کیلئے فنڈز کا بندوبست اور اجراء کیا ہم ان اداروں کی پیکیج پر عملدرآمد کرنے کے سلسلہ میں بجا لائی گئی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حکومت نے کسانوں اور عام آدمی کا احساس کرتے ہوئے ریلیف کے اقدامات کئے ہیں جس کیلئے انہیں خوراک اور طبی ساز و سامان کی مد میں 15 ارب روپے کی ٹیکس کی چھوٹ دی۔ 280 ارب روپے کسانوں کو گندم کی خریداری کی مد میں ادا کئے گئے۔ پٹرول کی قیمتوں میں 42 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں 47 روپے فی لیٹر تک کی کمی کر کے پاکستان کے عوام کو 70 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔

تعمیراتی شعبے کیلئے پیکج

معیشت کی بحالی کیلئے ہم نے تعمیراتی شعبے اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کیلئے رعایتی ٹیکس نظام متعارف کرا کر تاریخی مراعات بھی دی ہیں۔ فکسڈ ٹیکس نظام وضع کیا۔ بلڈرز اور ڈویلپرز (سوائے سٹیل اور سیمنٹ کی خریداریوں کے) ود ہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ دی ہے تاکہ عوام کو سستے گھر میسر ہو سکیں۔ آمدنی کا ذریعہ نہیں پوچھا جائے گا، خاندان کیلئے ایک گھر پر کیپٹل گین ٹیکس کی چھوٹ ہو گی، سستی رہائشوں کی تعمیر پر 90 فیصد ٹیکس ختم کیا گیا ہے، تعمیرات کو صنعت کا درجہ دیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے برے اثرات کے ازالے کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی بہت سے اقدامات متعارق کرائے ہیں۔ پالیسی ریٹ میں 5.25 فیصد کی بڑی کمی کی گئی ہے جو 13.25 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے۔

کاروباروں کیلئے آسان قرضوں کا اجراء

وفاقی وزیر نے کہا کہ کاروبار کے پے رول لون میں تین ماہ کیلئے 96 ارب کی رقم 4 فیصد کم شرچ سود پر فراہم کی گئی ہے تاکہ بیروزگاری سے بچا جا سکے۔ سات لاکھ 75 ہزار قرض خواہوں کو 491 ارب کے اصل قرض کی ادائیگی ایک سال کیلئے موخر کرکے سہولت بہم پہنچائی ہے اور 75 ارب کا قرض ری شیڈول کیا گیا ہے۔ انفرادی اور کاروباری قرضوں کے لئے بینکوں کو اضافی 800 ارب روپے قرض دینے کی اجازت دی گئی ہے جس کیلئے قرض کی حد میں اضاضہ کیا گیا ہے۔

برآمدات و درآمدات کیلئے اقدامات

حماد  اظہر نے بجٹ تقریر میں کہا کہ درآمدات اور برآمدات کے حوالہ سے بھی اقدامات کئے گئے ہیں۔ پرفارمنس ریکوائرمنٹ کو پورا کرنے کیلئے مدت میں توسیع دی گئی ہے۔ مال کی ترسیل کیلئے اوقات کار صبح 6 سے رات 12 بجے کر دیئے گئے ہیں۔ طویل مدتی قرضوں کے حصول کیلئے شرائط میں نرمی کی گئی ہے۔ برآمدات سے حاصل زر مبادلہ کی وصولی کا وقت 270 دن تک بڑھا دیا گیا ہے۔ برآمد کنندگان براہ راست شپنگ دستاویزات کی ترسیل کر سکتے ہیں۔ درآمدات کیلئے پیشگی ادائیگیوں کی حد بڑھا کر سہولت دی گئی ہے۔

بجٹ 2020-21ء: کوئی نیا ٹیکس نہیں

حماد اظہر نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ کی تفصیل کے مطابق کورونا سے پیدا شدہ مشکلات کے تناظر میں یہ بجٹ اس بحرانی صورتحال سے نبٹنے کیلئے تشکیل دیا گیا ہے۔ معیشت کی رفتار کم ہونے کا خدشہ ہے جس کیلئے توسیعی مالیاتی پالیسی کی ضرورت ہے۔ بجٹ 2020-21ء کی حکمت عملی کے نمایاں خدوحال کے مطابق

عوام کو ریلیف پہنچانے کیلئے اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانا

مجوزہ ٹیکس مراعات معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گی

کورونا اخراجات اور مالیاتی خسارے کے مابین توازن قائم رکھنا

پرائمری بیلنس کو مناسب سطح پر رکھنا

معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات کی مدد کیلئے احساس پروگرام کے تحت سماجی اخراجات کا عمل جاری رکھنا

آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے جاری رکھنا

کورونا کی تباہ کاریوں سے نبٹنے کیلئے اگلے مالی سال میں بھی عوام کی مدد جاری رکھنا

ترقیاتی بجٹ کو موزوں سطح پر رکھنا تاکہ معاشی نمو میں اضافے کے مقاصد پورے ہوسکیں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوسکیں

حکومتی آمدن، اخراجات، خسارہ

حماد اظہر کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کل ریونیو کا تخمینہ 6573 ارب روپے ہے جس میں ایف بی آر کا ریونیو ہدف 4963 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو 1610 ارب روپے شامل ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2874 ارب روپے کا ریونیو وصوبوں کو ٹرانسفر کیا جائے گا۔ مجموعی وفاقی ریونیو کا تخمینہ 3700 ارب روپے ہے۔ کل وفاقی اخراجات کا تخمینہ 7137 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس طرح بجٹ خسارہ 3437 ارب روپے تک رہنے کی توقع ہے جو جی ڈی پی کا 7 فیصد بنتا ہے اور پرائمری بیلنس 0.5 فیصد ہوگا۔

سماجی تحفظ کے پروگرام 

وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات کی معاونت حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے، اس کیلئے ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت تمام متعلقہ اداروں کو نئی تشکیل کردہ غربت کے خاتمہ و سماجی سکیورٹی ڈویژن بنا کر ضم کر دیا گیا ہے۔ احساس غریب پرور پروگرام کیلئے پچھلے سال 187 ارب روپے رکھے گئے تھے، اس کو بڑھا کر 208 ارب روپے کر دیئے گئے ہیں جس میں سماجی تحفظ کے بہت سے پروگرام شامل ہیں جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، پاکستان بیت المال اور دیگر محکمے شامل ہیں۔ یہ مختص رقوم حکومت کی منظور کردہ پالیسی کے مطابق شفاف انداز سے ان طبقات پر خرچ کی جائیں گی۔

سبسڈیز 

توانائی، خوراک اور دیگر شعبوں کو مختلف اقسام کی سبسڈیز دینے کیلئے 179 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ حکومت نے خاص طور پر پسماندہ طبقات کو امداد پہنچانے کیلئے سبسڈیز کا قبلہ درست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اعلیٰ تعلیم 

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کیلئے وافر رقوم رکھی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ایچ ای سی کی تخصیص میں جو 2019-20ء میں 59 ارب روپے تھی بڑھا کر 64 ارب روپے کر دی گئی ہے۔

نیا پاکستان ہائوسنگ 

حماد اظہر نے کہا کہ حکومت نے عوام کو کم قیمت پر مکانات فراہم کرنے کیلئے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کو 30 ارب روپے فراہم کئے ہیں۔ مزید یہ کہ اخوت فاؤنڈیشن کی قرضہ حسنہ اسکیم کے ذریعے کم لاگت رہائشی مکانات کی تعمیر کے لئے ڈیڑھ ارب مختص کئے گئے ہیں۔

خصوصی علاقوں کیلئے بجٹ

انہوں نے کہا کہ خصوصی علاقوں آزاد جموں و کشمیر کے لئے 55 ارب روپے اور گلگت بلتستان کے لئے 32 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لئے 56 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، سندھ کو 19 ارب روپے اور بلوچستان کو 10 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ ان کے، این ایف سی حصے سے زائد فراہم کی گئی ہے۔

ریلوے 

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر بڑھانے کیلئے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں جس سے رقوم کی منتقلی بینکوں کے ذریعے بڑھانے کے لئے 25 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو سستی ٹرانسپورٹ سروسز فراہم کرنے کے لئے، پاکستان ریلوے کے لئے 40 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

کامیاب جوان پروگرام 

وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ پاکستان کو ترقی پسند ملک بنانے کے لئے نوجوانوں کے کردار پر زور دیا ہے۔ کامیاب نوجوان پروگرام نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لئے حکومت کا خصوصی پروگرام ہے جس کے لئے 2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وفاق کے ہسپتالوں کیلئے 13 ارب روپے

انہوں نے کہا کہ لاہور اور کراچی میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہسپتالوں کے لئے 13 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ جن میں شیخ زید ہسپتال لاہور، جناح میڈیکل سنٹر کراچی اور دیگر چار ہسپتال شامل ہیں۔

ای گورننس 

ای گورننس کے ذریعے پبلک سروسز کی فراہمی کو بہتر بنانا وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے۔ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر، وزارت انفارمیشن ؔٹیکنالوجی نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو الیکٹرانک طور پر مربوط کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے کے لئے 1 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔

