مالی سال 2019-20ء: خراب عالمی معیشت کے باوجود پاکستان کی برآمدات میں 3.6 فیصد اضافہ، اقتصادی سروے

223
exports

اسلام آباد: رواں مالی سال 2019-20ء کے دوران عالمی خراب معاشی حالات کے باوجود پاکستان کی برآمدات میں 3.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، مالی سال کے دوران برآمدات کا مجموعی حجم 15.6 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے دوران 15.1 ارب ڈالر تھا۔

جمعرات کو وفاقی حکومت کی جانب سے جاری اقتصادی جائزہ 2019-20ء کے مطابق پاکستان کی برآمدات مشکل عالمی معاشی حالات کے باوجود اپنے بیشتر حریفوں کی نسبت بہتر رہی، مالی سال 2020ء کے جولائی تا فروری برآمدات 15.6 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اس عرصہ میں 15.1 ارب ڈالر تھیں۔ اس میں 3.6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مالی سال 2020ء کے جولائی تا اپریل کے دوران برآمدات 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے اس عرصہ میں 19.2 ارب ڈالر تھیں جس میں 3.9 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ کووڈ 19 کی وجہ سے اوورسیز مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات کی گرتی ہوئی مانگ کے ساتھ موجودہ آرڈرز کو پورا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سالانہ بنیاد پر برآمدات اپریل کے ماہ میں 54.2 فیصد کم ہو کر 957 ملین ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اس عرصہ میں 2089 ارب ڈالر تھی۔ گروپ کے لحاظ سے برآمدات کے جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2020ء کے جولائی تا اپریل میں فوڈ گروپ میں 1.9 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ٹیکسٹائل گروپ 2.8 فیصد پٹرولیم گروپ میں 40.4 فیصد اور دیگر مینوفیکچرز گروپ میں 8.3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

مالی سال 2020ء کے جولائی تا اپریل میں درآمدات 38 بلین امریکی ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ سال کے مماثل عرصے میں 45.4 ملین ڈالر رہیں جس میں 16.2 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ ڈپرس انڈسٹریل مال کی وجہ سے درآمدات کی کوانٹم میں کمی ہوئی جس کو گرتی ہوئی بین الاقوامی اجناس کی قیمتوں نے مزید سہارا دیا جس میں خاص کر خام تیل، ایل این جی، کوئلہ اور دھات شامل ہیں۔

مالی سال 2020ء کے جولائی تا اپریل کے عرصے میں گروپ کے لحاظ سے پٹرولیم، ٹرانسپورٹ، زرعی، خوراک، ٹیکسٹائل، مشینری دھات سب میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مارکیٹ بیس ایکسچینج ریٹ سسٹم کے نفاذ کے ساتھ ساتھ قبل از اپنائے گئے۔

مالی سال 2020ء مینجمنٹ پالیسیوں کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 71 فیصد کم ہو کر 3.3 بلین امریکی (جی ڈی پی کا 1.3 فیصد) رہیں جبکہ گزشتہ سال یہ 11.4 بلین امریکی ڈالر تھیں (جی ڈی پی کا 4.1 فیصد) بہتری بنیادی طور پر درآمدات سے ہوئی ہے۔

معاشی استحکام کے اقدامات تیل کی قیمتوں میں کمی اور توانائی کے شعبے کو فرنس آئل بیس سے ہٹانا، درآمدات میں کمی کی وجہ بنی جو 16.9 فیصد کم رہیں۔ مالی سال 2020ء میں جولائی تا اپریل کے عرصے میں تجارتی خسارہ 29.5 فیصد کمی کے ساتھ 16.4 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں 23.3 ارب ڈالر تھا۔

مالی سال 2020ء میں جولائی تا اپریل کے دوران خدمات میں 7.6 فیصد کمی واقع ہوئی جو 4.7 ارب ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال یہ 5.1 ارب ڈالر تھا۔

وبائی مرض کووڈ 19 کی وجہ عالمی معیشت کو لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور دنیا بھر میں سفر اور سیاحت پر پابندی عائد ہے۔ مالی سال 2020ء میں جولائی تا اپریل کے دوران خدمات کی درآمد میں 18.9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور یہ گزشتہ سال کے 9.0 ارب ڈالر کے مقابلے میں 7.3 ارب ڈالر رہے۔

مالی سال 2020ء کے جولائی تا اپریل میں خدمات میں تجارت کا توازن 33.4 فیصد کم ہو کر 2.6 ارب ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.9 ارب ڈالر تھیں۔ مالی سال 2020ء کے جولائی تا اپریل کے عرصے میں انکم اکاؤنٹ بیلنس میں 4.8 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 4.8 ارب ڈالر تک پہنچا۔

مالی سال 2020ء کے جولائی تا اپریل کے دوران ترسیلات زر میں 5.5 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور ترسیلات زر کا حجم 18.8 ارب ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال یہ 17.8 ارب ڈالر رہا۔

مالی سال 2020ء کے جولائی تا اپریل کے عرصہ میں خالص بیرونی براہ راست سرمایہ کاری 126.8 فیصد اضافہ کے ساتھ 2.3 ارب ڈالر تک پہنچا جبکہ خالص FPI کا بیرونی اخراج 0.42 ارب ڈالر تک پہنچا۔

وباء کی وجہ سے تمام بڑی اسٹاک مارکیٹ میں مندی رہی اور بہت کیپیٹل آؤٹ فلو کا خطرہ ہے۔ اپریل 2020ء کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 18.7 بلین ڈالر رہے۔ مرکزی بینک (SBP) کے پاس موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر 12.3 بلین ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 6.4 بلین ڈالر تھے۔ مالی سال 2020ء کے جولائی تا اپریل کے دوران اوسط شرح مبادلہ ڈالر کے مقابلے میں 157.1 روپے رہی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here