فنکاروں کی مدد

انہوں نے کہا کہ فنکار ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی مالی امداد اور فلاح و بہبود کے لئے صدر پاکستان کی ہدایت پر حکومت نے آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کی رقم 25 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کر دی ہے۔

اصلاحاتی پروگراموں کیلئے خصوصی فنڈز

مختلف اصلاحاتی پروگراموں کے لئے خصوصی فنڈز کا قیام کیا گیا ہے جن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کیلئے وائیبلٹی گیپ فنڈ کے لئے 10 کروڑ روپے، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ کیلئے 40 کروڑ روپے اور پاکستان انوویشن فنڈ کے لئے 10 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

زرعی شعبہ

انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ میں ریلیف پہنچانے کیلئے اور ٹڈی دل کی روک تھام کے لئے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

حکومتی اہداف

حماد اطہر نے بجٹ تقریر کے دورا کہا کہ حکومت نے سال 2020-21ء کے دوران ہدف مقرر کیا ہے کہ

جی ڈی پی کی شرح نمو کو -0.4 فیصد سے بڑھا کر 2.1 فیصد پر لایا جائے گا

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4.4 فیصد تک محدود رکھا جائے گا

افراط زر کو یعنی مہنگائی 9.1 فیصد سے کم کر کے 6.5 فیصد تک لائی جائے گی

بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں 25 فیصد تک کا اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی ایجنڈا پر عملدرآمد حکومت کے وژن کے مطابق جاری ہے تاکہ مستحکم معاشی شرح نمو کا حصول ممکن ہو سکے۔ غربت میں کمی، بنیادی انفراسٹرکچر میں بہتری اور خوراک، پانی و توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

ترقیاتی بجٹ اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات 1324 ارب روپے ہے۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے جس کیلئے 650 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے مالی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے، منصوبوں کی لاگت میں اضافے سے بچنے کے لئے جاری منصوبوں کے لئے 73 فیصد اور نئے منصوبوں کے لئے 27 فیصد رقم مختص کی گئی ہے۔

سماجی شعبہ

سماجی شعبے کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جس کے لئے گزشتہ سال 206 ارب روپے کی رقم کو بڑھا کر 249 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019ء کی دفعات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا اور دیگر قدرتی آفات سے پیدا صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت نے کورونا اور دیگر آفات کی وجہ سے انسانی زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات کو زائل کرنے اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے جس کے لئے 70 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجلی، آبی وسائل

انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ توانائی کی توسیعی منصوبوں اور بجلی کی ترسیل و تقسیم کا نظام بہتر بنانے اور گردشی قرضوں کو کم کرنے کی طرف مرکوز ہے۔ سپیشل اکنامک زونز کو بجلی کی فراہمی کے منصوبوں اور غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کی خاطر خواہ مالی وسائل رکھے گئے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت نے 80 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ ان فنڈز کو خاص طور پر بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لئے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ اس سال، حکومت پانی سے متعلق منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس ضمن میں 69 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ کثیر المقاصد ڈیم بالخصوص دیامر بھاشا، مہمند اور داسو کیلئے خاطر خواہ مالی وسائل فراہم کئے گئے ہیں۔ ان منصوبوں سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ 30 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔

سی پیک منصوبے، شاہراہیں، ایم ایل وَن 

انہوں نے کہا کہ صنعتی رابطوں، تجارت و کاروبار کے فروغ کیلئے این ایچ اے کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل ترجیح دی گئی ہے۔ بالخصوص سی پیک کے تحت منصوبوں کو بشمول مغربی روٹ کیلئے وافر وسائل فراہم کئے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں 118 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ریلوے کے ایم ایل۔1 اور دیگر منصوبوں کیلئے 24 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ مواصلات کے دیگر منصوبوں کیلئے 37 ارب مختص کئے گئے ہیں۔

شعبہ صحت

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے تناظر میں صحت کا شعبہ حکومت کی خصوصی ترجیح ہے اور بہتر طبی خدمات، وبائی بیماریوں کی روک تھام، طبی آلات کی تیاری اور صحت کے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے 20 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ کورونا کے علاج اور تدارک کے اقدامات کے علاوہ حکومت اپنی توجہ ہیلتھ سروسز کو بہتر بنانے کیلئے آئی سی ٹی سلوشنز کی طرف مرکوز کر رہی ہے۔ امید ہے صوبائی حکومتیں ان مقاصد کے حصول کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔

شعبہ تعلیم

حماد اظہر نے کہا کہ یکساں نصاب کی تیاری، معیاری نظام امتحانات وضع کرنے، سمارٹ سکولوں کے قیام اور مدرسوں کی قومی دھارے میں شمولیت کے ذریعے تعلیمی نظام میں بہتری لائی جائے گی جس کے منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کر دیئے گئے ہیں۔ ان اصلاحات کیلئے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ مزید برآں ہائیر ایجوکیشن حکومت کے ترجیحی شعبہ جات میں سے ایک ہے۔ 21ویں صدی کے کوالٹی ایجوکیشن چیلنجز پر پورا اترنے کیلئے تحقیق اور دیگر جدید شعبہ جات مثلاً آرٹیفیشل انٹیلیجنس، روبوٹکس، آٹومیشن اور سپیس ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تحقیق اور ترقی کیلئے کام کیا جا سکے۔ لہٰذا تعلیم کے شعبے میں اس جدت اور بہتری کے حصول کیلئے 30 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی

انہوں نے کہا کہ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز اور نالج اکانومی کے اقدات کو فروغ دینے کیلئے محققین اور تحقیقی اداروں کی صلاحیتوں اور گنجائش کو بڑھانا اشد ضروری ہے۔ مزید برآں ای۔گورننس اور آئی ٹی کی بنیاد پر چلنے والی سروسز اور جی فائیو سیلولر سروسز کے آغاز پر حکومت کی توجہ ہے۔ ان شعبوں میں پراجیکٹس کیلئے 20 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر کے تحت کیمیکل، الیکٹرونکس، پری سیژن ایگری کلچر (Precision Agriculture) کے منصوبوں پر عملدرآمد کیا جائے گا اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا صنعت کے ساتھ رابطہ مضبوط کیا جائے گا۔

موسمیاتی تبدیلی

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالہ سے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر اور ماحول پر ظاہر ہونے والے اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان بھی اپنے آپ کو تیار کر رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے پاکستان پر بھی بہت سے اثرات ہیں جیسے غیر موسمی بارشیں، فصلوں کے پیداواری رجحان میں کمی اور سیلابوں کی تباہ کاریاں، اس سال موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے سے متعلق اقدامات کیلئے 6 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔

خصوصی علاقہ جات کیلئے گرانٹس

خصوصی علاقہ جات کے حوالہ سے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں بجٹ کے تحت مختص رقوم کے علاوہ حکومت نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں منصوبہ جات کیلئے 40 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز رکھے ہیں۔ علاوہ ازیں خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں مختلف پراجیکٹس کیلئے 48 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔

پائیدار ترقی کے اہداف

پائیدار ترقی کے اہداف کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت ترقیاتی بجٹ میں 24 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

خوراک و زراعت

خوراک و زراعت کے شعبہ کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ تحفظ خوراک اور زراعت کے فروغ کیلئے ترقیاتی منصوبوں پر 12 ارب روپے کی رقم خرچ کی جائے گی۔

ضم شدہ علاقہ جات

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں TDPs کے انتظام و انصرام کیلئے 20 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے جبکہ افغانستان کی بحالی میں معاونت کیلئے 2 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

ٹیکسوں سے متعلق تجاویز

وفاقی وزیر صنعت نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد ہے جو ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ معاشی طاقت کا یہ اہم اشاریہ پچھلے 20سال سے اسی جگہ کھڑا ہے۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہم نے ایک اصلاحاتی عمل شروع کیا تھا جس کے درج ذیل نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

معاشی ترقی کا درآمد کی بنیاد پر انحصار اب اندرونی ذرائع سے حاصل کردہ آمدن کی ترقی پر تبدیل ہو گیا ہے۔

تاریخی ریفنڈز ادا کیے گئے ہیں جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 119فیصد زیادہ ہیں۔ پاکستان کی محدود ٹیکس بیس کو ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لا کر اور 6 ہزار 616 ریٹیل آؤٹ لیٹس پر پوائنٹ آف سیل کی کامیاب تنصیب کے ذریعے مزید وسیع کیا گیا ہے جسے اس سال دسمبر تک 15 ہزار تک لے جانے کی کوشش ہے۔ کورونا کی وجہ سے عام دکانداروں کا کاروبار متاثر ہوا ہم نے پوائنٹ آف سیل پر سیلز ٹیکس کی شرح 14 فیصد سے مزید کم کر کے 12 فیصد کرنے کی تجویز دی جس سے عام افراد اور دکانداروں کو کاروبار میں مدد ملے گی اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں آسانی ہو گی۔

کورونا کی وجہ سے ہوٹل کی صنعت بہت متاثر ہوئی ہے، اس صنعت پر کم از کم ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کی تجویز د ی ہے یہ چھوٹ اپریل سے ستمبر تک چھ ماہ کے لیے دی جائے گی۔

افراد و تنخواہ دار طبقے کی سہولت کے لیے گوشوارہ کی موبائل اپیلیکیشن متعارف کروائی گئی ہے جس سے انکم ٹیکس گوشواروں میں 37 فیصد اضافہ ہوا، ٹیکس جمع کروانے کا ایک خودکار نظام متعارف کروایا گیا۔

سمگلنگ اور قانونی عملدرآمد کی ایک کامیاب مہم چلائی گئی جس سے (Seizures) میں 19 سے 30 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا سے قبل کے عرصے میں محصولات اکٹھا کرنے کی شرح بھی قابل تعریف رہی ہے۔ ڈومیسٹک ٹیکسز میں 27 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا، اس کے ساتھ ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کے لئے ہم نے غیرضروری درآمدات کا خاتمہ کیا۔

اسی وجہ سے مالی سال 2020ء کے لئے ایف بی آر ریونیو ٹارگٹ جو کہ 5503 ارب روپے تھا، کم کر کے 4801 ارب کیا گیا۔ بعدازاں کورونا کی وباء نے نہ صرف پاکستان بلکہ تمام دنیا کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا۔

کورونا کی وباء کے بعد لاک ڈاؤن اور معاشی سرگرمیوں کے کم ہونے کے باعث معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا اور بے روزگاری اور معاشی سست روی سے بچنے کے لئے وزیراعظم عمران خان نے 1200ارب روپے کے امدادی پیکج کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے باعث محصولات اکٹھا کرنے میں دشواری اور کمی کا سامنا کرنا پڑا جس کا تخمینہ تقریباً 900 ارب روپے ہے، کورونا کے باعث ایف بی آر کے ٹارگٹ میں کمی کی گئی اور اب یہ ٹارگٹ 3900 ارب روپے پر مقرر کیا گیا ہے۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اسی دوران چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کے لئے ایک فکسڈ مراعات کا پیکج متعارف کروایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تعمیراتی سیکٹر کے لئے ایک تاریخی پیکج بھی متعارف کروایاگیا۔ اس پیکج کے بروقت اطلاق سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ دیہاڑی دار مزدور کے روزگار کا تحفظ، معاشی ترقی کی ترویج اور غیرمراعات یافتہ طبقے کو نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت کم قیمت گھر فراہم کرے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے ایسی پالیسیاں تجویز کی ہیں جس سے معیشت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بالآخر جب معیشت عوامی تکلیف کو کم کرنے اور مطلوبہ عمومی فنانسز پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، پھر یہ مالی استحکام کی طرف جائے گی۔ بجٹ 2020-21 کاروبار کو ناکامی سے بچانے اور غریب عوام کو مشکلات سے نکانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، لہٰذا ہم ایسا بجٹ پیش کر رہے ہیں جسے ”ریلیف بجٹ“ کہا جا سکتا ہے، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔

وزیر صنعت نے کسٹمز ایکٹ 1969 کے حوالے سے کہا کہ ایکسپورٹ ریبیٹ (export rebate) کو بغیر کسی انسانی مداخلت کے ایکسپورٹر کے بینک اکاؤنٹ میں براہ راست منتقلی کرنے کو خودکار بنایا جا رہا ہے۔ ریبیٹ سکیمز تقریباً ایک دہائی کے بعد تبدیل کی جارہی ہیں اور ریبیٹ کلیمز کو آسان تر بنایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے ڈیوٹی فری خام مال کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ سال اس حکومت نے کسٹم ٹیرف کی اصلاحات کی جامع مشرق کا آغاز کیا اور خام مال پر مشتمل 1600سے زیادہ ٹیرف لائنوں کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ کر دیا گیا۔ صنعتی شعبے کی لگائی جانے والی لاگت کو کم کرنے کے لئے یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ خام مال بھی مکمل طور پر تمام کسٹم ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ان اشیاء کی فہرست میں کیمیکلز، لیدر، ٹیکسٹائل، ربڑ، کھاد میں استعمال ہونے والا خام مال شامل ہے۔ ان ٹیرف لائنوں میں قریباَ 20 ہزار اشیاء شامل ہیں جو کل درآمدات کا 20 فیصد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خام مال اور ثانوی اشیاء پر مشتمل 200 ٹیرف لائنز پر عائد کسٹم ڈیوٹی کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ ان اشیاء کی فہرست میں بلیجنگ، ربڑ، گھریلو اشیاء کا خام مال شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی انجینئرنگ کے شعبے کی حوصلہ افزائی کے لئے ہاٹ رولڈ کوائلز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو 12.5فیصد سے کم کر کے 6 فیصد پر لانے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے سٹیل پائپ، انڈر گراؤنڈ ٹینک، بوائلر کی صنعت کو فروغ ملے گا۔

وفاقی وزیر نے اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کے لئے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مختلف اشیاء پر prohibitive ریگولیٹری ڈیوٹی عائد تھی۔ اگرچہ اس پالیسی سے درآمدات کو کم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی لیکن ان میں سے کچھ چیزیں افغانستان منتقل ہوئیں اور بعدازاں اسمگلنگ کے ذریعے واپس پاکستان آ گئیں۔ یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ مختلف اشیاء مثلاً کپڑے، سینٹر ویئر، الیکٹروڈز، کمبلوں، پیڈلاکس وغیرہ کو اسمگلنگ سے بچانے کے لئے ان پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو کم کیا جائے تا کہ اس بناء پر ضائع ہونے والے محصولات کو حاصل کیا جا سکے۔

کورونا اور کینسر کٹس پر درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکسز ختم

انہوں نے کہا کہ معاشرے کے غریب طبقے کے لئے مدد کے لئے پاکستان کی غریب عوام کی صحت سے متعلقہ اخراجات کو کم کرنے کے لئے کورونا وائرس اور کینسر کی ڈائیگناسٹک کٹس پر عائد تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو ختم کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ ایسے ہی جنیاتی مسائل میں مبتلا بچوں کے لئے خصوصی فوڈ سپلیمنٹس (پرہیزی غذا) کو تمام درآمدی مرحلے پر تمام ڈیوٹیز اور ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز دی جا رہی ہے تا کہ ان کی قیمت کو کم کیا جا سکے۔

سپلیمنٹری فوڈ کے خام مال پر ٹیکس ختم

سپلیمنٹری فوڈ بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال پر عائد کسٹم ڈیوٹیز سے استثنیٰ کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ بچوں میں غذائیت کی کمی اور اس کے نتیجے میں نشوونما کا رکنا ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بچوں اور حاملہ خواتین کے لئے سپلیمنٹری فوڈ اب پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے تحت تیار کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کے لئے ان سپلیمنٹری فوڈز میں استعمال ہونے والے خام مال کو کسٹم ڈیوٹیز سے مستثنی قرار دینے کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کسٹم اتھاارٹی کے اختیارات میں کمی کے حوالے سے کہا کہ سمگلنگ کی سزاؤں کو عقلی اور جامع بنانے کے لئے کم سے کم سزا کے قانون کو متعارف کروانے کی تجویز ہے تا کہ کسٹم حکام اپنی مرضی سے سمگلنگ میں ملوث کسی شخص کو چھوڑ نہ سکیں۔

ایک لاکھ کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط لاگو

سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے حوالے سے تجاویز پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے ریلیف اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ ٹیکس بیس کو بڑھانے کے لئے فنانس ایکٹ 2019 میں قومی شناختی کارڈ کی شرط متعارف کروائی گئی تا کہ ان افراد کو جو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں، انہیں ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے۔ تاہم عوام کی سہولت کے لئے عام خریدار کے لئے بغیر شناختی کارڈ خریداری کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔

خصوصی پرہیزی غذا کی طبی مقاصد کے لئے درآمد پر استثنیٰ کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز کی درخواست پر ایسے بچوں کے لئے جو وراثتی میٹابولک سینڈ روم میں مبتلا ہیں اور ان کا جسم خوراک کو ایک عام بچے کے جسم کی طرح پراسس نہیں کر سکتا، اس غذا کو خصوصی طبق مقاصد کے لئے درآمد کرنے پر استثنیٰ کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کے چھٹے شیڈول میں ایک نیا سیریل صرف درآمد پر استثنیٰ کے لئے شامل کیا جا رہا ہے۔

کورونا سے متعلق طبی سامان پر ٹیکس استثنیٰ میں تین ماہ توسیع

وفاقی وزیر نے کہا کہ کووڈ۔19 سے متعلقہ صحت کے سازوسامان کی درآمد پر استثنیٰ میں توسیع کی جا رہی ہے، وفاقی حکومت نے صحت سے متعلقہ سازوسامان کی درآمد اور بعد ازاں فراہمی پر 20 مارچ 2020ء کو جاری کئے جانے والے ایس آر او 237 کے ذریعے تین ماہ کا استثنیٰ فراہم کیا۔ کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور وزارت صحت کی سفارشات کے پیش نظر استثنیٰ میں مزید تین ماہ کے توسیع کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے ضابطگیوں کو دور کرنے اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے گیارہویں شیڈول کو بہتر کرنے کے لئے سیلز ٹیکس رجیم کے مؤثر اطلاق کیلئے یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ گیارہواں شیڈول تبدیل کیا جائے تاکہ غیر رجسٹرڈ یا نان ایکٹو ٹیکس پیئر (Non Active Taxpayer) سے ٹیکس کی وصولی یکمشت کی جا سکے۔ اس سے ملک میں ٹیکس فائل کرنے کے رجحان کو فروغ ملے گا۔

سیگریٹ، سگارز پر ٹیکس میں اضافہ

صحت عامہ کیلئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ درآمدی سگریٹس اور تمباکو کے متبادل اور الیکٹرانک سگریٹس پر ایف ای ڈی کی شرح میں اضافہ کیا جا رہا ہے، درآمدی سگریٹ، بیڑی، سگارز و چھوٹے سگارز اور تمباکو کی دیگر اشیاء پر عائد ایف ای ڈی کو عالمی ادارہ صحت کے معیارات کے مطابق 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح تمباکو کے متبادل اور ای سگریٹس کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔ فلٹر راڈز پر عائد ایف ای ڈی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ فلٹر راڈ سگریٹ کی تیاری میں ایک بنیادی چیز ہے۔ فلٹر راڈ پر ایف ای ڈی  کی موجودہ شرح 0.75 روپے فی فلٹر ہے۔ تمباکو نوشی میں کمی اور ٹیکس مینجمنٹ کی نگرانی اور اس کے اطلاق کو بڑھانے کیلئے یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ موجودہ شرح کو بڑھا کر ایک روپے فی کلو گرام کیا جائے۔

کولڈ ڈرنکس پر ڈیوٹی میں اضافہ

انہوں نے کہا کہ کیفین پر مشتمل مشروبات صحت کیلئے خطرہ ہیں، اس وجہ سے ان کے استعمال میں کمی لانے کیلئے درآمد اور مقامی فراہمی، دونوں جگہ ایف ای ڈی  کو 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔ یہ قابل توجہ ہے کہ ان ڈرنکس پر پہلے ہی 13 فیصد ایف ای ڈی نافذ ہے۔

ڈبل کیبن پک اپ پر ٹیکس

حماد اظہر نے ڈبل کیبن پک اَپ پر ایف ای ڈی کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقامی اور درآمدی گاڑیوں اور ایس یو ویز  پر ایف ای ڈی کا سٹرکچر  پہلے سے ہی موجود ہے۔ ڈبل کیبن پک اپ جس کا تعین فی الوقت اشیاء کی نقل و حرکت کیلئے استعمال ہونے والی گاڑی کے طور پر کیا جاتا ہے جبکہ اس کا استعمال ملک کے خوشحال طبقے میں بطور سٹیٹس سمبل کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے بھی یکساں قیمت والی دوسری گاڑیوں کے مطابق ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔

پوٹاشیم کلوریٹ پر ٹیکس میں اضافہ

انہوں نے کہا کہ پوٹاشیم کلوریٹ کے ریٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے، پوٹاشیم کلوریٹ کی درآمد اور مقامی فراہمی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ 70 روپے فی کلوگرام بھی اضافی وصول کیا جاتا ہے۔ ماچس بنانے والوں کی صنعت کی سفارش پر یہ شرح 70 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 80 روپے فی کلوگرام کیا جا رہا ہے۔ یہ شرح وزارت دفاعی پیداوار کے زیر نگرانی اداروں کی جانب سے کی جانے والی درآمد اور ان کی فراہمی پر لاگو نہیں ہو گی۔

وفاقی وزیر صنعت نے کہا کہ ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کیلئے درج ذیل اقدامات تجویز کئے جا رہے ہیں۔

گذشتہ دو سال سے ایف بی آر نے بڑے ریٹیلرز کیلئے کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کرایا ہے۔ ایسے ریٹیلرز کی تمام فروخت آن لائن نظام کے تحت ایف بی آر کے ساتھ منسلک ہے۔ موجودہ قانون میں ان افراد پر سیلز ٹیکس کی شرح 14 فیصد ہے جسے کورونا وباء کی وجہ سے 12 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض کاروبار خام مال میں سیکٹر کی اوسط Wastage سے زیادہ Wastage دکھا کر کم سیلز ٹیکس دیتے ہیں۔ اس امر کی حوصلہ شکنی کیلئے مختلف کاروباروں کیلئے Wastage کی حدود مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

ٹیکس بیس کے دائرہ کار میں پالیسی کے اقدامات کے ذریعے توسیع کیلئے شق 73 میں ترمیم کی گئی تاکہ یہ صرف مینوفیکچررز کو پابند کر دے کہ وہ کسی بھی مالی سال میں غیر رجسٹرڈ شدہ فرد کو 100 ملین روپے تک کی اشیاء فراہم کر سکتے ہیں۔ اب یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ تمام رجسٹرڈ سپلائرز کو بھی درج بالا حد کا پابند کیا جائے۔

سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کا بارہواں شیڈول درآمد کے وقت تین فیصد کے حساب سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس وصول کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے لیکن خام مال اور ثانوی اشیاء کی صورت میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس صرف اس وقت دستیاب ہے جب کسٹم ڈیوٹی 16 فیصد سے کم ہو۔ اس شق نے مینوفیچکررز کیلئے مشکلات پیدا کی ہیں۔ چنانچہ یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ زبان کو سادہ بنایا جائے اور خام مال اور ثانوی اشیاء اگر اپنے کارخانے کیلئے استعمال ہوں تو ان پر ٹیکس نہ عائد کیا جائے۔

سیمنٹ سیکٹر

سیمنٹ سیکٹر پر پچھلے سال فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 1.50 روپے فی کلو سے بڑھا کر 2 روپے فی کلو کیا گیا تھا۔ سیمنٹ کی پیداوار میں حالیہ کمی کے پیش نظر اس کو 2.00 روپے سے کم کرکے 1.75 روپے فی کلو کرنے کی تجویز ہے۔

موبائل فونز

حماد اظہر نے کہا کہ موبائل فون پر سیلز ٹیکس ایکٹ 2014ء کے تحت نویں شیڈول کو سیلز ٹیکس ایکٹ میں شامل کیا گیا تھا، اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ سے منظور ہونے والی موبائل فون پالیسی کے مطابق پاکستان میں بنائے جانے والے فونز پر سیلز ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔

کاروباری آسانی کیلئے تجاویز

کاروبار کرنے میں آسانی کی تجاویز کے حوالے سے وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ ود ہولڈنگ رجیم کو کو آسان بنانے کے لئے یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ 9 ود ہولڈنگ شقوں کو حذف کیا جائے اور اس میں شادی ہالوں اور تعلیمی اداروں میں ٹیکس گزار والدین کے بچوں کی فیس پر عائد ٹیکس کو ختم کیا جا رہا ہے۔

غیر رہائشیوں پر 30 فیصد کی موجودہ شرح بہت زیادہ ہے لہذا بین الاقوامی معیار کے مطابق اسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اقدامات سی پیک منصوبوں کی تعمیل میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

درآمدات پر ٹیکس میں کمی کی جا رہی ہے، کمرشل امپورٹرز اور مینو فیکچرر کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے کیپیٹل گڈز کی امپورٹ میں ٹیکس کے بگاڑ سے بچنے کے لئے محصولات کے مزید وصولی اور چھوٹے اور درمیانے مینو فیکچرر کی سہولت کے لئے ایک بنیادی تبدیلی کی تجویز ہے۔ اس تجویز کے تحت درآمدات پر انکم ٹیکس کی شرح کو خام مال پر 5.5 سے کم کر کے 2 فیصد اور مشینری پر ٹیکس 5.5 سے کم کر کے 1 فیصد کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ اس شق سے منسلک ایگزیمپشن سرٹیفکیٹ کا نظام بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اخراجات کی نقد ادائیگیوں کی حد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

کاروبار میں سہولت اور کاروبار کی لاگت میں کمی کرنے کے لئے سیکشن 21 (1) کی موجودہ حد کو 10 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کاروبار میں ایک اکاؤنٹ ہیڈ میں حد کو موجودہ پچاس ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح کاروباری افراد کی سہولت کے لئے تنخواہوں اور اجرت دینے کے لئے نقد رقم کی حد کو 15 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کیا جا رہا ہے۔

بیرونی محصولات کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ تجویز ہے کہ ایک سال میں بیرونی ترسیلات زرکو بینک نکلوانے اور دوسرے بینک میں منتقل کرنے پر کسی قسم کا ٹیکس نہ لیا جائے۔ سمندر پار پاکستانیز سیونگ بلز میں افراد کی جانب سے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب SCRA کی طرز پر قرضے کا ایک انسٹرومنٹ جاری کیا جا رہا ہے۔ یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ ایسے NRAR اکاؤنٹس کو ٹیکس سے استثنیٰ فراہم کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here